مچل اسٹارک دنیائے کرکٹ کے پانچویں تیز ترین فاسٹ بولر

تحریر: سعد جابری

آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک کا شمار دنیا کے نامور اور تیز ترین بولرز شعیب اختر، بریٹ لی جیسے گیند بازوں کی فہرست میں ہوتا ہے۔ 30 جنوری 1990 کو پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنے ون ڈے کیریر کا آغاز 20 اکتوبر 2010 میں بھارت کے خلاف کیا اور اپنی شاندار باولنگ سے لوگوں کو حیران کرکے رکھ دیا۔ 

شاندار پرفارمنس کی بدولت سے مچل اسٹارک کو دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں شمار کیا جانے لگا اور کم عمر میں ہی ان کو بام عروج حاصل ہوا۔ اسٹارک کا باؤلنگ ایکشن دیگر گیند بازوں سے مختلف ہے جس کی وجہ سے وہ حریف بلے باز کو گھوما کر رکھ دیتے ہیں۔

مچل اسٹارک کا شمار 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرانے والے باؤلرز میں ہوتا ہے۔ جو بلے بازوں کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ اسٹارک کی عمر ابھی صرف 28 سال ہے۔

آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے اپنے ٹیسٹ کیریر کا آغاز 1 دسمبر 2011 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا جبکہ انہوں نے ٹی 20 کیریر کا آغاز 7 ستمبر 2012 میں پاکستان کے خلاف کیا تھا۔

اگر بات ڈومیسٹک کرکٹ کی کی جائے تو آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے ایک ہی میچ میں 2 ہیٹ ٹرکس کا کارنامہ بھی  انجام دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیو ساوتھ ویلز کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی عمدہ کارگردگی کی بدولت ویسٹرن آسٹریلیا کے خلاف 171 رنز سے اپنی ٹیم کو جیت دلوائی تھی۔ اس میچ میں مچل اسٹارک نے پہلی اننگز میں ویسٹرن آسٹریلیا کے خلاف ہیٹ ٹرک کی اور 4 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگ میں جب ویسٹرن آسٹریلیا کو فتح کے لئے 395 رنز کا بڑا ہدف ملا تو مچل اسٹارک نے ایک بار پھر ہیٹ ٹرک کی تھی۔ جس کے ساتھ ہی نہ صرف میچ میں دوسری ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کا منفرد کارنامہ اپنے نام کیا۔ انہوں نے اس میچ میں مجموعی طور پر 7 وکٹیں حاصل کی اور پہلی اننگز میں 43 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرلیا۔

مچل اسٹارک سے قبل 1978 میں امین لاکھانی نے ملتان میں فرسٹ کلاس میچ کے دوران دو ہیٹ ٹرکس کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا جبکہ مچل اسٹارک ایک میچ میں دو ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے آسٹریلین اور دنیا کے آٹھویں بولر ہیں۔ آٹھ میں سے سات ڈبل ہیٹ ٹرک ڈومیسٹک کرکٹ میں بنائی گئیں ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کی واحد ہیٹ ٹرک آسٹریلیا کے ٹی جے میتھوز نے 1912 میں جنوبی افریقہ کے خلاف بنائی تھی۔

اگر بات بولنگ اسپیڈ کی کریں تو سال 2015 میں نیوزی لینڈ کے خلاف پرتھ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن اسٹارک نے شاندار اسپیل کراتے ہوئے بہترین فاسٹ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے مدمقابل روس ٹیلر کو گیند کرائی جو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ تیز تھی اور اس کی اسپیڈ 160.4 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس اسپیل کے دوران انہوں نے مزید کئی تیز ترین گیندیں کرائیں تھی۔

دنیائے کرکٹ میں تیز ترین بولر کا خطاب شعیب اختر کو حاصل ہے شعیب اختر نے سال 2003 میں عالمی کپ میں انگلینڈ کے خلاف 161.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروا کر دنیا میں تیز ترین بولر بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ان کے بعد تیز ترین بولرز کی لسٹ میں دوسرا نمبر آسٹریلوی بولر بریٹ لی کا ہے جبکہ آسٹریلیا ہی کے شان ٹیٹ تیسرے اور اب مچل اسٹارک چوتھے نمبر پر آگئے ہیں۔

مچل اسٹارک نے اب تک اپنے کیرئیر میں 43 ٹیسٹ میچز کھیلیں ہیں جس میں مجموعی طور پر 5 ہزار 128 رنز دیکر 182 وکٹیں حاصل کیں ۔ اسی طرح ون ڈے کی بات کی جائے تو  اس فارمیٹ میں مچل اسٹارک اب تک 72 میچز کھیل کر مجموعی طور 2 ہزار 955  رنز کے عوض 141 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں جب کہ ٹی 20 فارمیٹ میں مچل اسٹارک 22 میچز کھیل کر 566 رنز دے کر 30 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

بحیثیت بیٹسمین بھی مچل اسٹارک نے عمدہ کارگردگی کا مظاہرہ کیاہے اور ضرورت کے وقت اپنی ٹیم کے لیے کئی کارنامے سرانجام دیے ہیں انھوں نے ٹیسٹ میچز میں مجموعی طور پر 1 ہزار 171  رنز بنا رکھے ہیں۔ ون ڈے میں 72 میچز کھیل کر 262 اور ٹی 20 میں 22 میچز کھیل کر مجموعی طور پر 12 رنز اپنے حصے میں جمع کرچکے ہیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔