بھارت میں موت کا انتخاب کرنے کی اجازت

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے دائمی بیماری میں مبتلا مریضوں کو مرضی سے موت کا انتخاب کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی۔

دنیا بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو لاعلاج مرض میں مبتلا ہوکر اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات معالج کی غلط ہدایت کو اصل تصور کرکے بھی مریض زندگی سے مایوس ہوجاتاہے ۔

لاعلاج مرض میں مبتلا اور زندگی سے مایوس مریضوں کے لیے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے مریضوں کو اپنی مرضی سے موت کا انتخاب کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن یہ اجازت خاص ایسے افراد کو دی گئی جو صحت مند زندگی سے دور اور موت سے نہایت نزدیک سمجھے جائیں گے۔

بھارتی سپریم کورٹ  کے چیف جسٹس ججز کا کہنا تھا کہ باوقار طریقے سے موت کو منتخب کرنا ایک انسان کا بنیادی حق ہے اور اگر کوئی مریض  ایسی کسی خواہش کا اظہار کرے تو عدالت کی منظوری کے بعد اس کی جان لی جا سکتی ہے۔

سماعت میں عدالت نے کہا کہ جو شخص مرض الموت میں مبتلا ہو یا نا قابل علاج ہو یہ بے ہوشی میں چلا گیا ہو، ایسی صورت میں ان کو لگائے گئے لائف سپورٹ سسٹم (مصنوعی آلات) ہٹا لینے چاہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ باوقار موت کے خواہش مند مریضوں کے اہلخانہ کو  اس حوالے سے باقاعدہ طور پر عدالت سے رجوع کرنا ہوگا جس کے بعد ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی جو مریض کی خواہش پر فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اس وقت 1973 میں جنسی زیادتی کے باعث دماغی توازن کھونے والی نرس کی باوقار خود کشی کی درخواست مسترد کردی تھی جو بعد ازاں 2015 میں انتقال کر گئی تھی۔ بھارت میں سن 2015 میں اس وقت یہ بحث چھڑی، جب ایک 66 سالہ نرس ’ارونا شان باگ‘ کی ایک دوست نے ان کے لیے عدالت سے ازراہ ہمددردی موت کا مطالبہ کیا تھا۔