این اے 57 : شاہد خاقان عباسی کی نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار

لاہور : ہائی کورٹ نے شاہد خاقان عباسی کو این اے 57 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دےدی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں شاہد خاقان عباسی کی تاحیات نااہلی اور الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

 شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے کاغذات نامزدگی میں کوئی اثاثے نہیں چھپائے، اپنے اثاثوں کی تفصیلات کاغذات نامزدگی کے برعکس جمع کرائیں۔

وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویز میں اسلام آباد کے گھر کی مالیت 20 کروڑ ظاہر کی اور کاغذات نامزدگی میں اسی گھر کی مالیت 3 لاکھ روپے ظاہر کی تھی۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد شاہد خاقان عباسی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انکی نااہلی کا ایپلٹ ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دےدیا۔

واضح رہے کہ الیکشن ایپلیٹ ٹربیونل نے شاہد حاقان عباسی کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ادارے اپنے آئینی کردار میں رہیں، دعا ہےکہ ملک کی بہتری کے لیے الیکشن متنازع نہ ہوں۔

نوازشریف سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے کل بھی کہا ان کی اہلیہ بیمار ہیں، وہ جیسے ہی ٹھیک ہوں گی وہ واپس آئیں گے، انہوں نے پیشیاں بھگتیں اور وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔

(ن) لیگ کے رہنما نے کہا کہ انتخابی مہم میں یقیناً نوازشریف کی غیر موجودگی محسوس ہوگی لیکن لیڈر شپ موجود ہے اور ہم فتح حاصل کریں گے۔