کشمیر کا بیٹا برہان وانی

تحریر : غانیہ خالد

کراچی : مقبوضہ  کشمیر میں بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان چھڑپیں  روز کا معمول تھا  لیکن  8 جولائی 2016 کو  ایسا کیا ہوا تھا  جو  کشمیر جنت  نظیر  لرز اٹھا  تھا ؟ عجب  شور برپا تھا فضا  اللہ  اکبر کے  نعروں  سے  گو نج  رہی تھی اور یہ آواز  بھارتی  فوج کے  رونگٹے  کھڑے کر  رہی  تھی .آہیں ، سسکیاں اور بین   کس کے لیےتھے ؟ اپنی دھرتی اور عزت کے لیے  ایک  اور  بیٹے  نے  جام  شہا دت  نو ش کر لیا تھا  یہ  کوئی  اور نہیں  بلکہ  وادی  کشمیر کا   دلیر جانباز  اور  نڈر  برہان وانی تھا جس نے  آزادی کی  جنگ میں  اپنے لہو  سے  ایک  نئی  روح پھونک  دی  اور بتا  دیا  کہ  کشمیر پر  بھارتی  غصبا نہ قبصہ  نا منظور تھا ،  ہے  اور  رہے گا ۔

مجاہد   برہان مظفر وانی شہید کی عمر21   سال تھی جس وقت اس کو شہد کیا گیا وہ 15 برس کی  عمر میں آزادی کی جبل لڑنے کے لیے گھر سے بھاگ گیا اور حزب المجاہدین نامی تحریکِ آزادی میں شامل ہو گیا  جسکا نصب العین مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانا ہے۔

 یہ  8 جولائی 2016ء کا دن تھا جب عسکری تنظیم نے جنوبی مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں ایک گاؤں پر حملہ کیا جس کے ایک مکان میں برہان وانی اور اس کے دو ساتھی چھپے ہوئے تھے۔ اس مقابلے میں مکان کو بم مار کر تباہ کر دیا گیا اور اس میں تینوں کشمیری مجاہدین شہید ہو گئے۔ برہان کی جسد خاکی جب آبائی گاؤں ترال ضلع پلواما میں برائے تدفین لے جائی گئی تو مانوں وادی کشمیر میں قیامت برپا ہوگئی ہوں۔ اکیس سالہ برہان وانی کشمیر کی حالیہ عسکریت پسندی کی تحریک میں سب سے نمایاں چہرہ بن کر ابھرے تھے۔ سوشل میڈیا کے درست استعمال سے انہوں نے لاتعداد کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف راغب کیا تھا۔

27اکتوبر 1947ء کو جس طرح بھارتی غاضب افواج نے کشمیر میں گھس کر وہاں قبضہ کیا وہاں کے عوام کی حق خود ارادیت کو کچل کر انہیں زبردستی بھارت کا غلام بنایا۔ وہاں ظلم و تشدد کو اسطرح عام کیا کہ 70 برس گزرنے کے باوجود کشمیر میں موجود 7 لاکھ بھارتی افواج آج بھی کشمیریوں کے دل نہ جیت سکی۔ کشمیری آج بھی 1947ء والے جذبے کے ساتھ اپنے حق کی آزادی طلب کر رہے ہیں۔ اپنے اس حق کے لئے ڈیڑھ لاکھ کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

برہان وانی نے سوشل میڈیا میں ویڈیوز اپ لوٹ کر کہ کشمیری نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا اور بھارت کے لیے اتنا بڑا خطرہ بن گیا کہ بھارتی حکومت نے برہان وانی کی سر کی قیمت 10 لاکھ مقرر کردی۔ وانی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک میں شامل ہونے کی ترغیب دی اور دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے۔

برہان وانی کا کہنا تھا کہ ہماری جنگ بھارتی فوج کے ظالمانہ قبضے کے خلاف ہے۔ کشمیر میں بسنے والے لوگ کوئی بھی ہوں اور اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اُن سے ہماری کوئی جنگ نہیں وہ ہمارے بھائی ہیں‘‘۔

بھارت نے اس آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے کے لئے پناگاہوں کا محاصرہ کیا اور برہان وانی کو شہید کر دیا۔ اس کی لاش کو سری نگر کے بازاروں میں گھمایا گیا اور ٹی وی اسکرینوں پر بار بار دکھایاگیا اس کے پیچھے بھارت کا پیغام یہ تھا کہ جوکوئی برہان وانی کے نقش قدم پہ چلے گا، اس کے خلاف اسی قسم کی دہشت گردی کی جائے گی۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔