حکومت کا پیمرا کو ختم کرکے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا اعلان

اسلام آباد : وزیراعلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی تشکیل دی جارہی ہے،ایک ہی اتھارٹی پرنٹ،الیکٹرونک اورسوشل میڈیا کو دیکھےگی۔

تفصیلات کے مطابق وزیرملکت اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  میڈیا کے لوگوں کی آراء کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ پیمرا اور پریس کونسل دونوں کو ختم کررہے ہیں، پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنارہے ہیں جو نہ صرف الیکٹرانک بلکہ پرنٹ میڈیا اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا کو بھی دیکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان سب چیزوں کے لیے ایک ہی ریگولیٹری اتھارٹی ہونی چاہیے، تمام میڈیا پر ایک ہی قوانین اور سنسر لاگو ہونےچاہئیں، اس سے ریاست کے وسائل بچیں گے، تمام اتھارٹیز کو ضم کرکے پروفیشنلز کی اتھارٹی بنائے گی جس میں میڈیا کے لوگ بھی شامل ہوں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ آنے والے دنوں میں وزارت اطلاعات، ریگولیٹری باڈیز اور پی ٹی وی میں بھی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گے، پی ٹی وی میں سنسر شپ ختم کردی گئی ہے، اب لوگ کہتے ہیں کہ پی ٹی وی اپوزیشن کو زیادہ ٹائم دے رہا ہے اس پر اپوزیشن کو ہمارا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے لیے پارلیمنٹ بوگس ہے اور ووٹ جعلی ہیں لیکن وہ اسی جعلی ووٹوں والی پارلیمنٹ سے ووٹ لے کر صدر بننا چاہتے ہیں۔

 فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کا سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ غیر سنجیدہ عمل ہے، اپوزیشن نے بہانہ بنا کر واک آؤٹ کیا، نواز شریف بطور وزیراعظم سینیٹ میں قدم نہیں رکھتے تھے، مگر عمران خان اکثریت نہ ہونے کے باوجود سینیٹ میں آئے۔

انہوں نے کہا دیکھنا ہے اپوزیشن آگے جا کر کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے، گزشتہ حکومت اشتہاروں پر ہی چل رہی تھی، نظرثانی کمیٹی بنائی گئی ہے جو اشتہاروں کے معاملات کو دیکھے گی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا صدارتی الیکشن میں عارف علوی کا پلڑا بھاری ہے، نواز شریف کو عدالت لایا ہی کیوں جاتا ہے، جیل ٹرائل ہونا چاہیئے، جیل میں تمام سہولتیں ہیں، نواز شریف کو عدالت لانے اور لے جانے پر بہت خرچ ہوتا ہے۔