اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق

APC

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ‘پاکستان الائنس’ کے اجلاس میں شریک جماعتوں نے صدرمملکت کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کا اتفاق کرلیا۔

اپوزیشن جماعتوں کی صدارتی انتخابات کے لیے مری میں ن لیگ کے  صدر شہباز شریف نے اجلاس کی میزبانی کی جبکہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پختونخواہ میپ، نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔

پیپلز پارٹی کے وفد میں یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ، نوید قمر، قمر زمان کائرہ، شیری رحمان ، راجہ پرویز اشرف و دیگر شامل تھے ۔ اے پی سی میں مسلم لیگ ن کی جانب سے شہبازشریف، خواجہ آصف، ایاز صادق، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، طارق فضل شریک تھے جبکہ مجلس عمل کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن، اکرم درانی، عبد الغفور حیدری بھی اے پی سی میں موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) اجلاس میں صدارتی انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اعتزاز احسن کی جگہ متفقہ امیدوار لانے پر زور دیا۔

اجلاس میں صدارتی انتخابات کی حکمت عملی طے کرنے کے ساتھ یہ مشاورت بھی کی گئی کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت کے باعث متفقہ چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر لانے کے لیے کارروائی شروع کی جائے۔

مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی، ذرائع

ذرائع کے مطابق متفقہ صدارتی امیدوار کی نامزدگی پر تاحال فیصلہ نہ ہوسکا اور متفقہ امیدوار کے نام کا فیصلہ کرنے کے لیے کمیٹی قائم ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے اور 3 رکنی کمیٹی میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کے نمائندہ شامل ہیں جبکہ کمیٹی کل شام تک حتمی فیصلہ کرکے اعلان کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ صدارتی امیدوار ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد رہنا پاکستان کی ضرورت ہے۔

کل باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار کا اعلان ہوگا، احسن اقبال

کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اجلاس میں صدارتی امیدوار کے حوالے سےغور کیا گیا ہے اور قابل عمل تجاویزز یر غور ہیں۔ تمام جماعتوں نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق کیا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے وقت مانگا ہے اور پیپلز پارٹی رات تک مشاورت کرکے بتائے گی۔ کل باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار کا اعلان ہوگا اور شہباز شریف مشترکہ امیدوار کا اعلان کریں گے۔

ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ کے نظام پرتحفظات ہیں اور آن لائن ووٹنگ سسٹم کے ہیک ہونے کا خطرہ ہے۔ تمام جماعتوں نے اوور سیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کی حمایت کی ہے اور حکومت ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اے این پی کے میاں افتخار کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور دھمکیاں جمہوری نظام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ چاہتے ہیں تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد رہیں۔