بجٹ کے بعد کسی محکمے کے اخراجات نہیں بڑھیں گے، مفتاح اسماعیل

اسلام آباد: وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ بجٹ کے بعد کسی محکمے کے اخراجات نہیں بڑھیں گے۔

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جی ڈی پی کی 11 فیصد گروتھ ہوگی اور نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش ہے۔  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ حد تک کم کی گئیں ہیں اور بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کی طرف جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بعد کسی محکمے کے اخراجات نہیں بڑھیں گے اور پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ حد تک کم کیں ہیں۔ 30 جون تک زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھ جائیں گے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے 12 ہزار میگاواٹ سے زائد کے بجلی منصوبے لگائے ہیں اور گردشی قرضے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس موقع پر ہارون اختر کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ کی دن رات کی محنت سے یہ بجٹ پیش کیا گیا ہے اور بجٹ کے لیے وزیراعظم نے بھی ہمارا ساتھ دیا ہے۔ خوشی ہے ایف بی آرکاریونیو ڈبل کرکے جارہےہیں۔

ہارون اختر کا کہنا تھا کہ 5 سال میں ایف بی آرکی آمدن  دگنی کرکے جا رہے ہیں اور حکومت میں آئے تھے تو صوبوں کو 1300 ارب دیئے جاتے تھے۔ موجودہ حکومت کی محنت سے صوبوں کو اب 2300 ارب دیئے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس مراعات دی ہیں اور ہم نے مقامی صںعت کو تحفظ دیا ہے۔ حکومت نے سیلز ٹیکس بھی کیا ہے اور ایل این جی، کمپیوٹر، ڈیری پرسیلز ٹیکس کم کیا ہے۔

معاون خصوصی ہارون اختر کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں اور سگریٹ، سیمنٹ اور اسٹیل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھائی ہے۔ انہوں نے مزید کہنا کہ نئی گاڑی خریدنے کے لیے فائلز ہونا ضروری ہوگا اور بینک اور نادراکے ساتھ معلومات کا تبادلہ ہوگا۔