معصوم زینب کی چمکتی آنکھوں میں کئی سوال

zanaib

تحریر : عنبر حسین سید

کراچی : سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں واقعہ ایسا ہے جس کے بعد واقعی کچھ لکھنا یا کہنا آسان نہیں ہے ۔ قصور میں ہونے والے اس حولناک واقعہ کا قصور وار کس کو ٹھہراوں ؟ قانون نافذ کرنے والوں کو یا جھوٹے دعوے اور وعدے کرنے والے سیاست دانوں کو ؟

صبح سے یہ وقت آ گیا زرائع ابلاغ کے تمام میڈ یمز پر ایک ہی خبر ہے کہ ایک معصوم کلی مرجھا گئی 8 سالہ زینب کو اغوا کرنے کے بعد مبینہ ذیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔

آہ سنہرے مستقبل کے خوابوں سے سجی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں ۔

زینب کی تصویر دیکھ کر ایک ہی خیال ذہن میں آ رہا ہے ، جس وقت بچی کو اغوا کیا گیا ہو گا بچی پر کیا بیتی ہو گی ، کیا ا س وقت کوئی اس کے آس پاس نہیں تھا جو اس کو بچا سکتا ؟

جب اس معصوم پھول کو مسلنے کے لیے وہ شخص آگے بڑ ھا ہو گا وہ کتنا بلک بلک کر روئی ہو گی ، کتنا سہم گئی ہوگی ، جب اس درندے نےکاروائی کا آغاز کیا ہو گا ، اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ہوگا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے اورکیوں ، وہ کتنا چلائی ہو گی ؟ اماں ، با با ، بھیا کوئی تو آو ، مگر نا ہی ماں کا انچل بچانے آیا ،نا ہی بابا کے مضبوط ہاتھ ،نا ہی زمین پھٹی، نا ہی آسمان ، کتنا تڑپی ہوگی ،کتنا پھڑ پھڑائی ہوگی ؟ تشدد سفاکیت کی انتہا ہو گئی ان درندوں نے اس کو لوٹ لیا ۔

کس کے ہاتھوں میں اس کا لہو تلاش کیا جائے؟ کون منصف ہو گا؟

قصور میں کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ یہ واقعات کئی عرصے سے جاری ہیں جس میں اب تک 12 معصوم بچیاں ہوس کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کی جا چکی ہیں۔

2015 میں بھی ایک ایسا ہی سفاک واقعہ منظر عام پر آیا تھا جس نے ہر زی شعور کے رونگٹے کھڑئے کردیئے تھے ۔ جس میں لڑکوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز بنا کر اہلخانہ کو بلیک میل کیا جاتا تھا۔

اس واقعے کے بعد شہر میں وقفے وقفے سے بچیوں کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کئے جانے کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران 12 کمسن بچیاں جنسی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد ابدی نیند سلادی گئیں لیکن کسی قاتل کوکیفر کردار تک نہ پہنچایا جاسکا۔

ایک رپورٹ کے مطابق جن کمسن بچیوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، ان میں ساڑھے چار سال سےگیارہ سال تک کی عمر کی بچیاں شامل ہیں ۔

ان واقعات میں ملزمان کا طریقہ واردات ایک جیسا ہے، ملزمان بچیوں کو اغوا کرتے ہیں اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر دیتے ہیں اور لاش کسی ویران علاقے یا جوہڑ میں پھینک کر فرار ہو جاتے ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون اورقانون نافذ کرنے والے ادارے ان تمام واقعات میں کہاں ہیں ؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ برائی کو ابتدا ہی میں ختم کردیا جاتا ؟ پہلے ہی واقعے پر قانون نافذ کر نے والے اداروں کا ایسا عبرتناک ایکشن ہو تا کہ پھر دوبار کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچتا بھی نہیں ۔

آج ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہر دل اداس ، کیونکہ زینب کی چمکتی آنکھیں ایک ہی سوال کر رہی ہیں کہ ” میرا کیا قصور تھا؟ کیا میرا حق نہیں تھا میں بھی عمر دارز گزارتی ؟ میری کچی عمر میں مجھ پر اتنا بڑا ظلم کیوں کیا گیا ؟ کیا مجھے انصاف ملے گا ؟ کیا میری عصمت دری کرنے والے ، مجھ پر قیامت ڈھانے والے میرے جیسی اور بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا تے رہیں گے ؟ کیا میرا کیس بھی میڈیا پر ایک دن چل کےرک جائے گا ؟ کیا میرے قاتلوں کی بھی پیشیاں ملتوی ہونے کے بعد انھیں رہا کر دیا جائے گا ؟ کیا میرے قتل کا فوری ایکشن نہیں لیا جاسکتا ؟ کیا حوا کی بیٹی کی عزت کو محفوظ نہیں کیا جاسکتا ؟

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔