نومنتخب حکومت فنانس بل میں ترامیم کے لیے تیار، مشاورت مکمل

اسلام آباد: نومنتخب حکومت نے نیا بجٹ لانے کی تیاری شروع کردی ہے جس میں تنخواہ دارطبقے کو دیئے جانےوالےٹیکس ریلیف میں ردوبدل کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق نومنتخب حکومت نے وفاقی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فنانس بل میں ترامیم کے لیے مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت گزشتہ حکومت میں ٹیکس استثنیٰ کے معاملے میں بھی ترمیم لائے جائے گی۔

ذرائع کاکہنا ہےکہ لیگی حکومت نے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے چھوٹ دی تھی لیکن نومنتخب حکومت نے اس میں ترمیم کرتے ہوئے 8 لاکھ تک آمدن پر ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

خیال کیا جارہا ہے کہ فنانس ایکٹ میں ترامیم  سے 800 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب روپے کٹوتی کا ارادہ بھی رکھتی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے وفاقی بجٹ میں ایف بی آر میں متعدد اقدامات سے 400 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکسز لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی بل میں ترامیم کا مقصد بجٹ اور تجارتی خسارہ کم کرنا ہے

ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے فنانس بل میں تجاویز پیش کرے گی جب کہ تمام درآمدی اشیا پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی تجویز دی جائے گی جس سے حکومت کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کی امید ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ اسی سلسلے میں 14 ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران فنانس بل اسمبلی میں پیش کرے گی۔

وفاقی کابینہ کے 13 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں بجٹ ترامیم کی منظوری کا بھی امکان ہے۔