کراچی میں نوجوان کے اغوا میں ملوث ملزمان گرفتار، داعش سے رابطوں کا انکشاف

کراچی : کراچی میں نوجوان کے اغوا میں بین الااقوامی دہشت گرد تنظیم داعش کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

رواں سال 6 فروری کو کراچی سے اغواء ہونے والے نوجوان کے اغواء کاروں کو اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل نے کامیاب آپریشن کے دوران گرفتار کرلیا ۔

ڈی آئی جی  سی آئی اے پولیس امین یوسف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نو جوان کے بھائی نبیل کو افغانستان کے نمبر سے کال موصول ہوئی تھی جس میں نوجوان کی بازیابی کے لیے 10 کروڑ روپے تاوان کی رقم طلب کی گئی تھی ۔

امین یوسف نے صحافیوں کو بتایا کہ نبیل  کے خاندان نے 1 کروڑ روپے تاوان ادا کرکے نوجوان کو اغواء کاروں سے چھڑالیا تھا ۔

تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی آئی جی  سی آئی اے کا کہنا تھا کہ 28 مئی کو مغوی نوجوان کے اہل خانہ نے کراچی سے تعلق رکھنے والے مختار نامی شخص کو تاوان دیا۔ جس کے تین دن بعد 31 مئی کو اغواء کار نوجوان کو یونیورسٹی روڈ پر چھوڑ گئے تھے۔

پولیس افسر کے مطابق اے وی سی سی نے معاملے کی تحقیقات کیں اور کامیابی سے اغواء کی واردات میں ملوث تین ملزمان مختار، نعیم  اور روح اللہ کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ سمیت تاوان کی رقم اور واردات کے دوران استعمال کی گئی گاڑی بھی برآمد کرلی ہے۔

پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی نے بتایا کہ گرفتار ملزم نعیم 7 پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہیں جبکہ ملزم کے دیگر ساتھی مختلف کاروائیوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہلاک کیے جا چکے ہیں تاہم اب تک ان کے چار ساتھی مفرور ہیں۔

امین یوسف کا کہنا تھا کہ ملزمان کا عالمی دہشت گرد تظیم داعش سے رابطے کے واضح شواہد ملے ہیں ۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان داعش سے رابطہ کرنے کے لیے مختلف موبائل ایپلی کیشنز کا استعمال کرتے ہیں۔