شاہین ’محمد عامر ‘

تحریر: سعد جابری

محمد عامر کا شمار دنیا کے نامور اور بہترین باؤلز میں ہوتا ہے۔ 3 اپریل 1992 میں گوجر خان میں پیدا ہونے والے محمد عامر نے 2009 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پہلی بار بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اپنی شاندار باولنگ سے لوگوں کو حیران کرکے رکھ دیا۔  

ایک کے بعد ایک شاندار پرفارمنس کی وجہ سے محمد عامر کو دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں شمار کیا جانے لگا اور بہت کم عمر میں ہی ان کو بام عروج حاصل ہوا ۔ عامر کا باؤلنگ ایکشن لیجنڈ پاکستانی فاسٹ باؤلر وسیم اکرم سے مماثلت رکھتا ہے ۔ جو حریف بلے باز کو گھوما کر رکھ دیتا ہے ۔

محمد عامر کی باؤلنگ کی اوسط رفتار 140-145  میل فی گھنٹہ ہے جو بلے بازوں کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ عامر ابھی صرف 25 سال کے ہیں اور ابھی ان کے کیریئر کے بہترین سال ان کے سامنے ہیں۔ لیکن حقیقتاً ان کی کلائی کی پوزیشن انہیں ایک شاندار باؤلرز بناتی ہے جس کی بدولت وہ تیز رفتاری کے ساتھ گیند کو سوئنگ کر سکتے ہیں۔

محمد عامر میں ایک عمدہ گیند باز کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں . ۔ ان کا باؤلنگ ایکشن اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کار اور شائقین امید رکھتے ہیں کہ محمد عامر بھی وہ وسیم اکرم جیسے شاندار باؤلر بن کر ابھر سکتے ہیں۔  محمد عامر اور لیجنڈ وسیم اکرم کے باؤلنگ کرانے کے ایکشن میں کافی حدتک مماثلت پائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بحیثیت فاسٹ باؤلر محمد عامر  کی تکنیک کافی بہتر ہے اور کہا جاتا ہے اگر اس عظیم باؤلر کو کامیابیاں حاصل کرنے سے کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ خود ہیں۔ محمد عامر کو اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے تحت 5 سال سزا کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن محمد عامر نے ٹیم میں واپسی کے بعد اپنے بہترین کارگردگی سے سارے میلے داغ خود پر سے دھو ڈالے۔

پاکستانی فاسٹ باولر محمد عامر نے سزا پوری ہونے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم میں منتخب ہو کر اسی میدان سے ایک بارپھر اپنے آپ کو متعارف کرایا جہاں وہ ایک بھیانک سازش کا شکار ہوئے تھے۔

محمد عامر نے کرکٹ کے میدانوں میں لوٹ کر اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کیا اور دنیا کے نامور بلے بازوں کو عمدہ باؤلنگ سے پریشان کرکے پاکستانی شائقین کرکٹ کی آنکھوں کے تارے بن گئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر کھلاڑیوں نے بھی ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی اور بھروسہ کرنے والوں کو محمد عامر نے مایوس نہیں کیا ۔

محمد عامر نے اپنے کیرئیر میں اب تک 30 ٹیسٹ میچز کھیلیں ہیں جس میں مجموعی طور پر 3 ہزار 123 رنز دیکر 95 وکٹیں حاصل کی ۔ اسی طرح ون ڈے کی بات کی جائے تو  اس فارمیٹ میں محمد عامر اب تک 40 میچز کھیل کر مجموعی طور 1 ہزار 653  رنز کے عوض 57 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں جب کہ ٹی 20 فارمیٹ میں محمد عامر 35 میچز کھیل کر 886 رنز دے کر 41 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں ۔

بحیثیت بیٹسمین بھی محمد عامر نے عمدہ کارگردگی کا مظاہرہ کیا اور کئی بار قومی ٹیم کو مشکل حالات میں مضبوط پوزیشن پر کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انھوں نے ٹیسٹ میچز میں مجموعی طور پر 645 رنز بنا رکھے ہیں۔ ون ڈے میں 40 میچز کھیل کر 328 اور ٹی 20 میں 35 میچز کھیل کر مجموعی طور پر 44 رنز اپنے حصے میں جمع کرچکے ہیں۔ انھوں نے 2009 میں نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 73 پر ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو دنگ کردیا تھا۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور دنیائے کرکٹ کے ایک بڑے نام ویرات کوہلی سے ایک انٹرویوں کے دوران بالی ووڈ اسٹار عامر خان نے سوال کیا تھا کہ دنیا میں ایسے کونسا باؤلر ہے جس کو کھیلنے سے آپ گھبراتے ہیں۔ سوال کے جواب میں برجستہ وہرات کوہلی نے کہا کہ’ میں محمد عامر کو کھیلتے ہوئے گھبرا جاتا ہوں‘ ۔ اس سے قبل ویرات کوہلی نے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے پریکٹس کے دوران بطور تحفہ اپنا زیر استعمال رہنے والا بیٹ بھی محمد عامر کو   گفٹ کیا تھا۔

اس چمکدار ستارے نے حال ہی میں پاکستان سپرلیگ تھری کے اہم ترین میچ میں عماد وسیم اور شاہد آفریدی کی غیر موجودگی میں کراچی کنگز کی قیادت کرکے ثابت کردیا کہ ماضی تلخ ہو لیکن حال کی کوششیں اور محنت مستقبل کو روشن اور کامیاب بناسکتی ہیں۔ اگرچہ  کراچی کنگز شکست کے بعد فائنل میں کوالیفائی نہیں کرسکی لیکن مستقبل میں قومی ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے لیے پی سی بی کو ’شاہین محمد عامر ‘ جیسا باصلاحیت پلئیر ضرور مل گیا۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔