معمولی استعمال کی چیزیں صحت کیلئے خطرناک بھی ہوسکتی ہیں

web

تحریر  :  عنبر حسین  سید

یہ  بات  اپنی جگہ درست ہے کہ  دولت سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے مگر صحت نہیں اس ہی  لیے  کہا جاتا ہے کہ  تندرستی  ہزار نعمت ہے۔ ہم  اچھی  طرح جانتے ہیں  کہ  صحت مند انسان ہی  صحت مند معاشرہ  ترتیب دیتا ہے مگر پھر بھی  ہم  اپنی صحت کے حوالے  سے  ایسی بہت سی لاپرواہی  کر  گزرتے ہیں جو  نا صرف خطرناک ہوتی بلکہ  مستقل بیماری کی وجہ بھی بنتی ہیں ۔

آپ  نےکبھی  غور کیا کہ  اپنی  روزمرہ معمول کی  زندگی میں   اپنے دوستوں  اور  اہل خانہ کے  ساتھ بہت سی چیزیں  شیئر  کرتے ہیں جیسے   اپنا کھانا ، دکھ درد اور باتیں  وغیرہ  یہ  درست ہے کہ  ایک  دوسرے کے ساتھ مل بانٹ کر کھانا آپس میں  قربتیں  بڑھا تا ہے مگر کیا آپ کو علم ہے  ایسی  بہت  سی  چیزیں  ہیں  ،جو   بظاہر ہوتی تو معمولی ہے مگر  ایک  دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے سےآپ خطرناک بیماریوں کا شکار ہو سکتے  ہیں  ۔

آج ہم آپ کو ان ہی  چیزیوں کے بارے میں  بتائیں گے جو بظاہر تو معمولی ہوتی ہیں مگر  اگر ان کے  استعمال میں لا پرواہی  برتی جائے  تو  اس کے  سنگین نتائج  کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

اس لیے اگر آپ بھی   اپنی  صحت سے پیار کرتے ہیں  اور  صحت مند رہنا چاہتے ہیں  تو  کوئی آپ  سے  استعمال کے لیے  اگر  یہ  چیزیں  مانگے تو  انکار کر دیں ۔

نیل کٹر

نیل کٹر ایک معمولی  سی چیز ہے جو ہر گھر میں تقریباً سب  کا ایک ہی ہوتا ہے  مگر کیا  آپ کو معلوم ہے ایک ہی  نیل کٹرکا استعمال بلڈ فلکیز جیسی بیماری کا  سبب بنتا ہے اس کے  علاوہ  بہت سے بیکٹریا بھی  ایک  دوسرے کا  نیل  کٹر  استعمال کرنے سے  ایک  دوسرے میں  منتقل ہوتے ہیں ۔

اس حوالے  سے بات کرتے ہوئے  ڈاکٹر  رومانہ  فیصل نے  بتایا کہ  ان کے  پاس  اک مریٖضہ  آتی تھیں  جن کو  تکلیف تھی کے وہ  جب بھی  اپنے ناخن کاٹتی تھیں تو  ان کی  ناخوں کے قریب کی کھال  میں  پہلے  درد ہوتا پھر  سوج کر  پوری  انگلی پک جاتی تھی  انھوں نے  اپنی مریضہ کو مشوہ دیا کہ  وہ اپنا    نیل کٹر باقی  گھر والوں سے  الگ کر لیں  اور ایسا کرنے  کے بعدسے  پھر  کبھی  ان کو  یہ  شکا یت نہیں  ہوئی   ۔

انھوں نے مزید بتا  کہ  کچھ  افراد کی  جلد بہت  زیادہ حساس  اور نازک ہوتی ہے جو  دوسرے  لوگوں کی جلد میں موجود  جراثیم  سے  فوراًمتاثر ہوتی ہے ۔

انھوں نے  بتا یا کہ  بہت  سی  لڑکیاں  شکایت کرتی ہیں  کہ  ان کے  ناخن  نہیں  بڑھتے  ان کے لیے بھی  انھوں نے  یہ مشورہ دیا ہے کہ  وہ بھی متوازن  اور صحت مند  خوارک ے  ساتھ    اپنا  نیل کٹر  بھی  الگ کر لیں  ۔

CUT

 

 

 تولیہ

ایک دوسرے کا  تولیہ  استعمال کرنا عام سی بات ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے  کہ کسی کا تولیہ استعمال کرنے سےٹاول انفیکشن ہونے کے خطرات ہوتے ہیں۔ایک  دوسرے کا تولیہ  استعمال کرنے سے اسکن  الرجی ، دانے اور خارش جیسے امراض  پیدا ہوتے ہیں کیونکہ  ان کے جراثیم ایک دوسرے کی چیزیں  استعمال کرنے سے آپس میں منتقل ہوتے ہیں ۔

آپ نے کبھی نوٹ کیا کہ  آپ کی  صاف ستھری جلد پر  اچانک  کوئی دانہ  یا مہاسا نکل آتا ہے  اور آپ جب تحقیق کرتے ہیں  کہ  آپ نے کیا لاپرواہی کی  تواس کا جواب آپ کو نہیں  ملتا ۔ ہم آپ کو اس بات کا جواب دیتے ہیں   یقیناً یا تو  آپ نے  کسی کا تولیہ  استعمال کیا ہے یا آپ کا تولیہ کسی نہیں استعمال کرلیا ہے ۔لازمی نہیں  کہ  ایسا جان کر کیا جائے کبھی کبھی  بے خیالی میں بھی ہم  ایک  دوسرے کا تولیہ  استعمال کرلیتے ہیں مگر  جیسا کہ ماہرین نے کہا ہے کہ  زرا سی لا پراواہی بڑی کہ بیماری کی  وجہ بنتی ہے اسلیے خیال رکھیں نہ کسی کا تولیہ استعمال کریں  اور نہ کس کو اپنا تولیہ استعمال کرنے دیں ۔

TOWELS

لپ اسٹک  اور لپ بام

کسی کی لپ اسٹک  یا لپ بام چاہے آپ صاف کر کے ہی کیوں نہ  استعال کریں مگر پھر بھی   جراثیم  ایک دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں  ۔ مثال کے طور پر آپ جس  شخص کی لپ اسٹک یا لپ بام استعمال کررہے ہیں  اوروہ  ہنٹوں کی خشکی اور  ہونٹ  کے پھٹنے جیسے مرض میں مبتلا ہے تو  اس کے  اثرات  آپ تک بھی اس کی  لپ  اسٹک یا  لپ بام  استعمال کرنے  سے پہنچیں گےْ۔

lips

ریزر

ایک  دوسرے کا ریزر  استعمال کرنا سب سے زیادہ  خطرناک ہے اس سے جراثیم  با آسانی ایک  شخص سے دوسرے ہیں منتقل ہوتے ہیں  اس سے پیپاٹائٹس بی  اور سی کے علاوہ ایڈز جیسے مرض میں  بھی مبتلا ہونے  کےبہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں  اسلیے ڈاکٹرز اور ماہرین  ایک  دوسرے کا  ریزر استعمال کرنے کے لیے سختی سے منع کرتے ہیں  ۔

صابن

صابن شیئرنگ  سب سے زیادہ  عام بات ہےمگر کیا  آپ کو معلوم ہے  ایک  دوسرے کاصابن  استعمال کرنے  سے بھی  جراثیم ایک  دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں  ما ہرین کا  کہنا ہے کہ ہر  ایک  کی  جلد  بناوٹ اور ساخت کے  اعتبار  سے مختلف ہوتی ہے  کسی کی  اسکن  چکنی  تو  کسی  خشک ہوتی ہے  اسلیے  اگر اپنی  جلد کی مناسبت  سے  صابن کا  انتخاب نہ کیا جائے  تو  اس کے مضر اثرات  بھگتنے  پڑتے ہیں۔

SOAP

 

  کیا  آپ کو معلوم ہے  بظاہر  یہ معمولی  نظر  آنے  والی  باتیں  ہماری  صحت  اور  جلد کے لیے  کتنی  خطرناک  اور  مضر

صحت ہوتی ہیں اسلیے ماہر امراضِ جلد کا کہنا ہے کہ  جلدی امراض  بہت  ڈھیٹ  اورضدی ہوتے ہیں  ایک بار ہو جائیں تو بہت  مشکل سے  ٹھیک ہوتے ہیں ۔ اس لیے  جلد کی  جتنی حفاظت کی جائے اتنی کم  ہے ۔

لہذا  کوشش کریں  کے  تولیہ  ، نیل  کٹر ،صابن  ، لپ بام  یا لپ اسٹک  اور ریزر  وغیرہ کسی کا  استعمال نہ کریں  کیونکہ  ان  چیزوں  سے  جراثیم براہ  راست  ایک دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں  اور بیماری پھیلانےکا سبب بنتے ہیں  ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔