ایم کیوایم کسمپرسی کی حالت میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے، فیصل سبزواری

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کسمپرسی کی حالت میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان کے تمام تنظیمی دفاتر تاحال سیل ہیں اور ایم کیو ایم کے 150 سے زائد کارکنان لاپتہ ہیں۔ ایم کیوایم کی ہزاروں پتنگیں ضبط کرلی گئیں ہیں اور ہمارے پرچم اور بینرز ہٹائے جا رہے ہیں۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ہمیں پرچم لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور انتظامیہ 25 جولائی کو کرفیو لگاناچاہتی ہے۔ عوام ووٹ کے ذریعے احتجاج کا طریقہ اختیار کریں۔ ہمارے کارکنان کو دھمکایا جارہا ہے اور نگراں حکومت، الیکشن کمیشن کرفیو لگا کر الیکشن کرانا چاہتے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اشتہارات چلانے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور ہمارے پاس انتخابات  میں حصہ لینے کے پیسے نہیں ہیں۔ ہمارے کارکنان کو دھمکایا جارہا ہے اور پورے سندھ میں بینرز لگے ہیں کراچی میں پابندی ہیں۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے اربوں روپے کھا گئی ہے اور اس ملک میں نوکریاں بیچو، خزانہ ہڑپ جاؤ کوئی نہیں پوچھتا۔ حقدار کو نوکری دینے پر جاوید حنیف کو گرفتار کرلیا گیا اور ہمارے امیدوار جاوید حنیف کو رہا کیا جائے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ملک بھر کےسرمایہ دار کراچی سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور پی پی کے وزرا کے بھانچے بھتیجے پولیس میں اعلیٰ عہدے پر ہیں۔ کراچی میں کوئی بھی شہر کا پولیس افسر تعینات نہیں ہے اور ملازمین کے گھرخالی کرانا نگراں حکومت کام نہیں ہے۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ ناانصافی بند کریں اور نگراں حکومت پیپلزپارٹی پارٹ ٹو نہ بنے۔ 10 سال میں پیپلز پارٹی نے کراچی کے پانی میں ایک قطرہ نہیں بڑھایا اور الیکشن سے پہلے کراچی والوں کو سزادی جا رہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ہم کراچی کے بیٹے ہیں یہیں کھڑے رہیں گے اور یہ اعلان کرنے والے الیکشن کے بعد فلائٹ لیکر چلے جائیں گے۔ انشاءاللہ ایم کیوایم 25 جولائی کو کرارا جواب دے گی اور جہاں سے ہم نہیں جیت پائے تھے ان نشستوں پر جی ڈی اے سے بات ہوئی ہے۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے کا اپنا ایجنڈا اپنا منشور ہوگا اور جیتنے والے حلقوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوگی۔ انتخابات کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے الیکشن پر دنیا بھر کی نظریں ہیں اور مخالفین کی خواہش ہے کہ ایم کیوایم الیکشن کابائیکاٹ کرے۔