ن لیگی رہنما امیر مقام نیب پشاور میں پیش

پشاور : نیب خیبرپختونخوا میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے کیس میں پیش ہوئے۔

قومی احتساب بیورو کے حکام کے مطابق امیرمقام پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے جس میں ان کی اسلام آباد، لاہور اور پشاور کی بیش قیمتی پراپرٹی شامل ہیں۔امیر مقام پر اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں جائیدادیں جبکہ سوات، شانگلہ اور پشاور میں زرعی اراضی خریدنے کا الزام ہے۔

اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو آج نیب ہیڈکواٹر طلب کیا گیا ہے، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی، جس کے لئے انھیں سوالنامہ  دیا گیا۔امیرمقام نے نیب حکام کو بتایا کہ وہ انتخابات کے باعث مصروف تھے جس کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے۔

نیب ہیڈ کوارٹر میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امیر مقام کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے انہیں سوالنامہ دیا گیا ہے، تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہوں، نیب کو تمام تعمیراتی منصوبوں کی تفصیلات دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 28 لاکھ ووٹ لینے والے پی ٹی آئی کی پرفارمنس کیا ہے ؟ جتنے تعمیراتی منصوبے بنائے ان میں نقائص ہیں۔

امیر مقام نے مزید کہا کہ صوبے میں ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی گئی۔ ان کا کہناتھا کہ میرا کاروبار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، جو شخص عمران خان سے نہ ملے وہ چور اور جو مل جائے وہ دودھ سے دھلا ہوتا ہے۔ امیر مقام کے مطابق وہ پی کے فور میں صرف 47 ووٹوں سے ہارے، پی کے 4 میں چار تھیلے غائب ہیں پتہ نہیں انہیں دریائے سوات میں پھینک دیا گیا ہے یا کہیں اور، امید ہے نیب خیبرپختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کی بھی تحقیقات کرے گی جسے رکشہ کی طرح استعمال کیا گیا۔

واضح رہے کہ امیر مقام کو اس سے قبل نیب حکام نے دو بار طلب کیا تھا تاہم وہ حاضر نہیں ہوئے تھے۔