شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، وزیر اعظم و آرمی چیف کا عزم

راولپنڈی:  وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے پاک فوج کے ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) میں یوم دفاع وشہداکے حوالے سے ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

جی ایچ کیومیں منعقدہ یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یوم دفاع وشہدا کی مرکزی تقریب میں سب کوخوش آمدید کہتاہوں۔ آج کا دن شہدا سے اظہاریکجہتی کادن ہے۔  6ستمبر1965 قوم کی تاریخ کااہم ترین دن ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دفاع پاکستان کےلیے ہم سب یکجان ہیں ۔ آج ہمارے حوصلوں میں مزیداضافہ ہواہے۔ ہمارے گھروں ،تعلیمی اداروں پرحملے کیےگئے اور شہیدوں کا خون رائیگا نہیں جائے گا۔

سپہ سالار کا کہنا تھا کہ آج ہمارے حوصلوں میں مزید اضافہ ہوا ہے  ،  ہمیں تقسیم اورکمزورکرنے کی کوشش کی گئی۔  ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں پرحملے کیےگئے۔ زندہ قومیں اپنے شہداکوکبھی نہیں بھولتیں ۔ یقین دلاتاہوں شہداکاخون رائیگاں نہیں جائے گا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہماری افواج اورقوم نے دہشت گردی کےخلاف بےپناہ قربانیاں دیں۔ جمہوریت آئین اورقانون کی بالادستی کےبغیرپنپ نہیں سکتی۔ قوم آج پہلےسےبھی زیادہ پرعزم اورمضبوط ہے۔ دہشت گردی کےناسور کامل کرمقابلہ کیا۔ مقبوضہ کشمیرکےبہن بھائی لازوال قربانیاں پیش کررہے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ جنگوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھاہے۔ سلام ہےقوم کو جو ہرمشکل وقت میں ڈٹی رہی۔  ہم پاکستانی کسی مشکل سے گھبرانے والے نہیں۔ عوام کےبغیرقیام امن کاحصول ناممکن تھا۔ ہم نے ملکی دفاع کومضبوط کیا،وطن کو ایٹمی قوت بنایا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70ہزارپاکستانی شہید ہوئے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر کے بعد میزبان کی درخواست پر تقریب میں شریک مہمان خصوصی وزیراعظم عمران خان نے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ یادگار شہدا پر حاضری دی اور پھول چڑھائے جس کے بعد انہوں نے خطاب کیا۔

وزیر اعظم عمران خان کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور 6 ستمبرکی رات فائرنگ کی آوازیں کبھی نہیں بھول سکتا۔ جنگ کے دن اپنے والدین کے چہروں پر خوف دیکھا اور 12 سال کی عمر میں والد کی بندوق پکڑی اور ڈیوٹی دینے پہنچ گیا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 1965 میں اتحاد کی ایسی لہر تھی کہ پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی تھی اور اگر کرکٹ میں نہ جاتا تو فوج میں جاتا۔ ہماری خارجہ پالیسی وہ ہوگی جو پاکستان کی بہتری ہوگی اور فوج میں میرٹ کا سسٹم ہے کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی مداخلت سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں اور ہماری مسلح افواج پروفیشنل ہے۔ کوئی ملک ہماری فوج اور انٹیلی جنس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور پاکستان وسائل سے مالا مال ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج ،انٹیلی جنس ایجنسی نے جنگ میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور پاکستان کے آج بڑے مسئلے ہیں ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ ملک اٹھے گا پاکستان عظیم قوم بنے گی اور سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سول ملٹری کا کردار ایک ہی ہے ہم سب متحد ہیں اور نہیں چاہتا پاکستان کسی اور کی جنگ میں پڑے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے بعد مزید دہشت گردی بڑھی اور سب کا ایک ہی مشترکہ مقصد ہے پاکستان کو آگے لیکر جانا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب غریب کو ان کے حقوق ملیں گے تب وہ قوم کاحصہ بنیں گے اور کچھ لوگوں کے امیر ہونے سے قومیں نہیں بنتیں ہیں۔ ہمارا مقصد اور منزل ایک ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جو قوم متحد ہوتی ہے وہ اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہے اور پاکستان کسی اور کی جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔ ملک کے کمزور اداروں کو مضبوط کریں گے اور منزل کے حصول کے لیے ہرشہری کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

تقریب میں وزیراعظم عمران خان بطور مہمان خصوصی اہلیہ بشریٰ بی بی کےہمراہ شریک ہیں۔ دیگر شرکاء میں وزیردفاع پرویزخٹک، وزیرخزانہ اسد عمر ، وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی،وزیراطلاعات فوادچوہدری ، وزیر ریلوے شیخ رشید ، وزیرمملکت داخلہ شہریارآفریدی ، مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف ، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو ، شاہدآفریدی سمیت دیگر سیاسی رہنما اور کھلاڑی شامل ہیں۔