بانیِ پاکستان ، بابائے قوم ، ملت کے پاسبان محمد علی جناح

Quaid e Azam

تحریر : عنبر حسین سید

شیکسپیر نے کہا ہے “کچھ لو گ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے کاموں سے خود کو عظیم بنا لیتے ہیں” اگر یہ بات قائد اعظم محمد علی جناح کے لیے کہی جائے تو غلط نہیں ہوگی ۔ قائد اعظم کی عظیم شخصیت اور خدمات کے بارے میں لکھنے سے قلم قاصر ہے ۔

قائد اعظم ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے ۔آپکی شخصیت سے مسلمان اورہندوہی نہیں بلکہ انگریز تک متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے اس ہی لیے انگریزوں نے آپ کو “سر “کا اور قوم نے “قائد اعظم “کا خطاب دیا ۔

قوم کی بقاء کے لیے فکر مند قائد اعظم نے اپنی سیاسی دور اندیشی ، فہم و فراست ،تدبر اور جہد مسلسل سے اگست1947میں ایک ایسی ریاست حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی جہاں مسلمانانِ ہندوستان اپنی مذہبی عبادات اوررسومات کو آزادی کے ساتھ ادا کر سکیں۔

یہ قائد اعظم کی دوراندیشی ہی تھی جس نے بھانپ لیا تھا کے اگر ہندوستان سے انگریز چلے بھی گئے تو مسلمان ہندوؤں کے زیرِ سایا آجائیں گے اور حالات جوں کے توں ہی رہیں گے کیونکہ ہندو اور مسلمان وہ قومیں تھیں جو برسوں ساتھ رہنے کے با وجود ایک دوسرے سے مختلف تھیں ، ان کی زبان ، مذہب ،طرزِ معاشرت ،ثقافت ،رہن سہن سب جدا تھا۔اس لیے قائد اعظم نے بہت جلد اس بات کو جان لیا تھا کے ہندوستان کے مسلمانوں کی بقاء اور وقار ایک علیحدہ ریاست میں ہے۔

آزادی کی جدوجہد تو طویل عرصے سے کی جا رہی تھی مگر قائد اعظم نے تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونکی ۔ قائد اعظم ایک بلند ہمت،صبر واستقلال کے پیکر مرد آہن تھے ۔ آپ نے جو ٹھانا وہ کر دیکھایا ۔ جدید اور اعلیٰ تعلیم سے آراستہ اس قائد نے مسلم لیگ میں اس وقت شمولیت اختیار کی جب یہ جماعت اپنا سیاسی اثر کھو چکی تھی ۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کی نظروں نے اس گوہرِ نایاب کو پہچان لیا تھا کے یہ ہی وہ انسان ہے جو قوم کی کشتی کو کنارے لگائے گا اور اس منتشر اور ناامید قوم کی امید بنے گا ۔

قائد اعظم 25 دسمبر 1876 کوکراچی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882ء میں کیا .1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انگلستان روانہ ہو گئے قائد اعظم نے 1896  میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آ گئے 1897 میں ممبئی میں وکالت کا آغاز کیا بابائے قوم کو 1900 میں ممبئی میں پریذیڈنسی مجسٹریٹ مقرر کردیا گیا ۔

 قائد اعظم 1906 میں ممبئی ہائی کورٹ سے ایڈووکیٹ کی حیثیت سے منسلک ہوئے سیاسی زندگی کا آغاز 1906میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا۔

بابائے قوم1913 میں جب مسلم لیگ میں شامل ہوئے  اور مسلمانو ں کی سیا سی بیداری اور تحریک آزادی کی نئی بنیاد ڈالی ۔ 1916 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔

قائد اعظم نے 1929 میں اپنے مشہور زمانہ چودہ نکات پیش کیے جن کا مقصدمسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا تھا ۔23مارچ 1940قراردادِ پاکستان پیش اور منظور ہوئی جس میں نئی مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران مسلم لیگ مضبوط ہوگئی جنگ کے بعد ہونے والے انتخابات میں قائد اعظم کی جماعت نے مسلمانوں کی مخصوص نشستوں پر بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کی ۔

علیحدہ سرزمین کی جدوجہد اور چاہت میں تیزی بڑھتی گئی اورقائد اعظم کی قیادت میں آخر کار مسلمان بے شمار قربانیوں کے بعد ایک ارض پاک حاصل کر نے میں کامیاب ہوئے۔

قیامِ پاکستان کے بعد کے پہاڑ جیسے مسائل کا سامنا اور مقابلہ  قائد اعظم نے ڈٹ کر کیا اور اس نوزائیدہ ریاست کو پاؤں پر کھڑا کر نے کے لیے دن رات محنت کی ۔

پاکستان کے قیام  کے صرف ایک سال بعد ہی قوم کے  یہ رہنما ، یہ رہبر ، یہ لیڈر  قائد اعظم 11ستمبر1948 کو انتقال کر گئے ایسا لگتا ہے جیسے یہ عظیم رہنما اور رہبر صرف مسلمانانِ ہندوستان کو ان کا کھویا ہوا تشخص اور ایک علیحدہ ریاست دلوانے ہی اس دنیا میں آیا تھا اور اس نے اپنا فرض ادا کیا اور دنیا سے منہ موڑ لیا ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔