ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی نرگس کی وطن واپسی

لاہور: 18ویں ایشین گیمز کے کراٹے ایونٹ میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون کھلاڑی نرگس کی وطن واپسی پر والہانہ استقبال کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی کھلاڑی نرگس خان وطن واپسی کے بعد کوچنگ سینٹر لاہور پہنچی تو ساتھی کھلاڑیوں نے ڈھول کی تھاپ پر رکس کیا۔ فیڈریشن عہدیداران نے ہار پہنائے اور پھولوں کی پتیاں نچاور کی اس کے علاوہ پاکستان ذندہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے۔

فیڈریشن عہدیداران کا حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ دیکھانے والوں کو نکت انعام دیا جائے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نرگس خان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے ورلڈ کلاس مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتوں اور دنیا بھر میں پاکستانی ترانہ گونجے۔

ٹیم مینیجر نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ صرف کرکٹ کو ہی نہیں دیگر گیمز کو بھی سپورٹ کیا جائے۔

پاکستانی کراٹے پلئیر حادی عباس کا کہنا تھا کہ متنازعہ فیصلہ کرکے میڈل سے محروم کردیا گیا۔ جس کا افسوس رہے گا اور کوشش کروں کا کہ میں ریکور ہوجاؤں اور واپس اپنی ٹیم جوائن کروں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے اولمپکس گیمز کے لیے جتنے کولیفیکشن راؤنڈ ہیں انہیں کھیل کر اولمپکس میں کولیفائی کروں۔

واضح رہے کہ 25 اگست کو 18ویں ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑی نرگس نے کراٹے مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

انڈونیشیا کے شہر جکارتہ اور پالیمبینگ میں منعقد ہونے والے 18ویں ایشین گیمز میں پاکستان نے تاریخ کا کراٹے ایونٹ میں پہلا میڈل جیت لیا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی نرگس کا یہ مقابلہ نیپال کی کارکی ریتا سے ہوا تھا جو نرگس نے 1-3 سے جیتا اور 68 کلوگرام سے زائد وزن کی کیٹیگری مقابلوں میں یہ تمغہ حاصل کیا۔