وزیر اعلی پنجاب کے لیے حسن عسکری کے نام پر ن لیگ کو اعتراضات

لاہور: وزیر اعلی پنجاب کے لیے حسن عسکری کے نام پر ن لیگ کو اعتراضات اور تقرری کو مسترد کردیا گیا۔

لاہور میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور سعد رفیق کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ن لیگ نے نگراں سیٹ اپ کے لیے غیر جانبدار نام دیئے ہیں اور حسن عسکری کا نام وزارت اعلیٰ کے لیے منتخب کرنا بد قسمتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہمارے نامزد کردہ افراد اچھی شہرت کے حامل تھے اور نگراں سیٹ اپ کے لیےغیر جانبدار وزیر اعلیٰ کا ہونا ضروری ہے۔ ن لیگ کے بارے میں حسن عسکری کے خیالات سب جانتے ہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ الیکشن میں تاخیر سے متعلق حسن عسکری کی واضح تحریریں موجود ہیں اور ٹوئٹس اور آرٹیکلز بھی مسلم لیگ ن سے تعصب کا اظہار کرتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے پنجاب میں انتخابات مشکوک بنا دیئے ہیں اور پنجاب میں الیکشن شفاف نہیں ہوں گے عوام رد کردیں گے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تقرری رد کرتی ہے اور شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ الیکشن چاہے زمینی مخلوق کرائے یا خلائی ہم ہرحال میں لڑیں گے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن متنازع ہوگا تو ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگا اور 25 جولائی کو انتخابات ہونا ملک کے لیے ضروری ہیں۔ ہم نے کراچی میں امن قائم کیا ہے اور اگر الیکشن متنازع ہوگا تو ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگا۔

سابق وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو انتخابات ہونا ملک کے لیے ضروری ہیں اور ہم نے کراچی میں امن قائم کیا ہے۔ سی پیک کی صورت میں ایسا درخت لگایا جس کا پھل آئندہ نسل کھائے گی اور پاکستان کےعوام سے کہتا ہوں ووٹ کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو اندھیروں سے نکال کر روشن کیا ہے۔

سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم پروفیسر حسن عسکری کا احترام کرتے ہیں اور حسن عسکری کے سیاسی نظریات مختلف ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر حسن عسکری غیر جانبدار نہیں ہیں۔