پاک بحریہ کا ترکی کی اسفات اے ایس کمپنی سے چار مِلجَم کلاس بحری جنگی جہازوں کی تیاری کا معاہدہ

اسلام آباد: پاک بحریہ نے ترکی کی اسفات اے ایس کمپنی سے چار مِلجَم کلاس بحری جنگی جہازوں کی تیاری کا معاہدہ کیا ہے۔ اسفات اے ایس ایک ملٹری فیکٹری اور جہاز ساز کمپنی ہے جو ترک وزارتِ قومی دفاع کے ماتحت ہے۔ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب وزارتِ دفاعی پیداوار پاکستان میں منعقد ہوئی۔

اس معاہدے کے تحت مِلجَم کلاس جہاز سازی کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ تیار ہونے والے جہازوں کے ڈیزائن کے ملکیتی حقوق بھی پاکستان کو منتقل ہوں گے۔ پہلا اور دوسرا جہاز استنبول نیول شپ یارڈ جبکہ باقی دو جہاز کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں تیار کئے جائیں گے۔

اس معاہدے کا قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ چوتھے جہاز کا ڈیزائن مشترکہ طور پر پاکستان میری ٹائم ٹیکنالوجیز کمپلیکس تیار کرے گا جو کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والا بحری جنگی جہاز کا پہلا ڈیزائن ہوگا جسے پاکستان میں تیار کیا جائے گا۔

کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں تیسرے اور چوتھے جہاز کی تیاری سے نہ صرف صنعتی پیداوار کے شعبے میں اعتماد سازی اور جہاز سازی کی استعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ ملازمتوں کے نئے مواقعوں اور کراچی شپ یارڈ کے ہنرمند افراد کی صلاحیتوں میں نکھار سے قومی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔

 مِلجَم کلاس جہازوں کی تیاری کے اِس معاہدے سے پاک ترک عسکری تعلقات میں مزید وسعت آئے گی جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط تر ہوئی ہے۔ ان جہازوں کی شمولیت سے پاک بحریہ کی حربی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور خطے میں پاک بحریہ کے میری ٹائم سکیورٹی آپریشنز میں مزید وسعت آئے گی۔

مِلجَم کلاس جہاز با صلاحیت اور انتہائی قابلِ بھروسہ جہاز ہیں جو عصر حاضر کے جدید جنگی جہازوں کے ہم پلہ ہیں۔ یہ جہاز جدید سٹیلتھ ٹیکنالوجی، پانچویں جنریشن کے جدید ہتھیاروں اور سنسرز سے لیس ہوں گے جن پر مقامی سطح پر تیار ہونے والا میزائل سسٹم بھی نصب کیا جائے گا۔

یہ جہاز ہر قسم کی بحری جنگ میں مختلف النوع آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت سے بھر پور ہو ں گے۔ اِن جدید جہازوں کا حصول پاکستان نیول فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا جو خطے میں عالمی پا نیوں میں میری ٹائم سکیورٹی اور استحکام کی ضامن ہیں ۔