ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کے 73 برس مکمل

1945ء میں جاپان کے شہروں پر امریکی حملے ابھی تک کسی بھی جنگ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا واحد واقعہ ہیں۔ اس کے بعد اور اس سے پہلے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی مثال موجود نہیں۔

جوہری بم حملوں کے 73 سال پورے ہونے پرجاپان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں واقعے میں جانیں گنوانے والوں کی یاد میں تقریبات منقعد کی گئیں اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف عہد کا اعادہ کیا گیا۔

73 سال قبل 6 اگست 1945ء کو امریکی جہاز Enola Gay نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا ۔ اس بم کو’لٹل بوائے‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اُس وقت ہیروشیما کی مجموعی آبادی قریب ساڑھے تین لاکھ تھی اور ایٹمی بم نے گرتے ہی تباہی کی وہ مثال قائم کی کہ کچھ ہی لمحوں میں ستر ہزار سے زائد لوگوں کی زندگیاں نگل لیں۔ چند ہی روز میں مزید متاثرہ افراد جان کی بازی ہارگئے اور مرنے والوں کی یہ تعداد دگنی ہو گئی ۔

امریکی عسکری حکام نے ہیروشیما پر یکم اگست 1945ء کو ایٹم بم گرانے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے امریکیوں نے اپنے گھناؤں نے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پانچ دن بعد یعنی 5 اگست کو ہیروشیما پر جوہری بم گرانے کا فیصلہ کیا۔

ایٹم بم’لٹل بوائے‘ کو جس جہاز’انولا گے‘  پر لوڈ کیا گیا اس کے 13 افراد پر مشتمل عملے کو بھی اصل منصوبے سے لاعلم رکھا گیا اور ان کو حملے سے کچھ لمحات پہلے ہی راستے میں اپنے مشن کا ادراک ہوا کہ وہ ہیروشیما کو جوہری ہتھیار کا نشانہ بنانے جا رہے ہیں۔

ہیروشیما پر حملے کے محض تین دن بعد ہی امریکیوں نے جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا۔ منصوبے کے مطابق دوسرا ایٹم بم کیوٹو پر گرایا جانا تھا لیکن امریکی وزارت دفاع کی مخالفت کے بعد ٹارگٹ تبدیل کر دیا گیا۔ ’فیٹ مین‘ نامی یہ جوہری بم 22 ٹن وزنی تھا۔ اس ایٹمی حملے میں بھی قریب ستر ہزار افراد موت کی ابدی نیند سوگئے تھے۔