دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پانی کا بڑھتا شدید بحران

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پانی کے بڑھتے ہوئے  شدید بحران پر پی ایم ایل این کے رہنما صدیق الفاروق، اے این پی کی رہنما ستارہ ایاز صاحبہ ، پیپلز پارٹی کے رہنما عاجز دھامڑا اور سینیر تجزیہ کار ابراہیم مغل ساتھ خصوصی بات چیت کی۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

پاکستان میں پانی نہیں ہے اور پانی کی پاکستان میں شدید قلت ہے ۔ پاکستان میں پانی کا شدید بحران ہے اور اگر دیکھا جائے تو شدید پانی کی قلت والے 17 ممالک میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے ۔

پاکستان میں اب تک کوئی واٹر پالیسی نہیں ہے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں یہ چیز شامل نہیں ہے ۔ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ کالاباغ ڈیم بننا چاہیے ۔ لیکن دوسری طرف ہم دیکھیں تو ملک میں بہت کرائسز ہیں اس میں اگر ہم ایک متنازعہ چیز کا دوبارہ سے مطالبہ کرتے ہیں تو اس کے کوئنسیکوئنسز کیا ہوں گے۔ جو تحفظات ہیں کالا باغ ڈیم کو لیکر وہ کتنے ویلڈ ہیں ؟ کالا باغ ڈیم ہی واحد حل ہے ذخیرہ کرنے کا اور دوسری بات کے کالا باغ ڈیم کے کیا فوائد اور کیا نقصانات ہیں۔

پی ایم ایل این کے رہنما صدیق الفاروق، اے این پی کی رہنما ستارہ ایاز صاحبہ ، پیپلز پارٹی کے رہنما عاجز دھامڑا ، ابراہیم مغل

سوال: کالا باغ ڈیم بننا چاہیے ؟ وقت کی ضرورت ہے یا نہیں؟

پی ایم ایل این کے رہنما صدیق الفاروق: مسئلہ ہے ہمارے ہاں پانی کا اور دوسرا مسئلہ ہے کہ بارش کا پانی ہمیں ملتا ہے وہ ضائع نہ ہو اس کو بھی ہم ذخیرہ کرلیں۔ اور اس پانی کو ہم زراعت میں بھی استعمال کریں اور جہاں جہاں اس کی ضرورت ہے ۔ ڈیم بنائیں چھوٹے بڑے اور نیچے پانی جو ہے وہ زمین میں جائے اور زیر زمین پانی کی جو سطح آب ہوتی ہے وہ بلند ہو۔ جب تک یہ منصوبہ متنازعہ نہیں بنا تھا ۔ یہ بن جاتا تو بہتر تھا اب سب سے پہلے اس کو متنازعہ بنایا ضیاءالحق کے گورنر اور لیفٹیننٹ جنرل فضل حق نے اس کے بعد انہی کے دور میں انہی کے وزیر مملکت برائے بجلی و پانی ، ظفر اللہ جمالی صاحب نے اس کی مخالفت کی ، ضیا الحق صاحب کی موجودگی میں۔ پھر آئے اور کوشش کی پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ اس کے لیے بڑی انہوں نے تقریبات کی لیکن جب وہ سندھ میں گئے تو ان کے ایک سائیڈ پر وزیر بجلی و پانی لیاقت جتوئی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک سائیڈ پر ان کے ارباب غلام رحیم وزیر اعلی تھے ۔ ان کی موجودگی میں انھوں نے کہا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ ہم نہیں بننے دیں گے کالا باغ ڈیم ۔ بہت سے رہنماؤں کے بیانات آپ نے سنادیے۔ پیپلزپارٹی کے وزیر اعظم نے تو اس کو اسکریپ کردیا ۔ کہ جی مر کر بھی نہیں بنے گا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں منی مم ، 50 ہزار میگاوٹ ٹن بجلی کو پوٹینشن ہے ۔ چوں کے یہ متنازعہ اتنا ہوگیا ہے۔ ایک منصوبہ میں دو سال سے سن رہا ہوں کہ جناب کالا باغ ڈیم بنادیں ۔ جو مخالفت کرتے ہیں ان کو جیل میں ڈال دیں۔ تو ملک اور قوم ایسے نہیں اتفاق رائے سے چلتے ہیں۔

عاجز دھامڑا: چیف جسٹس نے کہا ہے کہ میں سپریم کورٹ میں جاؤں گا۔ کالا باغ ڈیم پر ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی آئینی مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ سیاسی ایشو ہے اس پر تین اسمبلیاں اپوز کرچکی ہیں۔ اور یہ خوامخواہ اپوز نہیں کیا گیا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی جو فزیکل جگہ ہے جہاں پر یہ بننا ہے ایک تو وہاں کا مسئلہ ہے ۔ پہلی بات تو یہ بتائی جائے کہ یہ پانی کے اسٹوریج کا ایشو ہے یا بجلی بنانے کا ایشو ہے ۔ تیس سال پہلے کہا گیا کہ کالا باغ ڈیم سے بجلی بنائی جائی گی۔ سندھ کو جو اعتراض ہے کالا باغ ڈیم سے تو وہ بجلی بنانے سے نہیں ہے ۔

سوال: کالا باغ ڈیم بن گیا تو سندھ کا کیا نقصان ہے؟

عاجز دھامڑا: کالا باغ ڈیم سے 3 ہزار 6 سو میگاواٹ بجلی بنے گی ۔ سندھ کا نقصان یہ ہے کہ پنجاب میں آپ نے دیکھا کہ منگلہ اور تربیلا پر جو ڈیم بنایا گیا اس کے کینال پر کہا گیا کہ سیلاب کے لیے بنائے گئے۔ تو یہاں کی زمین بھی بنجر ہوجائے گی۔ ڈیلٹا کے لیے 91 کے ریکارڈ میں ہے وہ آپ پانی نہیں دے رہے ہیں سندھ کو ۔

اے این پی کی رہنما ستارہ ایاز صاحبہ: مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ کالا باغ ڈیم کا ایشو کیوں اٹھایا جا رہا ہے ۔ اور کیوں ایک متنازعہ بات ۔ اس پر بہت سارے اعتراضات ہیں سب سے بڑا۔ 2010 میں جب سیلاب آیا تو سب نے اس کو دیکھا کہ کس طریقے سے وہ تباہ کن سیلاب تھے۔ اس وقت کے پی میں تین دریا آرہے ہیں۔ کابل اور سوات دریا چارسدہ کے پاس آکر ملتے ہیں اور پھر یہ آگے جا کر نوشہرہ سے ہوکر انڈس سے مل جاتے ہیں اٹک کے پاس، جس وقت سیلاب آیا تھا اس وقت اگر آپ آگے اسی طرح کا بن باندھتے تو ، پیچھے نوشہرہ ، صوابی وغیر بلکل ڈوب جائے گا ۔ آگے جا کر اگر آپ یہ بناتے ہیں تو سندھ میں بھی ٹھٹھہ وغیر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ آپ جب پانی اسٹور کرتے ہیں تو وہ پانی آگے زمین کے اندر ٹریول کرتا ہے ۔ جب یہ ہمارے ساؤتھ سائیڈ پر جائے گا وہاں پر نمک کے آپ کے پاس پہاڑ ہیں وہ وہاں پر جب ٹریول کرے گا تو وہاں پر سارا پینے کا پانی جو ہے وہ نمکین ہوجائے گا۔ باقی جو ہماری زمینیں ہیں وہاں پر وہ بھی ساری کی ساری سیم اور تھور کا شکار ہوجائیں گی۔

سینیر تجزیہ کار ابراہیم مغل: کہا جاتا ہے کہ یہ معاملہ یہاں عدالت میں کیوں گیا تو بھارت میں بھی ایک ڈیم متنازعہ ہوا اور وہ 66 سال بعد اس کا فیصلہ ہوا ۔ اور فیصلہ عدالت نے ہی کیا ۔ اور اب ڈیم بن رہا ہے ۔ کہا گیا کہ یہ ڈیم بجلی بنائے گا یا پانی بنائے گا۔ یہ ڈیم بجلی بنائے گا 3 ہزار 6 سو میگاواٹ ۔ بے شک وہ بجلی کراچی کو روشن کرنے کے لیے صوبہ سندھ لے جائے ۔ پنجاب یا کسی اور صوبے کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ تیسری چیز بتائی کا چشمہ جہلم بنا تو سیلاب کے لیے بنا ۔ لیکن بعد میں پانی چوری کیا گیا ۔ غور سے سن لیں یہ ڈیم آپ بنائیں اس میں 6 ہزار ملین ایکڑ فٹ پانی جمع ہوگا۔

عاجز دھامڑا: ہم پاکستان کی ترقی کے مخالف نہیں ہیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ہم کالا باغ کا نام ہٹا کر گولڈن دیم بھی رکھ دیں گے تو پھر بھی ہمیں اعتراض ہوگا۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم سسٹم اگر بجلی کے لیے بنایا جاتا ہے ۔ بھاشا ڈیم جو ہے وہ پتھریلے پہاڑوں پر ہے اور اس کے آس پاس کوئی آبادی نہیں اور اس کی اونچائی بھی کالا باغ ڈیم سے زیادہ ہے۔ کالا باغ ڈیم کی اونچائی باقی ڈیموں سے کم ہے اور میدانی علاقوں میں ہوگا تو ظاہر ہے اس میں سیلاب کا مسئلہ ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ آپ پانی اتنے بڑے ڈیم میں بھریں گے کہا سے؟

ابراہیم مغل : پہلے انھوں نے کہا کہ سندھ کو پانی کم ملتا ہے ۔ یہ بھی چیز آن ریکارڈ ہے کہ سندھ کا کوئی بھی اضلاع چاہے لاڑکانہ لے لیں وہاں ایک ایکڑ کے لیے نہری پانی 19 کیوسک  اپروف ہے ۔ اور پنجاب کا کوئی وہ ضلاع لے لیں جو سیبیسکو سے اپروف ہے تو وہ 3 کیوسک سے زیادہ نہیں ہے ۔ اگر 3 کے مقابلے میں 19 کیوسک لیکر بھی اگر آپ اولڈایگریکلچر سسٹم جاری رکھیں گے تو پھر آپ پورے کے پورے ڈیم بھی لے لیں تو سندھ کا پانی پورا نہیں ہوسکے گا ۔ کہاں 19 اور کہاں 3 ۔ بھارت نے افغانستان کو کہا کہ آپ اپنے کابل دریا پر 24 ڈیمز بنائے ہیں ۔ انہوں نے پانچ دن پہلے کہاکہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہم بارہ ڈیم بنا سکتے ہیں ۔ اگر انھوں نے بارہ ڈیم بنالیے تو پانی افغانستان میں ہی روکا ہوگا۔

صدیق الفاروق: یہاں ایک صوبے دوسرے صوبے کے نمائندے ایسی طرح تیسرے صوبے کے نمائندے وہ یہ کہتے ہیں جان کا بھی خطرہ ہے زمینوں کے بنجر ہونے کا بھی خطرہ ہے تو نادیہ جب تک ان دوستوں کے یہ خدشات دور نہیں ہوجاتے اس وقت تک کوئی لاکھ لیکچر دے ، قوم کے نمائندے یہ ہیں ان نمائندوں کے سامنے بات رکھنی ہے آپ نے جب ان نمائندوں کی سمجھ میں آجائے گی تو پھر معاملہ ہوسکتا ہے۔

نادیہ: کیا یہ نمائندے کسی فورم پر بیٹھ نے کو تیار ہیں؟

صدیق الفاروق: یہ کئی دفعہ بیٹھیں ہیں دوسری بات یہ ہے کہ جس وقت ملک کو سب سے زیادہ اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور پونے 10 ہزار میگاواٹ بجلی کے تین ڈیم اور دھامڑا صاحب بتارہے ہیں میں نے بھی عرض کیا اس سے بڑھ کر ابھی میں کوئی ڈیڑھ مہینے پہلے میں گلگت بلتستان ہوکر آیا ہوں وہاں 100 میگاواٹ کا 50 میگاواٹ کا 25 میگاواٹ کے 5 میگاواٹ کے کئی منصوبے اور ہیں۔ اوپر چلے جائیں بلتستان کی طرف وہاں اسکردو ڈیم اور دوسرے مجموعی طور پر 50 ہزار میگاواٹ ہائیجل جو سستی بجلی ہے اس کا پوٹینشل موجود ہے اسے ٹیپ کرنے کے بجائے لازمی ہے کہ کنٹرولشرطرف جانا ہے تنازعے کی طرف جانا ہے صوبوں کے درمیان جو ہے وہ جھگڑا پیدا کرنا ہے یہ کیا بات ہوئی۔

ستارہ ایاز: میرا سوال یہ ہے کہ اتنے عرصے کے بعد یہ کالا باغ ذندگی اور موت کیسے بن گئی سب کے لیے کے انہوں نے پھر اس چیز کو اٹھا لیا پانی کا مسئلہ ہے میرا بھی مسئلہ ہے اس لیے کہ میں پاکستان میں ہوں میرا صوبہ ہے وہاں پر بھی ہمارے بھی کھیت ویران ہونگے۔ دیکھیں بلوچستان کا بھی مسئلہ ہے سندھ کا بھی مسئلہ ہے پنجاب میں بھی یہ مسئلہ پانی کا آئے گا اگر ہم ایک کونٹروورشل چیز کو لے کر اور پھر وہی لکیر پیٹتے رہیں تو پھر جو وقت ہمارے پاس ہے اس کو بھی ہم ضائع کررہے ہیں ہمارا اس وقت جو مسئلہ ہے پانی کو زخیرے کو جمع کرنا ہے 2030 تک ہمارا پانی ختم ہورہا ہے ہم اس کو لے کر یہ بڑے بڑے لیکچر بہت مزہ کرتے ہیں آپ بیٹھ کر جب سنیں گے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ جب سارے صوبے اس پر نہیں اتفاق کررہے ہیں تو آپ ٹیکنکل چیزیں ہزار اٹھالیں آپ کیوں لکیر کے فقیر اسی چیز کو دھڑا دھڑ پیس رہیں ہیں ۔

ابراہیم مغل: ستارہ ایاز صاحبہ آپ کا بھی شکریہ اور میرے سندھ والے بھائی آپ کا بھی شکریہ آپ نے ٹھیک کہا میں بھی کہتا ہوں بھاشا ڈیم بننا چاہیے لیکن بھاشا ڈیم اگر کالا باغ سے 3 یا 4 ہزار فٹ نیچا ہو۔ آپ باشا ڈیم بنا بھی لیں 13 اپریل کو یو این او میں بھارت نے جو ایک درخواست دی ہے کیونکہ اس نے کشا کشنڈا بنالیا بغلی ہار بنالیا چوٹک بنا لیا اور بنا رہا ہے اس نے ایک درخواست دی ہے کہ ہمیں دریائے سندھ  پر ڈیم بنانے کی اجازت دی جائے پاکستان نے کہا کہ نہیں ہے اجازت تو اس نے یہ کہا کہ اگر یہ ملک 32 ملین ایکر فٹ پانی ہر سال سمندر میں پھینک رہا ہے۔ اس 32 ملین ایکر فٹ پانی کو ہمیں روکنے کی اجازت دی جائےہم اس سے چاول اور گندم جو پیدا کریں گے وہ دنیا بھر کے غریبوں کو مفت دے دیں گے اگر یہ انٹرنیشل ادارہ مان گیا تو میں اور آپ لوگ صرف ڈھول بجاتے رہے جائیں گے۔

سوال: ابراہیم مغل صاحب سوال یہ ہے کہ یہ جو 32 ہزار ہم نے پانی روکنا ہے کہ یہ صرف کالا باغ ڈیم سے روکنا  ہے ؟

ابراہیم مغل: میں اس لیے کہتا ہوں جیسے میری بہن نے ٹھیک کہا کہ کالا باغ کالا دریا قابل ہو سوات ہو یا انڈس ہو یا چھوٹے چھوٹے اصل میں یہ ہے کہ کالا باغ کا مقام لویسٹ لیول پر آتا ہے آپ جتنے مرضی اوپر ڈیم بنالیں بارشیں گلیشیر اور برف جب پگلتی ہے تو سندھ میں پانی اس مقام پر آکے اپنا پورا زور لگاتا ہے جہاں میکسیمم ڈیلٹا آف واٹر اکھٹا ہوجاتا ہے اور اسی کو آج بھارتی لاپی کبھی کہتی ہے 12 ارب روپیہ سالانہ ڈیم کی مخالفت کروا رہے ہیں۔

ستارہ ایاز: ادھر ہم انڈس کی بات کررہے ہیں ادھر آپ کہہ رہے ہیں کہ انڈس کو وہ پانی روک رہے ہیں ادھر آپ کہہ رہے کہ ڈیم اس میں بنائے انڈس میں چھوٹے چھوٹے بھی بہت سارے ڈیم ہیں آپ چترال جائیں چترال پر آپ اتنے سارے ڈیم بناسکتے ہیں ابھی ہم بڑوں کی بات کررہیں ہیں۔

صدیق الفاروق: بھارت کی آبی جارحیت کے علاوہ جو وہ دیگر جارحیت کرتا رہتا ہے ۔ کشمیر میں جو کر رہا ہے اس کا سب سے مضبوط اور موثر جواب یہ ہے کہ ہم اندرونی طور پر متحدہ ہوں جو ہمارے اسٹریٹجک انٹرسٹ ہیں پانی سمیت ان پر ہمارا اتفاق رائے  ہو، پانی تو وہ روکتا چلا آرہا ہے ، ایوب خان نے 1960 میں یہ کریٹی سائن کی اس وقت بھی جو لوگ تھے وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ بھارت آگے جا کر خشک سالی سے دوچار نہ کردے ۔ ورلڈ بینک نے کہا کہ نہیں یہ دوستوں والی بات ہے ۔ پھر مان لی گئی کہ دوستوں والی بات ہے ۔ منگلہ ڈیم مشرف کے دور میں بنا ۔ یہ جو بارڈر پر تار لگی اس کی اجازت مشرف نے دی ۔ پرویز مشرف جو کتا چھپی ہے ابھی را کے سابق چیف اور اسد درانی کی ۔ انڈیا کے لیے جو سب سے بہتر بندہ آیا ہے وہ پرویز مشرف تھا ۔ ہمیں سب سے زیادہ اتفاق رائے پر بات کرنی ہے ۔

سوال: بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر آپشنز کیا ہیں؟

صدیق الفاروق: بارش کا پانی جو ضائع ہوتا ہے اس کو جمع کرنے کے لیے ڈیم بنائیں جہاں بن سکتے ہیں ، جہاں متنازعہ نہیں ہے ۔

ابراہیم مغل : بھارت نے افغانستان میں کہا کہ چوبیس ڈیم بناؤ اور وہ 12 پر مان گئے ہیں۔ جب اس نے وہ بارہ بنا لیے تو ہم تو کہتے ہیں یہ ہوا ہے ۔ ہوا سے ڈیم نہیں بنتا۔ جس دن اس نے پانی روک لیا ہماری عقل ٹھکانے آجائے گی۔