کم جونگ ان کسی بھی وقت امریکی صدرسے ملاقات کو تیار ہیں، شمالی کوریا

پیانگ یانگ : امریکہ کی جانب سے ملاقات منسوخ کرنے کے بعد شمالی کوریا نے کہا ہے کہ ملک کے سربراہ کم جونگ ان کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت میں امریکی صدر سے ملاقات کرنے کو تیار ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کم یی گوان نے امریکی صدر کی جانب سے دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات منسوخ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اس حوالے شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ ملاقات کی منسوخی مایوس ہے، کم جونگ ان کسی بھی وقت صدرٹرمپ سے ملاقات کوتیارہیں۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ سے ہونے والی ملاقات ملتوی کردی، دونوں رہنماؤں کی جون کی 12 تاریخ کو سنگاپور میں ملنا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ کا خط جاری کیا گیا تھا ، جس میں شمالی کوریا کے سربراہ کے نام تحریر تھا، ٹرمپ نے اپنے خط میں کہا تھا کہ کم جونگ کے حالیہ بیان کے بعد اب سنگاپور میں ہونے والی شیڈول ملاقات کا امکان بالکل بھی نہیں کیونکہ شمالی کوریا کے سربراہ ایک بار پھر کھلی دشمنی ظاہر کردی ہے۔

 

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کم جونگ اور امریکا کی انتظامیہ نے سنگاپور میں ہونے والی کانفرنس میں 12 جون کو ملاقات کی تاریخ مقرر کی تھی جو شمالی کوریا کی درخواست پر رکھی گئی تھی۔

ٹرمپ نے اپنے خط میں تحریر کیا کہ میرا خیال تھا بات چیت کے ذریعے ہی دونوں ملکوں کے مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے کیونکہ بات چیت سے ہی تمام معاملات کو سیدھا کرنا ممکن ہے تاہم موجودہ صورتحال کے بعد اب دوبارہ خراب صورتحال پیدا ہوگئی۔

دوسری جانب اس ملاقات کے منسوخ ہونے پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے سے تاسف کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریز نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اورشمالی کوریا جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے راستوں کی تلاش جاری رکھیں۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے بھی اس ملاقات کی منسوخی پر گہری افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سلامتی سے متعلق اہلکاروں کو ہنگامی بات چیت کے لیے طلب کر لیا ہے۔

کانگرس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفیں ان پر کڑی تنقید کر ہے ہیں۔

ملاقات کی منسوخی کی یہ خبر اس کے چند گھنٹوں بعد آئی ہے جب شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس نے اپنی ایک ایٹمی سائٹ کی سرنگیں تباہ کر دی ہیں۔