ملک میں مہنگائی 4 سال کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی

اسلام آباد: حکومتی دعوؤں کے برعکس ملک میں مہنگائی چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ادارہ شماریات نے اپنی حالیہ جائزاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال مارچ سے مہنگائی کا نہ تھمے والا سلسلہ برقرار ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ جولائی کے دوران مجموعی طور پر مہنگائی میں5.38 فیصداضافہ ہوا ۔ پیاز 6.50 ، پٹرول 3.57 اور گھر کے کرایوں میں 2فیصد، ٹماٹر15.63،آلو9.40، سی این جی7.89،ڈیزل7.25، چینی3.24اورگندم کےتھیلے کی قیمت پر2.40 فیصد جب کہ بسوں کےکرایوں میں تقریباً11.82 فیصداضافہ ریکارڈکیاگیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں ملک میں مہنگائی 4 سال کی بلند ترین سطح پرپہنچی۔ گزشتہ ماہ ڈالر کی قیمتوں میں بھی ہوشرباء اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ جب ڈالر روپے کے مقابلے میں 128 تک پہنچ گیا تھا ۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت میں ٹھہراؤ آیا ۔ اور الیکشن کے بعد اگلے ہی دن ڈالر کی قیمت میں 8 روپے کی واضح کمی ہوئی جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر 130 روپے سے سستا ہوکر 122 روپے پر آگیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں قریب 20 فیصد کمی آئی اور ڈالر 105 روپے سے بڑھ کر 131 روپے تک فروخت ہوا ۔ بعد ازاں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد روپے کی قدر میں تقریباً ساڑھے چار فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے امکانات ہیں۔

دوسری جانب یکم جون کو ذمہ داریاں سنبھالنے والی نگراں حکومت نے صرف اقتدار میں آنے کے سات روز بعد ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ تھما نہیں بلکہ صرف کچھ دنوں کے بعد یکم جولائی کو ایک بار پھر اوگرا کی سمری منظور کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 99 روپے 55 پیسے تک جا پہنچی ۔ تاہم 8 جولائی کو قیمتوں میں ردو بدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے کمی کی گئی جس کے بعد عوام کو پیٹرول 95.24 روپے فی لیٹر دستیاب ہے۔

حال ہی میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹر اتھارٹی (اوگرا) نے ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال کی گئی جس کو مسترد کرتے ہوئے قیمتوں میں ردو بدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب سے بھی پٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح12سےکم کرکے9.5فیصد ،ہائی اسپیڈ ڈیزل پر شرح 24سے کم کرکے22فیصد ،مٹی کے تیل پر 12سےکم کرکے 6فیصد اورلائٹ ڈیزل پر شرح 9فیصد سے کم کرکے 1فیصد مقرر کی گئی جس کا اطلاق یکم اگست سے ہوگیا ہے ۔

عوام کی جانب سے سیلز ٹیکس میں کمی کو خوش آئین قرار دیا جارہا ہے ۔ اور امید کی جارہی ہے کہ آنے والی حکومت مہنگائی میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائی گی ۔