ریاضی کا سب سے بڑا” فیلڈ میڈل “ ایوارڈ کرد ”برکار کوچر“ کے نام

ریاضی کی دنیا کا سب سے بڑا” فیلڈ میڈل “ ایوارڈ کرد “کوچر برکار “ اپنے تین ساتھی پروفیسرز سمیت جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

کورچر برکار سنہ 2000 میں اپنی تعلیم کو آگے بڑھانے کے لیے ایران سے برطانیہ ہجرت کرگئے تھے اور اب ان کو شعبہ ریاضی میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں  “فیلڈ میڈل “ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ نوبل پرائز کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

فیلڈ میڈل برازیل کے شہر ریو دی جینیریو میں منعقد ہونے والی تقریب میں انٹرنیشنل کانگریس کی جانب سے انٹرنیشنل میتھمیٹکس یونین نے دیے۔ فیلڈ میڈل کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ پروفیسر کورچر بیرکار ، امریکہ سے آئے پرنسٹن اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ 36 سالہ آسٹریلوی نژاد پروفیسر اکشے وینکاتیش ، سوئٹزرلینڈ کی نامور جامعہ ای ٹی ایچ (ETH) سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ پروفیسر ایلیسو فیگالی اور جرمنی میں واقع بون یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ پروفیسر پیٹر چولزی کو دیا گیا ۔

یہ کہنا مناسب ہے کہ ریاضی کے شعبے میں “فیلڈ میڈل ایوارڈ“ کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے ۔ یہ ایوارڈ پہلی مرتبہ سنہ 1936 میں دیا گیا تھا ۔ بعدا ازاں ایوارڈ سنہ 1950 تک ہر چار سال کے بعد شعبہ ریاضی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے چار پروفیسرز کو دیے جاتے رہے ۔ میڈل جیتنے والے خوش نصیب افراد کو پندرہ ہزار کینیڈین ڈالر انعامی رقم بھی ساتھ ہی دی جاتی ہے۔

اس سال بھی میڈل چار مردوں کے نام ہی رہا ۔ تاریخ میں اب تک صرف ایک خاتون ہی اپنی صلاحیتوں کو منواتے ہوئے میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئیں تھی۔ مرحوم مریم مرضاخانی کے بعد آج تک کوئی خاتون یہ نوبل پرائز جیتنے والوں کی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکی ہیں ۔ نوبل پرائز 40 سال تک کے عمر کے افراد کو دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں نوبل پرائز جیتنے والے پروفیسر برکار ایران کے شہر ماریوان میں پیدا ہوئے ، یہ کردش شہر 1980 میں ایران ، عراق جنگ کے باعث شدید متاثر ہوا تھا ۔ انہوں نے سنہ 2000 میں برطانیہ ہجرت کرنے سے پہلے ریاضی کی تعلیم تہران یونیورسٹی سے حاصل کی۔

ایران چھوڑ کر برطانیہ میں مقیم ہونے کے ایک سال بعد ان کو برطانیہ میں پناہ گزین کی حیثیت حاصل ہوگئی اور اس کے ساتھ وہ تعلیم جاری رکھتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے لیے کوشاں ہوگئے۔

پروفیسر برکار کہتے ہیں کہ میرے اسکول کے زمانے میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ جاری تھی اور معاشی حالات بہت خراب تھے۔ میرے آباؤ اجداد کسان تھے اس لیے میرا بھی زیادہ تر وقت کھیتی باڑی میں گزرتا تھا ۔ اس وقت دیگر چیزیں تھی جہاں وقت گزارا جاسکتا تھا لیکن ایک بچہ ریاضی کی الجھنوں کو سلجھانے میں دلچسپی رکھے یہ سوچا نہیں جا سکتا تھا ۔

نوبل پرائز جیتنے والے برکار کا کہنا تھا کہ وہ میرے بھائی تھے جنہوں نے جدید دور کی ریاضی سے مجھے آشنا کرایا اور میتھس کے رموز سمجائے۔

نوٹنگھم یونیورسٹی میں پروفیسر برکار کی پی ایچ ڈی کے دوران معاونت اور نگرانی کی ذمہ داری ادا کرنے والے پروفیسر فیسنگو کہتے ہیں کہ جب وہ یہاں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے آئے تو برکار بہت معمولی سے ٹوٹی پھوٹی انگلش بولتے تھے۔ برکار نے یہاں پناہ گزین کی حیثیت سے رہنے کی درخواست دے رکھی تھی جس پر کام جاری تھا ۔ اسی دوران ہوم آفس نے ان کو نوٹنگھم میں رہائش دی۔

برکار میرے ساتھ رہنے لگے تھے کیوں کہ وہ عام علاقوں کے حوالے سے تحقیقات کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

فیسنکو کہتے ہیں کہ برکار کی ذہانت پر سے پردہ راز پی ایچ ڈی کے شروع ہی کے دنوں میں اٹھنے لگا تھا۔ میں نے سوچا میں ان کو کچھ ریاضی کے پیچیدہ سوالات حل کرنے کےلیے دیتا ہوں اگر وہ یہ حل کرلیتے ہیں تو یہ ان کی پی ایچ ڈی کرنے کے مترادف ہوگا۔ پی ایچ ڈی کے آخر کے تیسرے اور چوتھے سال میں برکار کو میں نے بہت مشکل سوالات حل کرنے کے لیے دیے جو انہوں نے 3 مہینے کے مختصر عرصے میں حل کردیے۔

وہ کہتے ہیں کہ برکار بہت ذہین ہیں اور اگر آپ ان سے بات کریں تو محسوس کریں گے کہ وہ اپنے سامنے والے کی سوچ کو سمجھنے اور پڑھ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو مستقبل کے حوالے سے مفید مشورے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی کامیابیوں کو جاری رکھ سکیں۔

برکار کو “فیلڈ میڈل “ میتھس کی ان الجھنوں کو سلجھانے پر دیا گیا جس سے لوگوں کی اکثریت دور بھاگتی ہے ، ایوارڈ کے لیے برکار کو منتخب کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ نوبل پرائز ان کو مینمم ماڈل پروگرام (الجبرا کی ایک شاخ) میں فینو ورائیٹی آپس میں کس قدر یکجا ہے اس سوال کا حل تلاش کرنے اور اس کو پروف کرنے کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

نوبل پرائز جیتنے والے کردش زمین کے فرزند “برکار “ کے ساتھ کام کرنے والے ایمپائلر کالج لندن کے پروفیسر کاسینی کہتے ہیں کہ برکار کا زیادہ وقت جیومیٹری شیپس کی الجھنوں کو سلجھانے میں گزرتا ہے۔

برکار کہتے ہیں کہ امید ہے میری کامیابی کی خبر دیکھنے کے بعد 40 لاکھ کردش افراد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ضرور بکھر گئی ہوگی۔