بڑی عید کی بڑی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل

بڑی عید کی بڑی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں ۔ 

عیدالاضحیٰ کی تیاریاں عروج پر ہیں کسی کو ہے ابھی تک جانور کی تلاش، تو کوئی قصاب کے نخرے اٹھا رہا ہے،کسی نے چھریاں چاقو تیز کر رکھے ہیں،تو کوئی سبزیاں مصالحے کی قیمتوں سے پریشان ہے۔

 جی ہاں بڑی عید کا کاؤنٹ ڈاؤن آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے شہریوں کا جوش و خروش دیدنی ہے کسی نے سنت ابراہیمی کے لئے جانور خرید لیاہے تو کوئی ابھی تک مویشی منڈی کے چکر اس آس پر  لگا رہا ہے اسے اس کی مرضی کا جانور مناسب قیمت میں مل جائے ۔

جانور کی خرید کے لیے بچوں اور بڑوں دونوں کی پسند کا الگ معیار ہے کسی کو تگڑا جانور چاہے ،تو کسی کو خوبصورت، کسی کو لڑنے لڑانے والا دنبہ پسند ہے،تو کسی کو سیدھا سدھا  بکرا۔ جن کو من بھاتا جانورمل گیا ہے  ان کی خوشی دیدنی ہے ، اور جن حضرات  کو من بھایا جانور نا ملا سکا وہ منڈی کے چکر پے چکر کاٹ رہے ہیں ۔

خریداروں  کا  کہنا ہے کہ  اب  جب  عید  سر پر  آ ہی  گئی ہے تومنڈی سےمویشی جیسے غائب ہی ہوگئے ہیں  ۔

جو جانور لے آئے ہیں اب وہ قصائیوں کے نخرے برداشت کر رہے ہیں قصائیوں کے جانور  ذبح کرنے کےمعاوضے جو پچھلے برس  تھے  اب  دوگنے ہوگئے ہیں قصائیوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی  بڑھ گئی اس لیے ریٹ بھی بھر گئے ہیں ۔

قصائی کی  خدمات  حاصل ہو جانے کی  صورت میں ایک  نئی  فکر لاحق  ہو جاتی ہے کہ کہیں قصائی موسمی نہ ہو قصائی وقت پر آجائے تو کھال ٹھیک سے اتار دے، بوٹیاں مناسب بنادے اور ساتھ  پائے  ضرور بنا کے  جائے  ۔

یاد رہے کہ  ان  دنوں میں  سیزن قصائی  بھی  منظر  عام پر  آتے ہیں  جو  صرف اپنے شوق یا پیسے کمانے کی غرض سے موسمی قصائی  بن جاتے ہیں مگر جونکہ وقت کم اور مقابلہ سخت ہوتا ہے  اس لیئے  ان  قصائیوں کی خوب چاندی ہوتی ہےجبکہ  پروفیشل قصائی تو آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں ۔

دوسری جانب خواتین کو مزے مزے کے کھانے پکانے کی فکر ہے، قربانی کے پہلے دن کیا پکے گا کلیجی میں کیسا مصالحہ ڈالے گا۔

وقت سے پہلے مصالحوں اور سبزیوں کی خریداری کا آغاز بھی ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ٹماٹر،لہسن، ادرک ،لیموں ، ہرا دھنیا ،پودینا اورپیاز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

مگر شہر کراچی کی عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی تو بڑھی ہے مگر کیا کریں عید تو کرنی ہے ۔خیال رہے کہ جانوروں کی خرید و فروخت کا یہ سلسلہ عید کے دوسرے دن تک جاری رہتا ہے گاہک یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ عید کے دوسرے دن جانور خریدیں گے تو شاید سستا مل جائے جبکہ بیوپاری حضرات کا کہنا ہوتا ہے کہ جانور نہیں بکا تو کوئی بات نہیں قصائی کو بیچ دیں گے ۔