قید معطلی کی درخواست: نواز شریف، مریم اور صفدر کے وکلاء کے دلائل مکمل

nawaz

اسلام آباد: ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے قید کی سزا پانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف ، مریم اور صفدر کے وکلاء نے قید کی سزا کے خلاف دلائل مکمل کرلیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا ایون فیلڈ ریفرنس میں قید کی سزا کی معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سابق وزیراعظم اور ان کی صاجزادی کو لندن سے لاہور پہنچنے پر گرفتار کرکے اڑیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے سزا معطلی کے حق میں اپنے دلائل مکمل کیے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ ریکارڈ پر ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے  سربراہ واجد ضیاء کا ایسا بیان نہیں دیکھا گیا جس میں ایون فیلڈ کی ملکیت بتائی گئی ہو جس پر جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا ‘اگر ملکیت نہ بتائی گئی ہو تو پھر نتائج کیا ہونگے؟’

خواجہ حارث نے کہا کہ معلوم ذرائع کا ہی معلوم نہ ہو تو تضادات معلوم نہیں کیے جاسکتے اور جب معلوم ذرائع نہیں بتائے جائیں گے تو عدم مطابقت کا نہیں معلوم ہوسکتا اور یہ بہت بنیادی نکتہ ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‘کیا نواز شریف کا موقف یہ ہے کہ میاں شریف نے جائیداد تقسیم کی ہے؟

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا موقف ہے کہ ان کا جائیدادوں اور سرمایہ کاری سے کوئی تعلق نہیں، عدالت کے سامنے موقف یہ ہے کہ ان کا ان جائیدادوں سے تعلق نہیں ہے۔

جسٹس میاں گل حسن نے پوچھا کہ عدالتی فیصلے میں بے نامی دار کی بات آئی ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا فیصلے میں صرف زیر کفالت کا ذکر ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‘کیا کبھی زیر کفالت کو سزا ہوئی ہے، نیب کا موقف تھا کہ بچے زیر کفالت تھے’ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ بچے نواز شریف کے زیر کفالت نہیں تھے اور ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت بھی موجود نہیں ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پھر سوال کیا کہ سال 1993 میں بچے کس کے زیر کفالت تھے ؟

خواجہ حارث نے بتایا کہ  1993 میں بچوں کا دادا زندہ تھا، فاضل جج نے استفسار کیا کہ میاں شریف کی حیات میں یہ کاروبار مشترکہ خاندانی تھا؟ وکیل نے کہا شیئر ہولڈنگ سب کی تھی۔

میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا فرد جرم میں بے نامی کا ذکر ہے؟

نواز شریف کے وکیل نے جواب دیا کہ فرد جرم اور سزا میں اختلاف واضح ہے ، فرد جرم میں پراپرٹیز کا جہاں بھی بیان آیا ہے وہاں بیٹوں کا ذکر ہے نواز شریف کا تذکرہ نہیں ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مریم نواز کے وکیل امجد پرویز سے استفسار کیا کہ سزا بے نامی دار پر ہوئی، زیر کفالت کے معاملے پر نہیں، مریم نواز کو ٹرائل کورٹ نے بینیفشل اونر قرار دیا اور والد کی پراپرٹی چھپانے پر سزا سنائی۔

وکیل امجد پرویز نے کہا کہ فرد جرم سے نیب آرڈیننس شیڈول تھری اے کو حذف کردیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے کہا تھا اگر جعلی دستاویز جمع کرانا ثابت ہو تو معاملہ متعلقہ فورم کو بھجوایا جائے۔

امجد پرویز نے کہا ‘ نیب کے گواہ رابرٹ ریڈلے فونٹ کی شناخت کا ماہر نہیں تھا، مریم نواز کا کردار تو تب سامنے  آئے گا جب نواز شریف کا اس پراپرٹی سے تعلق ثابت ہوگا۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا کہ ابھی آپ نے یکطرفہ دلائل سنے ہیں، ہم تمام معاملات پر عدالت کی معاونت اور مطمئن کریں گے۔

مریم نواز کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو کل دلائل شروع کرنے کی ہدایت کردی جس کے بعد سماعت 13 ستمبر کے دن سوا 12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔