شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کا 66 واں یومِ وفات

پاکستان کے پہلے  وزیر اعظم اور شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان 66 واں یومِ وفات آج ملک بھر میں نہایت عقیدت اور احترام سے منا یا جا رہا ہے۔

شہیدملت لیاقت علی خان کی برسی کے موقع پر وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے پیغام دیا ہے کہ شہیدملت کی مسلمانوں کےلیےگرانقدرخدمات کوخراج تحسین پیش کرتےہیں۔

شہیدملت نےتحریک پاکستان کےدوران مسلمانوں کےلیےخدمات انجام دیں۔

لیاقت علی خان قائداعظم کےبااعتماددوست اورساتھی تھے، قائداعظم کےانتقال کےبعدشہیدملت نےریاست کےاستحکام میں کرداراداکیا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ شہیدملت کےدورمیں چین سےپاکستان کی دوستی کی بنیادرکھی گئی اور چین وپاکستان کی دوستی ہرآزمائش پرپوری اتری ہے۔

انھوں  نے مزید کہا کہ قائداعظم،علامہ اقبال اورشہیدملت کےنقش قدم پرچلنےکااعادہ کرنا ہے۔

ہمیں پاکستان کی ترقی کےلیےبےلوث اورانتھک ہوکرکام کرنا ہے۔

ہمیں بانیان کےوژن کےمطابق پاکستان کوخوشحال ومحفوظ قوم بناناہے۔

صدرمملکت ممنون حسین نے بھی شہیدملت لیاقت علی خان کی برسی پرپیغام دیتے ہوئے کہا کہ شہیدملت لیاقت علی خان تحریک آزادی،تحریک پاکستان کاروشن باب ہیں۔

قائدملت پاکستان کےلیےجیئے اورپاکستان کےلیےہی جان قربان کی۔

لیاقت علی خان نے مشرقی پنجاب زمیندار گھرانے میں 1 اکتوبر1895 میں آنکھ کھولی۔

1918 میں علی گڑھ سے گرجویشن مکمل کی ۔

 1921میں  لیاقت علی خان نے  قانون کی ڈگری آکسفوڈ یونیورسٹی سے حاصل کی  ۔

1923 میں مسلم لیگ میں  شمولیت اختیا کر نے  کے بعد  قیامِ پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ قربان  کردیا۔

جدو جہد آزادی میں آپ نے قائداعظم کے شانہ بشانہ کام کیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان کو بانی پاکستان اپنا دست راست کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

قائداعظم کی وفات کے بعد لیاقت علی خان نے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ اور قیادت کے خلا کو پورا کرنے کی کوشش کی۔

16 اکتوبر1951 کو اس عظیم رہنما اور محسن کو راولپنڈی میں منعقدہ جلسے میں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔

شہادت کے وقت لیاقت علی خان نے جو آخری  الفاظ کہے وہ یہ  تھے خدا پاکستان کی حفاظت کرئے ۔

لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پُراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔

  قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات میں لپٹے ہوئے ہیں اور آج تک اصل قاتلوں کو بے نقاب نہیں کیا جاسکا۔