صارفین کے جی میل ڈیٹا تک مختلف ایپس کی رسائی کا انکشاف

گوگل کی جانب سے  مختلف سافٹ وئیر کمپنیوں کو جی میل صارفین کے نجی پیغامات پڑھنے کی اجازت دیے جانے  کا انکشاف کیا گیا ہے۔

 گوگل نے جی میل صارفین کی ای میلز کو اسکین کرنا چھوڑ دیا ہے مگر کچھ تھرڈ پارٹی ڈویلپرز کو نئی ایپس بنانے کے لیے صارفین کے اکاﺅنٹس تک رسائی اور ان کے پیغامات مارکیٹنگ مقاصد کے لیے اسکین کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف ڈویلپرز کے کمپیوٹرز ہی نہیں بلکہ ان کے ملازمین بھی جی میل صارفین کے پیغامات پڑھ سکتے ہیں۔

گوگل کی جانب سے طویل عرصے سے سافٹ وئیر ڈویلپرز کو صارفین کے اکاﺅنٹس تک رسائی ان کی اجازت کے تحت دی جاتی ہے۔

ایسا کرنے سے ڈویلپرز کو اپنے صارفین کے لیے نئی ایپس کی تیاری میں مدد ملتی ہے جو وہ گوگل کیلنڈر یا جی میل اکاﺅنٹس پر پیغامات ارسال کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

مگر مارکیٹنگ کمپنیاں ایسی ایپس تیار کرتی ہیں جو صارفین کے رویوں کے بارے میں جاننے میں مدد دیتی ہیں اور رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں نے صارفین کی ای میل کو اسکین کرنا عام معمول بنالیا تھا۔

یہ واضح نہیں کہ گوگل اس حوالے سے کتنی مانیٹرنگ کرتا ہے اور بیشتر صارفین کو تو اس کا احساس ہی نہیں کہ وہ ان ایپس کو اپنے اکاﺅنٹس تک رسائی دے رہے ہیں۔

اگر ان کو یہ معلوم بھی ہے تو بھی فیس بک کے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل ان کے لیے فکرمندی کا باعث ہونا چاہیے جس میں صارفین کے ڈیٹا تک اسی طرح رسائی دی گئی تھی۔