موبائل فون45 برس کا ہوگیا

Mobile

3اپریل1973 میں سائنس کی وہ ایجاد منظر عام پر آئی تھی جس کے بنا شاید آج کو ئی سانس لینے تک کا تصور نہیں کرتا جی ہاں بات ہو رہی ہے موبائل فون کی جوآج 45 برس کا ہوگیا ہے جیسے انسان کی آسانی اورسہولت کےلیے ایجاد کیا گیا تھا اس کوبہت سے لوگ وبال جان بھی کہتے ہیں کیونکہ آج کل کی نوجوان نسل ہو یا  بزرگ  گھریلو  خواتین ہوں یا  ورکنگ وومن یہ سب کے ساتھ چپکا ہوا ہے ۔

آج ہی کے دن پہلا موبائل ایجاد کرنے وا لی موبائل کمپنی کے سائنسدان نے اس موبائل سے اپنی اہلیہ کو پہلا فون کیا تھا ابتدا میں ساڑھے تین کلوگرام وزنی پہلے موبائل فون سے صرف 20منٹ بات چیت کرنے کی سہولت متعارف کروائی گئی۔

وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید جدت اور خوبصورتی آتی گئی اور اس نے انسانوں کی زندگی میں وہ آسانیاں پیدا کر دیں جن کا کبھی تصور کیا جاتا تھا دور داز کسی سے بات کر نا ہو یا قریب ہی کسی کو مخاطب کرنا اب موبائل فون کے زریعے سب ایک دوسرے کے شدید قریب آ گئے ہیں ۔موبائل فون آج انسانی زند گی کا ایک اہم جز بن گیا ہے جس کے بغیر شاید اب کوئی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے ۔

اگر ہم موبائل فون کے فوائد کی بات کریں تو شاید کتابیں بھر جائیں مگر اس کے نقصانات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا موبائل فون در اصل ایجاد تو ایمرجنسی کے لیے ہوا تھاکہ کبھی کہیں کوئی مسلہ ہوجائے کوئی کہیں پھنس جائے یا کسی سے دیس یا پردیس میں رابطہ کرنا ہو خیر یت دریافت کرنا ہو تو با آسانی کیا جاسکے مگر ہم نے اس کو 24 گھنٹے کی ایمر جنسی بنا دیا ہے اور ہر وقت اسے کسی فرشتے کی طرح ساتھ لیے گھومتے ہیں ۔

اگرموبائل فون کا استعمال دانشمندی ، عقلمندی اور اعتدال سے کیا جائے تو یہ ہماری زندگی میں کافی آسانیاں پیدا کرتا ہے اور جب سے موبائل نے انٹرنیٹ کا ساتھ پکڑا ہے تب سے تو اس میں چار چاند لگ گئے ہیں موبائل فون  دنیا بھرکی ہر طرح کی معلومات فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔