پاپا آپ گندے ہیں

تحریر : عنبر حسین سید

پاپا کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر میں نے پانی کا گلاس بھراور اُن کو دے دیااُنھوں نے مسکرا کرمیری طرف دیکھا مگر میں چونکہ اُن سے خفا تھی اسلیئے اُنکی مسکراہٹ کا جواب مسکرا کر نہیں دیا بلکہ اپنے ہر انداز سے یہ بتا یا کہ میں اُن سے ناراض ہوں کیونکہ اُنھوں نے میری نئے موبائل فون کی فرمائش اب تک پوری نہیں کی تھی ۔

وہ پریشان لگ رہے تھے مگر میں سامنے صوفے پر جا کے لیٹ گئی اور ٹی وی دیکھنے لگی امی پاپا کے پاس آئیں اور ان سے باتیں کرنا شروع کر دیں ان دونوں کی سر گوشیوں سے ڈسٹرب ہوتے ہوئے میں نے ٹی وی کا والیم بڑھا کر انھیں احسا س دلا یا،مگر وہ باتوں میں اسقدر مگن تھے کہ میری طرف توجہ ہی نہیں دی جس پر میں نے ٹی وی کا ریمورٹ میز پر پٹخا اور وہاں سے یہ کہہ کر چل دی کہ اس گھر میں سکوں نہیں ہے ۔

دراصل میں تو بس یہ چاہتی تھی کہ اس وقت گھر میں کوئی بات ہو تو صر ف میری فرما ئش پوری کرنے کہ حوالے سے ہو اس کہ علاوہ مجھے ہر بات فالتو اور بلاوجہ کی لگ رہی تھی ۔

سکون مجھے بھی نہیں تھا میں دوبارہ وہاں آئی اور پانی پینے کی غر ض سے فریج کھولا تو امی کی آواز کان میں پڑی اس کو دلا دیں نہ نیا فون ورنہ اس ہی طرح یہ گھر کا ماحول خراب رکھے گی اس وقت مجھے امی بہت اچھی لگ رہی تھیں اور میں توجہ سے ان کی باتیں ایک  طرف ہو کر سننے لگی، اس پر پاپا نے کہا کہُ انکو مو بائل دلانے پر اعتراض نہیں اُنھیں اعتراض اس حرس پر ہے جو میں اپنی دوستوں سے کر رہی ہوں اُنکی دیکھا دیکھی مجھے آج نیا موبا ئل فون چاہیے کل کو کچھ اور چاہیے ہوگا  ۔

مجھے پاپا پر بہت غصہ آیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ پاپا مجھ سے پیار نہیں کرتے میرے پاپا بہت برے اور گندے ہیں میری دوست کے پاپا زیادہ اچھے ہیں جو اُس کی ہر فرمائش پوری کرتے ہیں اور اس کو ہر چیز دلا دیتے ہیں ، میں اپنا منہ بنا کر جاہی رہی تھی کہ امی کی پھر آواز آئی آپ بھی نہ دیر سویر آپ نے دلانا تو ہے پھر یہ بچوں سے ضد کیسی ؟ میں پھر ہماتنگوش ہوگئی ، پچھلی مرتبہ بھی جب لیپ ٹاپ چاہیے تھا آخر میں جیت بچوں کی ہی ہوئی اور آپ نے دلا دیا تھا آپ سے نہیں تو کس سے بولیں گے بچے اور کونسا کوئی ہوائی جہاز مانگ لیا ہے اس کو اور بیٹے دونوں کو دلادیں آپ نیا  فون یہ حرس نہیں ہے اس طرح اگر آپ نہیں دلائیں گے تو بچوں میں احساس کمتری پیدا ہوجائے گی اور وہ سوسائٹی  میں سروائو نہیں کر پائیں گے۔

ابھی امی پاپا کو قائل کر ہی رہیں تھی کہ پاپا نے امی کی بات کاٹتے ہوئے بو لا کہ ابھی نماز میں منصف صاحب ملے تھے واپس سعودیہ جا رہے ہیں کل، اور یہ کہہ کر چپ ہو گئے، امی نے فورًاپاپا   سےبولاکہ وہ تو ہمیشہ کے لیے واپس آگئے تھے ،کیا ہوا ایسا جو واپس جا رہیں اور ان کا تو بائے پاس ہوا ہے صحت کی ناسازی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے ان کو منع کر دیا ہے کہ اب وہ نہ جا ئیں ،کیو ں جا رہے ہیں ؟امی کے سوالات کے جواب میں پاپا نے ایک آہ بھری اور بتایا کہ میں نے بھی یہ ہی پوچھا تو انھوں نے بڑی عجیب بات کی ۔کہہ رہے ہیں کہ  40سال ملک سے باہر رہنے  کےبعد بھی اْن کی گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے عمر کاطویل حصہ غیروں کے ساتھ اجنبی دیس میں گزار نے کہ بعد جب گھر واپس آیا ہوں تو اپنے گھر والوں کیلیے غیر ہوچکا ہوں اپنا آپ گھر میں مہمان سالگتا ہے ، جوانی دیار غیر میں بسر ہوگئی ہے اب بڑھاپا بھی اُنہی کی نظر کر رہا ہوں ۔

 میرے بے حد اسرار پر انھوں نے بتا یا کہ بچوں کی خواہش ہے کہ اس لوکل اور چیپ علاقے کو چھوڑ کر جتنی بھی جمع پونجی ہے اسکو ملا کے کسی اچھے اور پوش علاقے میں گھر لیاجائے میں ان کو کیسے سمجھا ؤں اس گھر میں کیا ہے ،یہ گھر مجھے کتنا پیارا ہے جب پردیس میں ایک کمرے میں 12کے قریب لوگوں کر سا تھ رہتا تھا تو یہ گھر کتنا یاد آتا تھا کیسے بتاؤں ان کو ،اس گھر میں میرابچپن ہے، میرے والدین کی یادیں ہیں ، میری چاہت ہے مگر یہ سب ان کو فلمی باتیں لگتی ہیں اور ہاں شاید ہیں بھی فلمی باتیں آج کے دور میں لوگوں کو اپنے کتے بلی سے تو ما نوسیت ہو جاتی ہے مگر اپنے اجداد سے نہیں ، میں کہتا ہوں کے جتنے دن میں زندہ ہوں رہ لو یہاں پھر جہاں دل کر ے چلے جا نا ،یہاں مجھے سب جانتے ہیں میرے جنازے میں آجائیں 4 دن میرا سوگ منائیں گے مجھے یاد کر لیں گے اور میرے رب سے میری بخشش کی دعا بھی کریں گے ،مگر نہیں سنتے میں نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ تم لوگ چلے جاؤ مجھے یہاں ہی چھوڑ دو تو کہتے ہیں میں ان کی جگ ہنسائی کروانا چاہتا ہوں ۔

میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کیا کروں میں نے پوچھا ابھی پچھلے ہی ماہ تو آپ کے گھر میں تزئین و آرائش کا کام ہوا تھا اس کاکیا ؟تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ تو بچوں کی خواہش پر اُنکے کمروں میں ٹائلز ، نئے اے سی اور قالین ڈالوائے تھے اس کے بعد ایک ہفتے تک گھر کاماحول ٹھیک رہا مگر اب پھر وہ ہی رٹ لگی ہے کہ اس علاقے کو چھوڑ کر کہیں اور چلیں میں واقعی بہت تھک گیا ہوں اب ،  انسان دنیا سے لڑ سکتا ہے

گھر والوں سے نہیں کیونکہ ان کے ساتھ جذبات و احساسات کا ایک ایسا رشتہ ہو تاہے جو ہمیں جیتنے نہیں دیتا اور اگر مدمقابل ہماری اپنی اولاد ہو تو پھر تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک باہر تھا کماتا تھا میرے بچے میرے فون کا انتظار کرتے تھے آپس میں مجھ سے بات کرنے کیلیے لڑتے تھے پہلے میں بات کروں گا پہلے میں کی بحث سے میری روح تک کو سکون مل جاتا تھا، مگر اب جب بھی بات کرتے ہیں تو وہ بات کم بدتمیزی زیادہ ہوتی ہے ان کے ہر انداز اور بات سے ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے “پا پا آپ باہر ہی اچھے تھے ” ۔

میں نے پوچھا کہ آپکی بیگم کچھ نہیں بولتیں تو ایک سرد آہ بھر کر بولے ہاں بولتی ہیں ، میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کیا؟

تو روہنا سی آواز میں بولے کہ آپ بچوں کونہ روکا ٹوکا کریں ان کی شخصیت خراب ہو جائے گی بچے بڑے ہو رہے ہیں ان کی سائیکلوجی کو سمجھیں ، اب میں اس نیک بخت فیشن کی ماری کو کیسے بتا ؤں کے یہ روک ٹوک نہیں بچوں کی اصلاح ہے آذان کے وقت اگر میں ان کو ٹی وی کی آواز ہلکی کرنے کا کہوں یا رات رات بھر موبائل اور انٹر نیٹ کے استعمال سے منع کروں تو اس میں کہاں کوئی غلطی ہے دن بھر سونے اور رات بھر جاگنے سے منع کرنا اگر روک ٹوک ہے تو پھر اس میں کیا اچھائی ہے ۔

میں سارا دن اپنے کمرے میں اکیلا پڑا رہتا ہوں میرے بچے اس ہی وقت مجھ سے بات کر تے جب کو ئی فرمائش ہو ورنہ مجھ سے کتراتے ہوئے گزر جاتے ہیں انسان کی عزت اس کے اپنے ہاتھ ہوتی ہے اس ہی لیے میں واپس جا رہا ہوں اور میرے جسم میں جتنی طاقت ہے اورمیری جتنی زندگی ہے میں وہاں ہی گزاروں گا کیوں کے میں پاپا ہوں پیسے کمانے اور فرمائشیں پوری کر نے کی مشین ۔۔۔۔ یہ کہہ کر منصف صاحب چلے گئے اور مجھے ہزاروں سوالوں کے جھرمٹ میں چھوڑ گئے ۔

کیا واقعی پاپا صرف پیسے کمانے کی مشین ہوتے ہیں ؟ کیا واقعی پاپا کو گھر میں رہنے کا حق نہیں ہے ؟کیا پاپا صرف اے ٹی ایم مشین ہیں جس میں فرمائیشوں کا سکہ ڈال کر مطلوبہ چیز طلب کر لی جاتی ہے ، کیا واقعی پاپا جب زندگی کی دھوپ چھاؤں سے تھک کر کچھ دیر گھر کے سائے میں بیٹھنا چاہیں تو نہیں بیٹھ سکتے؟

اُف خدا ایسے کتنے ہی انگنت سوالات ہیں ۔ اگر ہم سوچیں تو ۔ایک باپ ساری عمر روزی روٹی کمانے اور اپنی اولاد کا مستقبل سنوارنے کیلیے اندرونِ ملک ور بیرونِ ملک سفر کرتا ہے ، کبھی دن کی ڈیوٹی تو کبھی رات کی شفٹ ، کبھی اورٹائم تو کبھی دوسرا کام ہر کام کرتاہے صرف اپنے گھر بار کے لیے مگر اس کی اُن قربانیوں اور محبتوں کو کوئی نہ دیکھتا اور نہ ہی اس کا اعتراف کیا جاتا مگر ہاں جہاں پاپا نے کبھی کوئی چیز لانے میں دیر کر دی یا فرمائش پوری نہیں کی توآرام سے کہہ دیا جا تا ہے کہ پاپا آپ اچھے نہیں آپ کو ہم سے محبت نہیں آپ کو کچھ پتانہیں ،آپ اولڈ فیشن ہووغیرہ وغیرہ جب کہ ایک بیٹے سے شوہر اور شوہر سے باپ تک کے سفر میں ایک آدمی صرف محبت اور پرواہ دیکھا رہا ہوتا ہے ۔

سردی گر می خزاں بہار کوئی بھی موسم ہو ،کوئی بھی تہوار ہو ، کوئی بھی خوشی یا غم ہو ، پاپا ایک فولادی دیوار کی طرح سامنے ڈٹے رہتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے سب کچھ کر گزرنے کیلیے تیار ہوتے ہیں ۔

یہ اس وقت ہر گھر کامسئلہ ہے صرف ایک گھر کا نہیں،ہر گھر میں اس ہی طرح کے ملتے جلتے مسئلے ہیں بچے کیوں نہیں سمجھتے کہ پاپاکی بھی کچھ مجبوریا ں ہوتی ہیں وہ اولاد کا اچھا برُا دیکھ کر فیصلہ کر تے ہیں کہ کیا چیز اُ ن کے لیے اچھی ہے اور کیا برُی ،کیا چیز ایسی ہے جو اُن کو فورًا مہیا کرنا ہیں اور کیا چیزیں ایسی ہیں کہ جنکے دینے میں ابھی وقت ہے ۔

یہ درست ہے کہ ہر فرمائش کوپورا کر نا پاپاکا فرض ہے مگر یہ سمجھنا بچوں کا فرض کہ ہے کہ آیا پاپاکی ایسی کیا مجبوری ہے جو وہ ابھی یہ فرمائش پوری نہیں کر پارہے اگر کسی چیزکو  لانے میں یا دلانے میں دیر ہوجائے تو اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاپا برے ہیں یا پیار نہیں کرتے بلکہ پاپا سمجھتے اور جانتے ہیں کہ کیا چیز آپ کے حق میں بہتر ہے اور کیا نہیں ۔

آپ جو یہ ناگواری کا اظہار کرتے ہیں، پیر پٹختے ہیں، سب پاپا کی سمجھ میں آتا ہے اسلئیے بچوں کیلیے بھی ضروری ہے وہ بھی سمجھیں حالات کو اور وقت کی نزاکت کو ۔ دن بھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر صرف ماں باپ سے محبت کا اظہار کرنے ،کمنٹس اور شیئر کرنے سے والدین کا حق ادا نہیں ہوتا بلکہ اُن کی بات سننے اور اُنکا حکم ماننے سے ہوتا ہے ۔