ن لیگ کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب پر تحفظات

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ن لیگ کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب پر تحفظات پر جنرل (ر) امجد شعیب، سینیر تجزیہ کار عمار مسعود ، سابق ایڈیشنل سیکرٹری ای سی پی محمد افضل خان اور مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور اتنے ہی زیادہ مسائل ہیں ۔ اور جتنا بڑا سیاسی میدان اتنا ہی بڑا سیاسی جماعتوں کے لیے امتحان اور شاید یہی وجہ ہے کہ پورے صوبے کی سیاست ایک طرف اور پنجاب کی سیاست ایک طرف ،۔ اسی لیے ہم نے جب نگراں وزیر اعلی کا معاملہ دیکھا ۔ پنجاب کے وزیر اعلی کے لیے جو پہلے نام آیا تھا ناصر کھوسہ صاحب کا لیکن پی ٹی آئی نے یوٹرن لیا اور انہوں نے کہا کہ غلطی ہوگئی ، جلد بازی ہوگئی جس پر پی ایم ایل این کو برا بھی لگا اور انہوں نے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ پارلیمانی کمیٹی کے بعد یہ معاملہ گیا الیکشن کمیشن کے پاس ۔ اور الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر اس نام کو پروفیسر حسن عسکری کے نام کو بطور نگراں وزیراعلی پنجاب جو کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دیا گیا تھا ۔ اس لیے ن لیگ کی اعلی قیادت ساری کی ساری سر جوڑ کر بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے بعد کھڑی ہوئی اور کہا کہ ہم اس کو مسترد کرتے ہیں۔

سوال: یہ جو نام مسترد کردیا ہے اورتحفظات کا اظہار کیاہے یہ تحفظات ، صرف تحفظات ہی رہیں گے یا اس کے آگے پیچھے بھی کچھ ہوسکتا ہے؟

سینیر تجزیہ کار عمار مسعود: آج نگراں وزیر اعلی کا جو معاملہ ہوا یہ خوش اسلوبی سے حل ہونا چاہیے تھا ۔ اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن پی ٹی آئی نے جس طرح سے اپنی انتظامی کمزوریوں کا اظہار کیا ہے اس سارے معاملے میں ۔ اور اپنا مذاق اڑوایا ہے کبھی کسی کا نام لیکر ، کبھی کسی کا نام لے رہی ہیں۔  کچھ دوست لاہور میں ملے محمود الرشید کے نام سے اور وہ رونے والے ہورہے تھے اور انہوں نے کہا کہ انھوں نے نہ صرف میری سیاست ختم کردی ہے ۔ ایک کمیٹی بیٹھتی ہے اور بیٹھ کر فیصلہ کرتی ہے ۔ خان صاحب مجھے میسج کرتے ہیں میں لوگوں کو بتاتا ہوں۔

سوال: جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو میاں صاحب چاہے احتساب عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ہوں ہر چیز کو لیکر وہ کہتے ہیں یہ پری پول ریگنگ ہیں۔ ادارے جو ہیں وہ ہمارے خلاف ہیں ۔ اور انہوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ الیکشن میں ہمارا خلائی مخلوق سے مقابلہ ہوگا۔ تو ان کو نام کی وجہ سے تو حسن عسکری کے خلاف ہیں کیوں کہ ان کے نام پر عسکری آتا ہے۔

جنرل (ر) امجد شعیب: جہاں تک خلائی مخلوق کا تعلق ہے اور میاں صاحب کی بات ہے ۔ تو وہ ساری باتیں ہوچکی ہیں۔ میاں صاحب کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے تو کبھی کسی پر الزام تو کبھی کسی اور پر الزام ۔ اگر حسن عسکری صاحب قابل قبول ہوتے ن لیگ کو تو دونوں پارٹیوں میں جو بات چیت ہورہی تھی فیصلہ اسی میں ہوجاتا ۔ وہاں فیصلہ نہیں ہوا اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ نیچرلی ان کو حسن عسکری صاحب قبول نہیں تھے۔

سوال: یہ صرف واویلا ہے کہ مسترد کردیا۔ کچھ ہوسکتا ہے یا شور شرابہ سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں؟

سابق ایڈیشنل سیکرٹری ای سی پی محمد افضل: بات یہ ہے کہ اگر سونا پاک ہوتا ہے تو پھر آگ میں ڈالنے سے کوئی بات نہیں ہوتی ۔ آپ کو ایمپائر چاہیں اور اگر آپ کو نیوٹرائل ایمپائر مل جائیں تو انتہائی خوش قسمتی کی بات ہے ۔ جو پرائم منسٹر ہیں آج نگراں جو پرائم منسٹر ہیں انھوں نے جو ڈیشل کمیشن میں فیصلہ دیا تھا ۔ اندھے کو بھی وہ ریگینگ نظر آسکتی ہے۔ انہوں نے چار حلقوں میں سے ایک حلقہ بھی ٹیسٹ کیس کے لیے کھلوایا ہوتا تو ان کو دیکھ جاتا ۔ اندھے کو بھی نظر آرہا تھا اور انہوں نے سب کو بلایا لیکن مجھے نہیں بلایا۔ تمام ملک کی سیاسی جماعتوں نے کہا کہ یہ ریگ الیکشن ہے ۔ اس بوگس لیز آف لائف کو جس کو پی ٹی آئی نے مانا میں آج بھی نہیں مانتا ۔ اسلیے کہ وہ حقیقت پر مبنی نہیں تھا یہ سیاسی فیصلہ تھا ۔

سوالی: عمار مسعود صاحب جو باتیں انہوں نے کی ہیں اس سے تو انہوں نے کہا یہ اسٹیبلش کیا۔ اس کے باوجود بڑی خندہ پیشانی پی ٹی آئی نے اس کو ایکسیپٹ کیا اور ویلکم بھی کیا تو یہاں پر یہ اعتراض کیوں اٹھایا گیا اور ایک رائے آپ کی لینی ہے آپ پروفیسر حسن عسکری صاحب کو باعث سمھجتے ہیں۔

عمار مسعود: دیکھیے نادیہ میڈیا میں جو لوگوں کی پرسنالیٹی ہے اور پرسیپشن بنتی ہے نہ اس کے لیے ڈیکٹس لگتے ہیں آپ کی ایک پرسنیلٹی ہے امجد شعیب صاحب کی ایک ہے افضل صاحب کی ہے اس طرح حسن عسکری صاحب کی ہے لوگ برسوں سے ان کو پڑھتے ہیں ان کے خیالات کو جانتے ہیں کچھ اتفاق کرتے ہیں کچھ اختلاف کرتے ہیں جو ان کا ایک خاص ٹیل ہے پی ٹی آئی وہ بڑا ابویس ہے وہ اپنے روز اور اس میں کسی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے روز شام میں وہ دنیا ٹی وی پر پروگرام کرتے تھے سپورٹ کرتے تھے لیکن یہ خطرے کی بات نہیں ہے۔ جو بھی تجزیہ ہے وہ اگر کسی پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں یہ جمہوری عمل کا حصہ ہوتا ہے میں اس کو بورا نہیں سمھجتا لیکن جو خطرناک بات ہے جو حسن عسکری صاحب کے حوالے سے وہ انہوں نے بے تحاشہ جگہ یہ کہا بھی ہے یا لکھا بھی ہے کہ الیکشن ڈیلے ہونے چاہیے دوسری بات یہ ہے انہوں نے دھرنوں کے دنوں میں تقریبا اس ملک میں مارشل لاء لگوادیا اور جب عمران خان امپائر کی آواز لگایا کرتے تھے تو اس کے اوپرجو صداقت کی لبیک کہا کرتے تھے تو حسن عسکری صاحب کہتے تھے تو جس طرح کا ریکشن پی ایم ایل این کی طرف سے آیا ہے شاہد خاقان عباسی کی طرف سے آیا ہے احسن اقبال نے ایک بات کی ہے یہ بڑا جینون ریکیشن ہے اس لیے کے انھیں خطرہ ہے کہ کہیں الیکشن ڈیلے نہ ہوجائے جو سعد رفیق لیکن ان سب کے باوجود میں آپ کو بتاؤں کے یہ استاد ہیں۔

استاد کا احترام بے انتہا ضروری ہے اس معاشرے میں یہ احترام کرنے کی عادت نہیں ہے جو سعد رفیق نے مشورہ دیا ہے وہ اس وقت سب سے سادہ مشورہ ہے کہ ایک استاد ہے جس کی بہت عزت ہوگی اپنے حلقوں میں اگر ان کی ذات پر اور ان کے حوالے سےکوئی کونٹرورسی ڈیولپ ہورہی ہے تو میرے خیال میں بہتر مشورہ یہ ہے کہ وہ خود ریزائن کردیں۔

سوال: یعنی کے کوئی ایسا الیکشن کمیشن اناونس کردیں جو پی ایم ایل این کو سوٹ کرتا ہو یا پی ایم ایل این کا نامزد گردہ ہو

عمار مسعود: آپ دیکھیے باقی لوگ بھی سارے سلیکٹ ہوئے ہیں میری خواہش یہ تھی الیکشن کا زمانہ ہے تو نون کنٹرورشل کوئی شخصیت ہونی چاہیے تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمٰی بخاری: عسکری صاحب کا ایک واضح جھکاو جو ہے وہ موجود ہے ایک جماعت کے ساتھ وہ صرف ہمارے کہنے سے نہیں ہے ۔ فواد صاحب پی ٹی آئی کے کہہ رہے تھے کہ باقی صوبوں کے اندر بھی ہمارے دیے ہوئے ناموں کے علاوہ لوگ آئے ہم نے اعتراض نہیں کیا۔ لیکن وہ دیے ہوئے نام بلیک اینڈ وائٹ تھے اپنا مائنڈ نہیں بتا چکے ہیں۔ ہم نے باقی صوبوں میں ویلکم کیا ہے ۔ عسکری صاحب اس لیے منفرد ہیں کہ ان کی جتنی بھی رائے ہے وہ بلیک اینڈ وائٹ میں موجود ہیں ۔ ہمارے گیارہ کروڑ کے صوبے کے اندر ایسا کوئی نیوٹرئل شخص نہیں ملا جو یہ چلا سکے ۔

ہمارے لیے تعصب اور پی ٹی آئی کے لیے ایک سافٹ کارنر موجود ہے جس کا وہ برملا اظہار کئی دفعہ کرچکے ہیں۔ اب اس کو وہ ایمپلیمنٹ کیسے کرتے ہیں ، اب اس کے اوپر وہ کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے وہ پتہ نہیں ۔

جنرل (ر) امجد شعیب: بات یہ ہے کہ اگر ان کے تحفظات اگر ہم سمجھ لیں جائز ہیں اور جو کچھ وہ کہہ رہی ہیں وہ قابل تشویش ہے لیکن اس کے لیے کاونسٹیٹوشن حل سجسٹ کریں اور کیا ہے ۔ اگر آپ کو ایسے قابل قبول نہ ہوتے تو آپ آپس میں فیصلہ کرچکے ہوتے ۔ وہ تو نہیں ہوا  ۔ اب یہ تیسرا اسٹیپ تھا جو آکر یہی ختم ہونا تھا ۔