”ماں تیری عظمت کو سلام“ماﺅں کا عالمی دن

تحریر:غانیہ خالد

صبر اور خلوص کی ایسی مثال جسکا کوئی ثانی نہیں۔ ماں وہ ہستی ہے کہ جس کے لیے لفظوں کا ذخیرہ موجود نہیں کہ جس سے اس کی تعریف کی جا سکے۔

ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس سے محبت کسی دن کی محتاج نہیں دنیا کے ہر معاشرے میں عظیم ہستی کا احترام کیا جاتا ہے اسی محبت ، عقیدت کے اظہار اور ماں کی عظمت کو یادگار منانے کے لیے مئی کے دوسرے اتوار کو دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن یعنی مدرزڈے منایا جاتا ہے۔

زمانہ قدیم میں یونانی اور رومن اپنے دیوتاؤں ’’ریا‘‘ اور ’’سائبیل‘‘ کو ماں کا درجہ دے کر ان کا دن مناتے تھے لیکن اس دن کا باقاعدہ آغاز امریکا سے ہوا جہاں 1908 میں مشہور سماجی شخصیت این ریوس جاروس  کے انتقال کے بعد اس کی بیٹی اینا جاروس نے اپنی ماں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گرافٹن کے میتھو ڈیس چرچ میں دنیا کا پہلا باقاعدہ مدر ڈے منایا جس کے بعد میں پوری دنیا میں ایک نئی روایت کا جنم ہوا۔

میتھو ڈس چرچ میں مدرڈے منانے کے بعد اینا نے کوشش کی کہ اس دن کو قومی سطح پر منایا جائے اور بالآخر وہ 1914 میں اپنے مقصد میں کامیابی ہو گئی اور اس وقت کے امریکی صدر ووڈ را ولسن نے ہرسال مئی کے دوسرے اتوار کو ماؤں کے نام کرنے کا اعلان کردیا۔

ماں اولاد کو 9ماہ اپنے جسم میں رکھتی ہے یہ نو ماہ کا وقت وہ کس انداز میں گذارتی ہے ان احساسات کو ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے۔ ماں بننے کے بعد اس اولاد کی تربیت کے ابتدائی چند برس وہ کیسے ، کس طرح سے اس کا خیال رکھتی ہے اور اس کے بعد بھی ماں کی محبت ختم تو لفظ ہی غلط ہے۔

ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد سے زندگی بھر پیار کرتی ہیں، اسکی تمام تر غلطیوں کو نظرانداز کرتی ، اپنی آغوش میں لے کر اپنی اولاد کو تحافظ فراہم کرتی ہے۔ ماں ایک محبت کا نام نہیں ایک جذبہ ہے جو کہ اولاد کے گھر دیر سے آنے پر فکر مند رہتی ہیں، اولاد کی تکلیف میں خود آنسو بہاتی ہیں، ماں ایک ٹھنڈک کا احساس ہے جو ہمارے سروں پر رہتا ہے جب یہ سایہ سروں پر سے اٹھتا ہے تب بہت دیر ہوجاتی ہے۔

ماں کی عظمت کو اس کی حرمت کو محسوس کرنے ضرورت ہے ۔ماﺅں کا عالمی دن یہ ایک دن نہیں ہے بلکہ ہرپل اور ہر دن ماں کا دن ہے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔