مالی سال2018 کی پہلی ششماہی رپورٹ جاری

state-bank-of-pakistan

کراچی: مرکزی مالیاتی بینک نے معیشت پرمالی سال2018 کی پہلی ششماہی رپورٹ جاری کردی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری مالی سال2018 کی پہلی ششماہی رپورٹ کے مطابق زراعت اورخدمات کے شعبوں کی مضبوط کارکردگی برقراررہی اور بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں4سال کی ریکارڈبلندنمورہی جب کہ  معیشت گزشتہ سال کی شرحِ نمو سے آگے بڑھ جانے کے لیے تیار ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی ششماہی میں مہنگائی اور مالیاتی خسارہ دونوں قابو میں رہے ، اور محاصل کی نمو اب تک  گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ہے جب کہ اخراجات بڑھنے سے گاڑیوں اورالیکٹرونک مصنوعات میں مضبوط نموہوئی۔

رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر اور تعمیراتی منصوبوں نے سیمنٹ اورفولاد سے منسلک شعبوں کی پیداوار میں اضافہ کیا۔ نجی شعبے کا طویل مدتی منصوبوں کے لیےقرض لینے کا سلسلہ جاری ہے۔  پہلی ششماہی میں خریف کی تمام فصلوں نے اچھی کارکردگی دکھائی اور زیر کاشت رقبے میں کمی  کے باعث گندم کی پیداوار دباؤمیں رہی ۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلی ششماہی میں گندم، چینی اوردالوں کے بہترذخائرکے باعث قیمتیں کم رہیں جس کی وجہ سے قیمتیں کم ہونے سے غذائی مہنگائی قابو میں رہی جب کہ پہلی ششماہی میں تعلیم اورصحت  کےخرچوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ مجموعی مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے 2.2 فیصد تک محدودرکھاگیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اسی مدت میں مالیاتی خسارہ 2.5فیصد تھا لیکن رواں سال محاصل میں نموکی وجہ درآمدات کی فروخت میں اضافہ ہے اور مالی سال کی پہلی ششماہی میں جاری کھاتےکاخسارہ7.4ارب ڈالررہا جب کہ گزشتہ برس اسی مدت میں جاری کھاتےکاخسارہ 4.7 ارب  ڈالرتھا۔

اسٹیٹ بینک نے معیشت پرمالی سال2018 کی پہلی ششماہی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ پہلی ششماہی میں پاکستانی روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی ہوئی جب کہ توازن ادائیگی کے چیلنجز سےنمٹنے کے لئے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔