جناح اسپتال سے گرفتار جعلی لیڈی ڈاکٹر سے متعلق انکشافات

کراچی: جناح اسپتال سےگرفتارجعلی لیڈی ڈاکٹرسےمتعلق انکشافات ہوئے ہیں۔ تفتیش کے دوران جعلی لیڈی ڈاکٹر کے خلاف شواہد مل گئے۔

تفتیشی افسر کے مطابق جعلی ڈاکٹر2سال سےسوشل میڈیاپر”کلینک”چلارہی تھی، ملزمہ کامعروف گائناکالوجسٹ سمیت کئی ڈاکٹرزسےگہراتعلق ہے۔

پولیس کی طلبی کےباوجودلیڈی ڈاکٹرسمیت3ملازمین بیان دینےنہیں آئے، وومن تھانے کی ایس آئی او لیڈی سب انسپکٹر شمع نے ڈاکٹرثمرین،اسٹاف افسراورسیکیورٹی اہلکارکوبیان کیلئےنوٹس بھیجاتھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اصلی اور سرکاری ڈاکٹرز واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے رابطوں میں جعلساز خاتون کو ’ڈاکٹر صاحب‘ لکھ کر مخاطب کرتے تھے۔

موبائل فونز کے ریکارڈ کے مطابق یہ جعلساز خاتون بیشتر ڈاکٹرز کو میسج کرکے مختلف بیماریاں یا علامتیں لکھ کر بھیجتی تھی جس کے جواب میں ڈاکٹرز اسے نسخہ میسیج کردیتے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق لکھی گئی دوائیاں وہ اپنے مختلف مریضوں کو ایس ایم ایس یا واٹس ایپ کے ذریعے فارورڈ کر دیتی تھی۔

واضح رہے کہ 13 مارچ کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے گائنی وارڈ نمبر 1 میں ایک سال سے مریضوں کو دھوکا دینے والی جعل ساز گائنی ڈاکٹر کو وومن پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

جس کی شناخت ملزمہ عائشہ زوجہ عبدالکریم کے نام سے ہوئی جو کہ میٹرک پاس ہے اور لیڈی ہیلتھ وزیٹر یا دائی ہونے کا کوئی سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہے۔