جنید جمشید کی آواز آج بھی زندہ ہے

jj

تحریر : عنبرحسین سید

سن 2003 میں بی بی سی کی جانب سے ایک سروئے میں 7000 گا نوں کو چن کر ووٹنگ کروائی گئی۔ تیسرے نمبر پر آنے والا گا نا کو ئی فلمی گا نا نہیں تھا بلکہ پاکستانی ملی نغمہ دل دل پاکستان تھا ۔ جس کے گلو گار جنید جمشید پچھلے برس ہم سے جدا ہو گئے ۔وہ ہی جنید جمشید جن کوسن 2014 میں دنیا کی 500با اثر شخصیات میں شامل کیا گیا۔

بین الاقوامی شہرت یافتہ مشہور مذہبی مبلغ، مسحو رکن آواز کے مالک، نعت خواں اور مذہبی پروگراموں کےمیزبان جنید جمشید 3 ستمبر 1964 کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔

موسیقی کو نیا انداز بخشنے والے جنید جمشید کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جو آئے ، انھوں نے دیکھا اور فتح کر لیا ۔ اپنے پہلے ہی گانے سے رات و رات شہرت کی بلندی کو چھو لینے والے جنید جمشید فائٹرپائلٹ بننا چاہتے تھے پر نظر کی کمزوری کی وجہ سے ان کی یہ چاہت پوری نہ ہوسکی ۔

بحیثیت سنگر سروں سے کس طرح کھیلنا ہے جنید جمشید یہ اچھی طرح جانتے تھے گانا رومانوی ہو یا اداسی سے بھر پور وہ اس میں اپنی آواز سے ایسے جذبات اور احسا س ڈال دیتے تھے کے سننے والے اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتے تھے ۔

موسیقی سے بے حد لگاؤ رکھنے والے جنید جمشید نے زمانہ طالبِ علمی میں ہی گلوکاری کا آغاز کر دیا تھا 1987میں وائٹل سائنز گروپ وجود میں آیا اور14 اگست 1987میں وہ شہر آفاق ملی نغمہ بنا جو پاکستان میں دوسرے قومی ترانے کا درجہ رکھتا ہے ۔

” دل دل پاکستان جان جان پاکستان ” یہ وہ ملی نغمہ ہے جو ہرپاکستانی کے دل کی آواز اور دھڑکن ہے جذبہ حب الوطنی سے سرشار یہ نغمہ بچوں اور بڑوں دونوں میں یکساں مقبول ہے ۔

جنید جمشید کے مشہور نغمات میں گورے رنگ کا زمانہ ، سانولی سلونی سی محبوبہ ، آنکھوں نے آنکھوں کو جو سپنا ، نہ تو آئے گی نہ ہی چین آئے گا، اعتبار، وہ کون تھی ، تم مل گئے ، ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے وغیرہ وغیرہ جیسے بے شمار نغمات شامل ہیں ۔ جنید جمشید نے وائٹل سائنز کے ساتھ 4اسٹوڈیو البم کی کامیابی کے بعد اپنے سلو کر ئیر میں بھی خوب کامیابی حاصل کی ۔

جنید جمشید کے دوستوں اور ساتھی فنکاروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک نفیس ، پروقار اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے ۔
جنید جمشید نے موسیقی کے ہر انداز اور سر میں گیت گائے اور مداحوں سے داد وصولی لا ئیو کنسرٹ ہویا ریکارڈنگ جنید جمشید کی صدا بہار آواز کا جادو مداحوں کے سر چڑ کر بولتا تھا۔

سن 2007میں ہدایتکار شعیب منصورنے  فلم ’’خدا کے لیے ’’ میں  لیڈ رول کے لیے جنید جمشید سے رابطہ کیا ۔ مگر جب انہیں کہا گیا کہ اس کردار کی مناسبت سے انہیں داڑھی منڈھوانی ہوگی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا ۔

جس طرح ہر فنکار کے کرئیر میں اتار چڑھاو آتے ہیں اس ہی طرح جنید جمشید کی زندگی میں بھی آئے اور انھیں بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے لیے انھوں نے کئی بار اپنی غلطی کو تسلیم بھی کیا اور دوسروں کی غلطی کی نشاندہی بہت مہذب انداز سے کی ۔

2004 میں جنید جمشیدنے باضابطہ طور پر موسیقی کی دنیا کو خیرباد کہہ کر دین کی تبلیغ درس تدریس حمد اور نعت خوانی سے رشتہ جوڑ لیا “میرا دل بدل دے” ، “دنیا کے ائے مسافر”، “محمد کا روضہ “، “اے نبی پیارے نبی اور” الہی تیری چوکھٹ پر”، ان کی مشہور نعتوں میں سے ہیں ۔

جنید جمشید نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب انھوں نے درس وتدریس کی راہ اختیار کی تو ان سے جڑے لوگوں کی جانب سے ان کے داڑھی رکھنے اور پہناوئے پر اعتراض اٹھایا گیا مگر ا نھوں نے بہت تحمل اور پیار کے ساتھ سب کو سمجھا یا ۔

رمضان کے مہینے میں ایک ٹیلیویژن پروگرام میں جنید جمشید نے بہت فخر سے کہا کہ جب میں سنگر تھا تو لڑکیوں کی والدہ مجھ سے آکر کہتی تھیں کہ یہ آپ کی بہت بڑی فین ہیں اور آج یہ وقت ہے کہ لڑکیاں آکر اپنی والدہ کو ملواتی ہیں اور مجھے بتا تی ہیں کہ یہ آپ کو بہت پسند کرتی ہیں ۔
7 دسمبر 2016 کی شام حویلیاں کے مقام پر فضائی حادثے میں جنید جمشید خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔

جنید جمشید کی حادثاتی موت پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل اداس . جنید جمشید آج ہم میں نہیں مگر ان کی آواز آج بھی لوگوں کے کانوں میں گونجتی اور دلوں کو گرماتی ہے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔