ن لیگ بھرپورقوت کے ساتھ بطور اپوزیشن کردار ادا کرے گی، شہبازشریف

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہناہے کہ قومی اسمبلی میں انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر بھر پور آواز اٹھائیں گے اور اپنی پوری قوت کے ساتھ بطور اپوزیشن کردار ادا کریں گے۔

پارٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی پنجاب اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہناتھا کہ یہ تاریخ کا سب سے متنازعہ الیکشن ہواہے اور ہم نے انتخابات کے دن25جولائی کی رات ہی الیکشن نتائج کومستردکردیاتھا لیکن  ہم جمہوریت کوتحفظ دینے ایوان میں آئے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں دھاندلی پر بھرپور آوازاٹھائیں گے ، انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ ایوان کے باہربھی دھاندلی کے معاملے پرکردار ادا کریں گے۔

سابق وزیر اعلی پنجاب کا کہناتھا کہ ن  لیگ بھرپورقوت کےساتھ بطوراپوزیشن کردار اداکرے گی۔ انکا کہنا تھا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن15اگست کوہوگا جس کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے مجرم ٹھہرائے گئے سابق وزیر اعظم کو بکتر بند کے ذریعے عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا جس پر اعتراض کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ جس طرح نواز شریف کو احتساب عدالت لایا گیا اس پر قوم شرمندہ ہے۔

شہباز شریف کا برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک کوایٹمی قوت بنانے والےکو یہ صلہ مل رہاہے اگر ان کو عدالت لانے میں سیکیورٹی خدشات لاحق تھے تواس کا کوئی اورحل نکالاجاسکتاتھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوازشریف کے ساتھ ایساسلوک نہ کیاجائے۔

واضح رہے کہ 13 اگست کو 15ویں قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا جس میں اسپیکر ایاز صادق نے نومنتخب ارا کین سے حلف  لیا۔ اس موقع پر ایوان میں چیئرمین پی ٹی آئی کے عمران خان، آصف زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو ،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، عوام مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، چوہدری نثار، شاہ محمود قریشی،اسد عمر، پرویز خٹک، شیریں مزاری،راجا پرویز، یوسف رضا گیلانی اور منزہ حسن سمیت دیگر رکن قومی اسمبلی موجود تھے جنہوں نے حلف اٹھایا۔

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے حصے میں  125جنرل، خواتین کی 28 اور اقلیتوں کی پانچ مخصوص نشستیں آچکی ہیں جن کی کل تعداد 158 بنتی ہے لیکن دو نشستوں پر کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی کو اپنی ایک سیٹ سے دستبردار ہونا ہوگا جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کی نشستوں کے نمبرز میں کمی ہوگی۔

172 نشستوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے تحریک انصاف کو ایم کیو ایم پاکستان کی 7، مسلم لیگ ق کی 5، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5 اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی 4 نشستوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے حصول کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نمبر 82 پر پہنچ گیا ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد 52 ،متحدہ مجلس عمل 15 نشستوں کے ساتھ ایوان میں عوام کی نمائندگی کرے گی۔

واضح رہے کہ نو منتخب وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب 18 اگست کو ایوان صدر میں منعقد کی جائے گی۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا ہے ۔ جن کی حلف برداری کی تقریب میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑی خصوصی طور پر شرکت کریں گے۔