قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی

Senate-of-Pakistan

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 5932 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ آئندہ مالی سال  19۔2018 کا منظور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے 5  ہزار 247 ارب کے حجم کا آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور کرلیا ہے، قومی اسمبلی نے فنانس بل 19-2018 کی بھی منظوری دیدی ہے جب کہ وزیر خزانہ کی ٹیکس ایمنسٹی کی 2 نئی ترامیم بھی فنانس بل میں شامل ہیں۔

آئین کے تحت فنانس بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے منظوری کے بعد اسے ایوان صدر ارسال کیا جائے گا۔ صدر مملکت کی منظوری کے بعد یہ آئین کا حصہ بن جائے گا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں زیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےکہا کہ جو لوگ ڈالر اکاؤنٹ رکھتے ہیں ان کے لیے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا، نان ٹیکس فائلر ڈالر اکاؤنٹ نہیں رکھ سکیں گے اور اب 50 لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی خرید سکیں گے۔

وزیر خزانہ نےبتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں، اگر سمندر پار پاکستانی ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ بھیجیں گے تو ذرائع پوچھے جائیں گے، ایک کروڑ روپے سے زائد کے زرمبادلہ آئے تو ایف بی آر پوچھ گچھ کرے گا اور پیسے بھیجنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔

مفتاح اسماعیل نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بات کرتےہوئےکہا کہ بیرون ملک مقیم افراد پیسہ وطن لاکر2 فیصد ٹیکس ادا کرکے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بیرون ملک مقیم افراد پیسہ ڈکلیئر کرکے باہر رکھیں تو 5 فیصد ٹیکس ادا کرکے اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ جو بیرون ممالک میں غیرمنقولہ پراپرٹی ظاہر کرے وہ 3 فیصد ٹیکس دےکراسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مخصوص فلاحی اداروں کو ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، اس پر پیپلزپارٹی کی رہنما عذرا افضل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نہیں تمام فلاحی اداروں کو ٹیکس چھوٹ دیں۔

وزیر خزانہ نے عذرا افضل کے جواب میں کہا کہ ایف بی آر کو اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرےکس فلاحی ادارےکو ٹیکس چھوٹ ہو۔

پی پی رہنما شازیہ مری کا کہنا تھا کہ حکومت نے فنانس بل میں تمباکو پر لیوی لگاکر اب اسےختم کردیا ہے، تمباکو پر ٹیکس لگا کر اس کا استعمال کم کیا جائے۔