میں دہشت گر د نہیں

تحریر: سید علمدار حیدر

پاکستان میں نجی شعبے میں ٹی وی چینلز کے قیام کے بعد عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کے مسائل حکمرانوں تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ حکومت عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کو جاننے کے باوجود اس کے حل کے لئے لیت ولعل کرتی ہے، عوام ٹی وی اینکرز اور رپورٹرز سے یہ توقع کرتے ہیں وہ نجات دہندہ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

میں بھی ایک ٹی وی انیکر ہوں، جو شہر کی ایک پس ماندہ بستی میں رہائش پذیر ہوں، لوگ مجھے ٹی وی اسکرین پر مختلف موضوعات پر گفتگوکرتے دیکھتے ہیں، میرا چینل پہنچنے کا ٹائم تو مقرر ہے ، لیکن واپسی کا کوئی ٹائم نہیں۔

ایک رات میں چینل کی مصروفیات کے بعد دیر سے جب گھر پہنچا، تو محلے کی خواتین کی بڑی تعداد ڈرائنگ روم میں میری منتظر تھی،پتہ چلا کہ یہ وہ خواتین ہیں جن کے بیٹوں اور شوہروں کو پولیس گرفتار کر کے لے گئی ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی شہر میںمقامی سیاسی جماعت کے خلاف آ پریشن چل رہا تھا ،مجھے خواتین نے بتایا کہ چار بجے رات کو ان کے گھروں پر چھاپہ ما را گیا۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا گھر پر نہیں تھ اتو ان کے شوہر کو پکڑ لیا ، دوسری نے بتایا کہ ان کے دو بیٹوں کوپولیس لے گئی ایک اور خاتون نے کہا کہ ان کے بھی دو بیٹوں کو پولیس لے گئی ہے، میں نے ان سے پوچھا کے آپ لوگ تھانے گرفتار ہونے والوں سے ملنے گئی تھیں ، جواب ملا کہ پولیس انھیں ملنے نہیں دے رہی ہے ، ساری خواتین نے کہا آپ صحافی ہیں ہم آپ سے توقع کرتے ہیں آپ ہمارے بچوں کو رہا کروادیں گے ۔

میں نے گر فتار افراد کی فہرست بنائی اور پوچھا کہ آپ لوگوں نے یہ سوال کیا تھا کے آپ کے بچوں کو کیوں گرفتار کیا جارہاہے، تو پتہ چلا کہ گرفتار شدگان کو سیاسی جماعت  سے تعلق ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے ۔

  ایک ادھیڑ عمر خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر کی چھوٹی سی بیکری ہے جس پر ان کے دونوں بیٹے کامران اور عمران کام کرتے تھے ، دونوں کی گرفتاری کی وجہ سے بیکری بند پڑی ہے ، شوہر کی آنکھیں کمزور ہیں، وہ دکاندار ی نہیں کر سکتے۔

میں نے فوری طور اس علاقے کے ڈپٹی کمشنر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ، اور گرفتارشدگان کے بارے میں بتایا، جس پر انھوں نے دوسری صبح اپنے دفترآنے کا کہا، میں نے خواتین سے مزید تفصیلات پوچھیں ، تو پتہ چلا کہ زیادہ تر گرفتار شدگان کو اصل بندہ نہ ملنے پر لے گئے ہیں۔

دوسری صبح فہرست لے کر میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچ گیا، اور انھیں تفصیلات بتائیں ، ڈپٹی کمشنر صاحب نے علاقے کے ایس پی اور رینجرز کے کرنل سے بات کی، اور درخواست کی کہ جن لوگوں کو مطلوب لوگوں کے عوض اٹھایا گیا ہے ، انہیں چھوڑ دیں ، اور جس پر کوئی الزام ہے اسکی تحقیقات کریں ، میں نے فوری طور پر تھانے جاکر گرفتار لوگوں سے ملاقات کی، جہاں سے عوض کے طور پر پکڑے جانے والے افراد کو رہا کرایالیکن  پولیس نے بیکری والے دونوں بھائیوں کو چھوڑنے سے انکار کردیا، کامران اور عمران کو پوچھ گچھ کے لیے روک لیا، دوسرے دن میں ایک بار پھر ڈپٹی کمشنر سے ملا، اور شکریہ ادا کیا اور گزارش کی کہ کامران اور عمران کے لئے کچھ کریں ، پتہ چلا پویس نے انھیں رینجرز کے حوالے کردیا ہے ۔

اگلے روز جب میں اپنے چینل جانے کے لئے نکل رہاتھا تو ڈپٹی کمشنر کے پی اے کاٹیلیفون آگیا کہ میں فور طور رینجرز کے کرنل صاحب سے رابطہ کروں، رینجرز کے کرنل صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں فوری رینجرز کے علاقائی آفس پہنچ جاؤں، جب میں وہاں پہنچا ، تو کرنل صاحب نے بتایا کہ کامران اور عمران سے پوچھ گچھ کی گئی ہے ۔

چھوٹا بھائی معصوم ہے کسی جرم میں ملوث نہیں جبکہ کامران ڈکیتی کی کئی وارداتوں میں ملوث ہے ، وہ مجھے ایک کمرے میں لے گئے ،جہاں کچھ اور افسران پہلے سے موجود تھے، ا نھوں نے مجھ سے کہا کہ کامران اور عمران سے ہم آپ کے سامنے سوالات کریں گے، آپ خاموشی سے سنتے رہیں، تھوڑی دیر میں دونوں بھائی لائے گئے ان کے چہرے نقابوں سے ڈھکے ہوئے تھے ، ایک افسر نے سو الات کا سلسلہ شروع کیا ۔

دوران تفتیش پتہ چلا کہ کامران اپنی بیکری پر بیٹھتا تھا ، جہاں ایک نوجوان ڈبل روٹی وغیرہ خریدتا تھا، دیکھنے میں وہ بڑا مختلف سا دکھائی دیتا تھا، اس نے بیکری کی روزانہ آمدنی کے بارے میں پوچھا ، جسے سن کر اس نے کہا تم میرے ساتھ کام کرو بہت فائدہ ہوگا ۔

کامران نے بتایا کہ ایک رات وہ میرے گھر آگیا ، اور اس نے کہا کہ تمھارا کام آج سے شروع ہورہاہے، تم میرے ساتھ چلو وہ مجھے قریبی واقع ایک گوٹھ کے مکان میں لے گیا، جہاں میری عمر کے تین نوجوان موجود تھے، سب سے تعارف کرایا گیا، پتہ چلا کہ جو شخص مجھے یہاں لایا اس کے کئی نام ہیں، دوسرے لڑکے اسے کوٹی بھائی کہہ رہے تھے، جبکہ اس نے مجھے اپنا نام رضوان بتایا تھا، رضوان نے ہمیں کہا کہ ہم غریب لوگوں کی اولادیں ہیں، ہمیں زندگی گزارنے کے لئے پیسہ اور عزت چاہئے ، ابھی آپ کی ٹریننگ ہوگی ، اس کے بعد تم لوگوں کو کام بتا یا جائیگا،آپ لوگ آج سے ہمارے ساتھی بن گئے۔

رضوان نے ہمیں مختلف قسم کے اسلحہ چلانے ٹریننگ دی ، اور پھر ہمیں کہا گیا کہ آپ لوگ کاروائی شروع کریں کامران بتا رہا تھا کہ اس ایک گارمنٹس اسٹور ، ڈبل روٹی والوں کی وین، کئی جنرل اسٹور اور ایک سنار کی دکان لوٹی اپنے اعترافی بیان میں کامران نے کہا کہ اس نے کسی کا قتل یا کسی کو زخمی نہیں کیا، جبکہ چھوٹے بھائی عمران سے کوئی سوال نہیں کیا گیا، دونوں کو ایک بارپھر لاک اپ میں بھیج دیاگیا۔

کرنل صاحب مجھے اپنے آفس میں لے گئے اوربتایا کہ چھوٹے بھائی کو چھوڑ رہے ہیں، اور کامران کے بارے میں آپ ہی سزا تجویز کریں ،میں ان سے کیا کہتا میں نے صرف ایک جملہ کہا کہ اس نے کوئی قتل نہیں کیا بس اس چیز کا خیال رکھیے۔

کامران کو پولیس کسٹڈی میں دے دیا گیا، کچھ دنوں بعد وہ جیل سے رہاکردیا گیا ، میری وجہ سے پولیس نے کم دفعات لگائی تھیں ، رہا ہونے کے بعد وہ اپنی منگیتر اور ماں کے ساتھ مٹھائی کا ڈبہ لے کر آیا۔

کئی مہینوں بعد ایک دن وہ آیا ، تو بڑا پریشان لگ رہاتھا ، مجھے الگ لے جاکر بولا، سر مجھے ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہے ، ایک میرا جاننے والا مجھے جنوبی کوریا میں ملازمت دلا رہا ہے، ساٹھ ہزار میرے پاس ہیں چالیس آپ دے دیں، میں واپس کردوں گا میں نے اس سے معذرت کی، کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں، ہم تو تنخواہ دار لوگ ہیں ،وہ مایوس ہوکر چلا گیا، اور یہ وعدہ کر کے گیا کہ اب وہ جرم نہیں کرے گا۔

ان دنوں کراچی سے نکلنے والے شام کے اخبارات میں ضرور پڑھتا تھا میں اپنے چینل جانے کے لیے گھر سے نکلا تو محلے کے ہاکر نے شام کے اخبارات کی کاپیاں میری گاڑی میں ڈالدیں ۔

اخبار کا پہلا صفحہ جو میں نے دیکھا تو ہیڈ لائین کے قریب تصویر دیکھ کر میں چونک گیا ، خون میں لت پت ایک لاش کی تصویر تھی جس کے نیچے لکھا تھا ، لانڈھی کے صنعتی علاقے میں ایک فیکٹری کے کیشیر کو لوٹنے والے ڈاکو کو پولیس نے شوٹ کردیا، ڈاکو کا نام کامران بتایا جاتا ہے جو متعدد ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھا میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اسے پیسے مل جاتے تو کیا وہ واردات کرتا۔۔۔۔۔؟؟؟؟!!

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔