صدرمملکت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم آرڈیننس پر دستخط کردیے

اسلام آباد : صدر مملکت ممنون حسین نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم آرڈیننس پر دستخط کردیے جس کے بعد بیرون ملک سرمایہ اور اثاثے 2 فیصد ٹیکس ادا کرکے پاکستان لائے جاسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صدرمملکت ممنون حسین کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم آرڈیننس پر دستخط کردیے گئے جس کے بعد بیرون ملک سرمایہ اور اثاثے 2 فیصد ٹیکس ادا کرکے پاکستان لائے جاسکتے ہیں۔

ایمنسٹی اسکیم کے تحت آف شورکمپنی والے بھی اسکیم سےمستفیدہوسکیں گے، اسکیم کےتحت ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پرٹیکس ختم کردیا گیا جب کہ 12سے24لاکھ سالانہ آمدن پر 50فیصدانکم، 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر10فیصد، 48لاکھ سےزائدسالانہ آمدن پر  15 فیصد ٹیکس عائدہوگا ۔  ایمنسٹی اسکیم سے30 جون 2018 تک فائدہ اٹھایاجاسکتا ہے جب کہ ایمنسٹی اسکیم کےآرڈیننس پرفوری طورپراطلاق ہوگا۔

واضح رہے کہ رواں سال 5 اپریل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ٹیکس ناد ہندگان کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا تھا ۔

اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں7 لاکھ لوگ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ٹیکس ادا کرنا پوری دنیا میں شہری کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ٹیکس گزاروں کی محدود تعداد معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے اور انکم ٹیکس ادا نہ کرنے سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انکم ٹیکس سسٹم میں جدت لانا چاہتے ہیں اور نظام کی جدت سے انکم ٹیکس وصولی میں کرپشن ختم ہوگی۔ قومی شناختی کارڈ نمبر ہی انکم ٹیکس نمبر ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا اور 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شہری انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر 10 فیصد ٹیکس ہوگا اور 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم سے ٹیکس دہندگان کی شرح بڑھے گی اور بیرون ملک سے رقوم کو قانونی طریقے سے لانے پر صرف 2 فیصد جرمانہ ہوگا۔

سابق چئیرمین سینٹ رضاربانی نے ایمنسٹی اسکیم بگ بزنس کولائسنس دینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ  غیر قانونی طریقے سے پیسہ کمانےکی اجازت دی جارہی ہے جب کہ یہ تمام اسکیمزسرمایہ داروں، ایلیٹ کلاس کے فائدےکے لیے ہیں۔