کراچی شہر ایماندار اور با صلاحیت قیادت چاہتا ہے، حافظ نعیم

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی ایماندار اور باصلاحیت قیادت چاہتا ہے، جماعت کی کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کریں ۔

کراچی کے حلقہ این اے 250 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار  اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مختلف ٹی وی چینلز کے ڈیجیٹل میڈیا میں ذمہ داریاں ادا کرنے والے صحافیوں سے نجی ہوٹل میں ملاقات کی ۔

حافظ نعیم الرحمن کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ بااعتماد اور باصلاحیت قیادت چاہتے ہیں اور کوشش ہوگی کہ الیکشن کے دن زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے بہتر قیادت کا انتخاب کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مرکز میں مضبوط پوزیشن میں موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے اتحاد کرنا ضروری تھا۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن میں عوام منتخب کرتی ہے تو شہر کو درپیش ، بجلی و پانی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور ساتھ ہی نادرا کے محکمے کی غفلت کی وجہ سے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے پریشان ہونے والے شہریوں کی مشکلات دور کرنے کے لیے کام کریں گے۔

امیرجماعت اسلامی کراچی کا مزید کہنا تھا کہ اس صوبے اور شہر پر گزشتہ تیس سالوں میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ نے حکومت کی اور اس دوران شہر اور صوبے کے لوگوں کو محصور کرکے رکھا جب کہ شہر میں پانی اور بجلی کے مسائل نے بھی اسی عرصے کے دوران سراٹھایا جس سے عوام آج پریشانی کا شکار ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ اگر انتخابات شفاف ہوں گے تو 2018 کے عام الیکشن میں متحدہ مجلس عمل پورے پاکستان سے اکثریت حاصل کرکے کافی تعداد میں نشستوں پر کامیاب ہو گی۔

واضح رہے کہ کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 میں الیکشن 2018 میں بڑے بڑے نام ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار حافظ نعیم الرحمن، متحدہ قومی مومنٹ کے امیدوار فیاض قائمخانی، عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید، پاک سرزمین پارٹی کے امیدوار حفیظ الدین، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عطااللہ خان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید منور رضا اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار علی احمد ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔