انسانیت کے لیےاپنی زندگی وقف کرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ

Dr-Ruth

انسانیت کی خدمت اورپاکستان میں جزام کے مرض کے خاتمے کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردینے والی روتھ فاؤ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ایک برس بیت گیا ۔

محبت ، خلوص ، پیار ،رواداری ،وفاداری ، حساسیت ،ہمدردی ایثار اور قربانی اپنی ذات کی نفی کر کے دوسروں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں ۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستانی مدر ٹریسا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کے 57 برس پاکستان میں انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے گزار دیئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام تک انھوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤکے دل میں پاکستان سے محبت کے دیئے جلتے تھے ۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ 1960 میں پاکستان آئیں اوراپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے نام کردی ۔یہ ڈاکٹر رتھ کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھاکہ 1996 میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ پاکستان سے کوڑھ کے مرض کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر نامی ان کی تنظیم کراچی سمیت ملک بھر میں جلد کی خطرناک بیماری  جزام کے خلاف مفت  علاج و معالجے کی  سہولیات  فراہم کر رہی ہے۔ڈاکٹر رتھ نے 1975 میں خیبرپختونخوا، 1976 میں بلوچستان اور 1984 میں گلگت بلتستان میں لیپریسی سینٹر کھولے۔

عظیم اور باہمت خاتون روتھ فاؤ نے جنگ کی تباہ کاریاں کے ساتھ اپنے اکلوتے بھائی کو مرتے بھی دیکھا۔جنگی مشکلات برداشت کرنے والی اس نڈر اور بہادرخاتون نے مغربی جرمنی میں شعبہ طب میں تعلیم مکمل کی اور اسی دوران ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری نامی تنظیم سے وابستہ ہوگئیں۔

اس کے بعد ’ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری ‘تنظیم نے انہیں اسائمنٹ پر بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا جہاں انہیں مدر ٹریسا سے ملاقات کرنا تھی تاہم بھارت کی جانب سے ویزا کے اجرا میں سختی کی وجہ سے وہ بھارت نہ جاسکیں ،اس صورتحال میں ڈاکٹر رتھ فا ؤکو مشورہ دیا گیا کہ وہ پہلے پاکستان چلی جائیں اور وہاں سے بھارت کا ویزا حاصل کریں۔اسی لیے وہ اطالوی ائیرلائن سے کراچی آگئیں اور یہاں سے بھارت کے ویزا کے لئے اپلائی کیا۔

اس ہی  زمانے میں  جرمنی کی سماجی تنظیم ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری آئی آئی چندریگر روڈ پر سٹی اسٹیشن کے قریب چھونپڑ پٹی میں  چھوٹی سی ڈسپنسری میں کام کر رہی تھی۔

ڈاکٹر رتھ  فاؤکو ایک مرتبہ ڈسپنسری کا دورہ کرایا گیا تو وہاں کا منظر دیکھ کر ان سے نہ رہا گیا کیوں کہ ڈسپنسری میں کوڑھ کے مریضوں کا علاج صرف پٹیاں کر کے کیا جارہا تھا اس ہی وقت انھوں نے پاکستان میں رکنے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی تنظیم کو لکھا کہ بھارت کے بجائے ان کا اصل کام پاکستان میں ہے اور وہ یہیں خدمات انجام دینا چاہتی ہیں۔تنظیم کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد اس عظیم اور انسانیت سے محبت کرنے والی خاتون نے اپنا گھر ،خاندان اور ملک تک چھوڑ دیا اور ساری زندگی پاکستان میں انسانیت کی خدمت اور کوڑھ کے مرض کے خاتمے کے لئے وقف کردی۔

میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کے میڈیا منیجر نثار ملک کے مطابق صدر ضیاالحق نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کے پیش نظر انہیں پاکستانی شہریت جاری کی لیکن ڈاکٹر رتھ نے شہریت لینے سے انکار کردیا کیوں کہ وہ اپنی جرمن شناخت کو ختم نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن انھوں نے کہا تھاکہ اگر میں مرجاؤں تو مجھے یہیں دفن کیا جائے۔

ملک میں کوڑھ کے مرض کے خاتمے اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے  اعتراف میں  ستارہ قائداعظم  ہلال ِ امتیاز ،ہلال پاکستان  اور لائف ٹائم  اچیومنٹ ایواڈ سے نوازا۔

ملک بھر میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کے 157 سینٹر کام کر رہے ہیں جس میں نہ صرف کوڑھ کے مریضوں کا بلکہ اندھے پن کے کنٹرول، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال، تپ دق کے مریضوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے۔

شدید علالت کے بعد ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست2017 کو  اس دیارِ فانی  سے  رخصت ہو گئیں لیکن ان کی محبت  جذبے  اور  ایثار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

اسٹیٹ بینک پاکستان نے صحت کے شعبے میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں 50 روپے کا یادگاری سکہ بھی جاری کیا ۔