بد قسمتی سے پاکستان قائد کے وژن سے ہٹ چکا ہے،چیف جسٹس

saqib-Nisar

اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سےپاکستان قائدکےوژن سےہٹ چکاہے،ناقص حکمرانی اورناانصافی ہمارےمعاشرےکاحصہ بن چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال پرفل کورٹ ریفرنس کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے جج،اٹارنی جنرل،بارکےنمائندے اورسینئروکلاء شریک تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سےپاکستان قائدکےوژن سےہٹ چکاہے،ناقص حکمرانی اورناانصافی ہمارےمعاشرےکاحصہ بن چکی ہے،قانون کی حکمرانی سےملک کوقائدکےوژن پردوبارہ لایاجاسکتا ہے ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٓئین کے محافظ کےطورپراپنافرض نبھانےکی کوشش کررہے ہیں، تنقید سے نہیں شرماتے،تنقیدفیصلوں کی بہتری میں مدد کرتی ہے،زیرالتواءمقدمات کےلیےطریقہ کار وضع کردیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بطور محافظ آئین آئینی اور بنیادی انسانی حقوق پر فرض نبھانے کی کوشش کی، عوامی نوعیت کے معاملات میں غیر ملکی اکاونٹس دہری شہریت شامل ہیں کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے قتل کے کیس شامل ہیں جبکہ اسپتالوں میں ناقص سہولیات کی فراہمی اور کٹاس راج مندر کا معاملہ شامل ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا میڈیکل ،لاکالجز کی اصلاحات ،سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق پر اقدامات شامل ہیں، گزشتہ سال کے آغاز پر 37 ہزار کیسز فیصلہ طلب تھے اور 9 ہزار کیسوں کے فیصلے کیے گئے ، فیصلے5سال کےدوران کیس حل کرنے کا سب سے زیادہ تناسب ہے، بقایا کیسز کی بڑی وجہ غیرضروری التوا،جھوٹے مقدمے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ /184کےدائرہ اختیارسےمتعلق سینئرججزکابینج تشکیل دیں گے،پولیس میں اصلاحات اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی ہیں۔انصاف کےراستے میں حائل رکاوٹوں کوہٹانےکےعزم کااعادہ کرناہوگا۔ سپریم کورٹ نے غیر ضروری التوا پر صفربرداشت کی پالیسی اپنالی ہے۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل انورمنصور نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس اہم واقعات اور اقدامات ہوئے، دیوانی مقدمات کےفیصلوں میں تاخیر ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے،مہذب معاشروں میں انصاف کی فراہمی میں تاخیرکاخاتمہ اولین ترجیح رہی۔

انکا کہنا تھا کہ مقدمات جلدنمٹانےکےلیےقوانین بنانےمیں عدلیہ سےتعاون کیاجائےگا،جھوٹی مقدمہ بازی کابڑامسئلہ ہے،ترجیح بنیادوں پرحل ضروری ہے،پولیس نظام میں اصلاحات کےلیےعدلیہ کاموثرتعاون درکارہوگا،نظام میں بہتری کےلیےدوسرے ممالک کےعدالتی نظام کابھی جائزہ لیناچاہیے۔