پی ٹی آئی ایوان کی اکثریتی نہیں صرف بڑی جماعت ہے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف)/ متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایوان کی اکثریتی نہیں صرف بڑی جماعت ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق رائے سے مجھ پر اعتماد کیا ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اعتماد پر شکر گزار ہوں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف، اسفند یار ولی، حاصل بزنجو، محمود اچکزئی کا شکر گزار ہوں اور الیکشن میں بدترین دھاندلی پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوئیں۔ اس مقصد کو جمہوری روایات کے ساتھ عبور کرنا ہے اور متحدہ اپوزیشن متفقہ امیدوار لانا چاہتی تھی۔

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں امیدوار کے نام پر اتفاق نہ ہوسکا اور پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کو لانے پر بضد ہوگئی۔ ن لیگ کو اعتزاز احسن پر تحفظات تھے اور اعتزاز احسن بڑے بھائی کی طرح ہیں ان سے اعتماد کا رشتہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے کسی امیدوار کو تجویز کرنے کے بجائے میرا نام لیا اور امید ہے آصف زرداری اپنے فیصلے پرنظرثانی کریں گے۔ صدارتی الیکشن سے متعلق آصف زرداری سے ملاقات کروں گا اور صدارتی الیکشن میں بھرپور مقابلہ کریں گے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پاکستان نئے پارلیمانی دور میں داخل ہو رہا ہے اور اپوزیشن کے نمبر ززیادہ ہیں۔ اپنے اندر یہ صلاحیت دیکھتے ہیں کہ فیصلےخود کرسکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایوان کی اکثریتی نہیں صرف بڑی جماعت ہے اور میں نے تجویز کیا تھا کہ وزیراعظم پیپلزپارٹی سے ہو۔ پیپلز پارٹی نے کہا تھا وزیر اعظم ن لیگ سے ہونا چاہیے جبکہ ن لیگ اور پی پی میں اتفاق نہ ہوا، اس لیے میرا نام لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو  قائل کرنے کی کوشش کریں گے اور ن لیگ نے واضح کہا پرویز رشید کا اپنا بیان تھا پارٹی کا نہیں تھا۔ ن لیگ نے پرویز رشید کے بیان سے لاتعقلی کا اظہار کیا اور پیپلز پارٹی کی اگر کوئی مجبوری ہے تو اظہار کرنا چاہیے۔

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم تو سیاسی لب ولہجے میں بات کرتے ہیں اور 2 امیدوار ہونے سے ووٹ تقسیم ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا سو فیصد خیال ہے کہ پیپلز پارٹی والے مان جائیں گے۔