شہر قائد کا ورکرز کس جماعت پر کرے گا اعتماد؟؟

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں کراچی کی سیاسی صورتحال پر پی ٹی آئی کے رہنما رشید گوڈیل، ایم کیو ایم کے رہنما عتیق الرحمٰن، پیپلزپارٹی کی رہنما سحر کامران اور جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمن سے خصوصی گفتگو کی۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

22  اگست کے بعد اس پارٹی کو اتنا ڈیمیج نہیں کیا گیا جتنا پی آئی بی اور بہادر آباد کے آپسی جھگڑوں نے کیا ۔ سیاسی میدان جو کراچی میں سجتا ہے الیکشن کو لیکر اس میں بھی بہت زیادہ ہائیٹ کریٹ ہوتی ہے ۔ ہم ہمیشہ سے سنتے ہیں کراچی سب کا ہے ۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کراچی کا 80 فیصد مینڈیٹ کبھی ایم کیو ایم کا ہوا کرتا تھا ۔ لیکن آج صورتحال کیا ہے ۔ کراچی میں تمام سیاسی پارٹیز اپنا اپنا حصہ لینے کے لیے کوشش کر رہی ہیں۔ وہاں پر پولیٹکس کر رہی ہیں وہاں پر الیکشن کونٹسٹ کر رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کے حصے میں کیا آتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہے کہ جن کا مینڈیٹ ہوا کرتا تھا 80 فیصد انہوں نے اس الیکشن کا بائیکاٹ بھی کردیا۔  اب کراچی کی سیاست کا مستقبل کیا ہے ؟ کراچی کس کو خوش آمدید کہتا ہے ۔ کراچی کس کو ریجیکٹ کردیتا ہے ؟

سوال: کیسا لگ رہا ہے آپ کو پی ٹی آئی میں آکر اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر؟

پی ٹی آئی کے رہنما رشید گوڈیل: جو وقت گزرا اچھا گزرا ، اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری آنکھیں کھول دیں۔ بہت تکلیف دہ وقت گزرا اللہ دشمنوں کو بھی ایسا وقت نہ دے۔ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے میری ان سے بنتی نہیں تھی۔ جتنا نقصان بائیس اگست میں نہیں پہنچا ان کے ساس ، بہو کے جھگڑے سے پہنچا، ٹوٹ گئی پارٹی۔ 22 اگست تھوڑا سنبھلے تھے لیکن تھوڑے بہت سنبھلے تھے پورے نہیں۔ بہت سارے لوگ مجھے گالیاں بکتے ہیں میرا رئیٹ ہے میں کسی پارٹی میں جاؤں۔ کچھ لوگ سرپھیرے ہوتے ہیں ان کے دماغ میں سائیکی بسی ہوتی ہے کہ نہیں یار ہماری پہچان ایم کیو ایم ہے ۔ پہچان ایم کیو ایم نہیں ہے ۔ ہماری تعلیم چھینی ہے۔ میں اندر بیٹھ کر بھی آواز اٹھاتا تھا کیوں کہ میں صرف غریبوں کی بات کرتا ہوں۔ پاکستانیوں کی بات کرتا ہوں، مظلوموں کی بات کرتا ہوں اور جہاں جہاں ہیں۔ میں کراچی میں ہوں تو کراچی والوں کی بات کرتا ہوں۔

سوال: آپ نے آواز اٹھائی اس کی کوسٹ آپ نے ادا کی ہے

پی ٹی آئی کے رہنما رشید گوڈیل: اگر میں آواز اٹھانا چھوڑ دوں ۔ میری کوئی جان لے لے گا۔ میری جان اللہ نے مقرر کی ہے کسی انسان نے نہیں کی۔ آج بھی میں آواز اٹھاتا ہوں ۔ اسمبلی میں بھی آواز اٹھاتا ہوں۔ کیوں کہ جب اللہ پاک نے سیٹ دی ہے ۔ چاہے آپ ایم این اے تھے اب ہیں یا نہیں ہیں۔ آپ کسی نہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آپ ان لاکھوں ، کروڑوں لوگوں سے بہتر ہیں جن کے پاس کھانے کو نہیں ہے۔ تو آپ ان کے لیے آواز نہیں اٹھاؤ گے ؟ اللہ بھی پوچھے گا یا نہیں پوچھے گا؟

سوال:  پیپلز پارٹی بھی اس وقت میدان میں اتری ہے کراچی میں ۔ کراچی کا سیاسی ماحول آپ کیا دیکھ رہی ہیں۔ پہلے جب کراچی میں الیکشن ہوتے تھے ۔ کراچی آپ کو زیادہ گہما گہمی کا مرکز لگ رہا ہے یا آپ کو لگ رہا ہے کہ ان کی آپسی لڑائی کی وجہ سے کراچی کا ووٹر پریشان ہے ۔

سحر کامران: میرا خیال ہے کراچی کا ووٹر آج زیادہ باشعور ہے ۔ ایم کیو ایم کے جو مختلف دھڑے تھے جس طریقے سے انہوں نے ایکسپوز کیا ان عناصر کو جنہوں نے کراچی کے اندر بدامنی کو فروغ دیا۔ جنہوں نے کراچی کے امن اور سکون کو اور کراچی کی شہریوں کی زندگی کو تنگ کیا۔ اس میں نہ تو میں یہ دعوہ کروں گی کہ کسی اور جماعت نے یہ کیا اور نہ یہ کہوں گی کہ یہ کوئی اوپر سے لائی ہوئی چیز ہے۔ اگر آپ پچھلے کئی دنوں میں جو مختلف قسم کے بیانات آئے چاہے ۔ وہ پی ایس پی کی طرف سے تھے چاہے وہ پاکستان اور لندن کی طرف کے بیانات تھے ۔ چاہے وہ پی آئی بی اور بہادرآباد کے درمیان کے بیانات تھے ۔ ایک دوسرے کی جس طریقے سے شہہ سرخیاں بنیں ۔ آ دیکھتے تھے کہ ہر جگہ پریشر ہے ۔ ہر جگہ پر دباو تھا ۔ متحدہ سے مہاجر کا نعرہ اس کے درمیان میں کتنے اسکلیپس تھے ان کو خود کاؤنٹ کرلیں۔

سوال: پارٹی الیکشن جیتے نہ جیتے عہدے لوگوں کو مل گئے اور عامر خان کہہ رہے تھے کہ پارٹی بہت اچھی طریقے سے چل رہی ہے ۔ کراچی میں پارٹی بہت اچھے طریقے سے چل رہی ہے؟

سینیٹر میاں عتیق: جس طرح سے کوشش کی گئی اور جس طرح سے حصے کیے گئے ۔ اگر اس طرح سے دیکھا جائے تو جس طرح سے سروائف کیاہے یہ ایک بہت بڑا کریڈیٹ ہے ۔ میری گزارش یہ ہے کہ اس بات سے سبق سیکھ لینا چاہیے ایم کیو ایم پاکستان کو جو سینیٹ میں ہوا ۔ سینیٹ کے سینیٹرز کو لانے میں جس طرح سے اس بات کا  ، اور میں ایگری کرتا ہوں کہ 22 اگست کے بعد اتنا مسئلہ نہیں ہوا ، پارٹی کو اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا اس وقت میں ہوا۔ اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہم آٹھ سینیٹر بیٹھ رہے تھے آج ہم پانچ سینیٹر بیٹھ رہے ہیں، ہمارے تین سینیٹرز کم ہونے کی وجہ یہی تھی۔ اگر یہ لڑائی چلتی رہی تو ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز ۔ جو نمائندگی 80 فیصد ہوتی تھی اب وہ کتنی فیصد پر آجائے گی یہ آدمی سوچ نہیں سکتا اس بارے میں ۔ میں نا امید تب ہوں جب یہ معاملہ مزید چلتا رہا جس کی کوشش پوری کی جارہی ہے اور آج کا یہ جو ایپیسوڈ ہے جو فیصلہ ہے خاص طور پر اس نے واقعی میں ہی ایک بات کو تقویت دی ہے کہ جو ایم کیو ایم پاکستان ہے اس کا نشان ۔ اس کا سربراہ آفیشلی طور پر کون ہے ۔

سوال: فاروق ستار کے اندر ایڈمنسٹریشن کی صلاحیت نہ ہو۔ لیڈر شپ کوالٹیز نہ ہو۔ یہ تمام چیزیں اپنی جگہ ۔ لیکن 22 اگست کے بعد فاروق ستار نے سنبھالا پارٹی کو اور پوری کوشش کرتے رہے اپنی ۔ آپ کو لگتا ہے کہ لوگ ان کو ہی لیڈر نہیں مان رہے تھے ؟ آپ کو لگتا ہے کہ اب کراچی کا ووٹر اب خالد مقبول صدیقی کے پیچھے چلے گا؟ یا عامر خان کے پیچھے چلے گا؟

پی ٹی آئی کے رہنما رشید گوڈیل: میں گراس روٹ لیول کا کارکن ہوں۔ میں محلے میں اترنے والا آدمی ہوں۔ وہ آدمی اپنے وقت میں اے پی ایم ایس او چلا چکا تھا ۔ لاکھ میرا ایم کیو ایم سے اختلاف سہی لیکن وہ اچھے آدمی ہیں۔ لیڈر شپ کی بات کرتا ہوں۔ تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم چلتی تھی آپ کو پتہ ہے ایک آرڈر پر چلتی تھی۔ رابطہ کمیٹی صرف کاغذ بھرتی تھی۔ لیکن جو رٹ تھی وہ لندن سے تھی۔ ساتھ بیٹھنے والوں میں سے ایک کو لیڈر بنا دیا جائے ۔

مثال کے طور پر آپ کے ساتھ پانچ اینکر ہوں ۔ اس میں سے کہا جائے سی ای او ایک بنے گی ۔ رکاوٹ تو آئی گی ، ہیومن نیچر ہے ۔ اسی طرح ان لوگوں کے ساتھ ہوا کہ یہ لوگ اب کسی کو لیڈر ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ اور نہ ماننا چاہیے ۔ اگر آپ کہتے ہوں جمہوری پارٹی ہوں تو یہ شوریٰ یا ان کی کابینہ فیصلہ کرے گی۔ اور اس کو انڈوز جو لیڈر بیٹھا ہے وہ کرے ۔

فاروق ستار چاہتے تھے کہ مجھے وہ سارے پاورز مل جائیں ۔ انہوں نے آئین بھی چینج کیا اور بھی سب کچھ کیا ۔ جو ان کے حامی ہیں فیصلہ آنے کے بعد ان میں سے بھی دو ، چار لوگ چلے جائیں۔ جیسے ٹکٹ کی بات آئی تھی تو نو میں سے تین لوگ بہادر آباد آگئے تھے۔ تو کراچی کا ووٹر سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔ کراچی کا ووٹر جاہل نہیں ہے ۔ بہت پڑھا لکھا ہے بہت سیاسی سوچ رکھتا ہے ۔ بہت سیاسی سوچ بوجھ رکھتا ہے ۔ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے تماشہ کر رکھا ۔ آپ نے اس کو چور کہا ۔ اس کو چور کہا ۔ گلے مل گئے ہم ساتھ ایک ہیں۔ کوئی ساس بہو کے جھگڑے تھوڑی ہیں یہ ایک پارٹی ہے ۔ آپ کراچی شہر کو ریپریذنٹ کرتے ہیں۔ کراچی کی عوام اب ان کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی۔

سوال: سنا ہے آپ بھی اس دفعہ الیکشن لڑ رہے ہیں؟

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن: ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے لڑ رہے ہیں۔ اور پہلے بھی ہم نے سیٹیں جیتی تھیں ۔ اس وقت تو کوئی اور پارٹی بھی نہیں تھی۔ 2002 میں ۔ متحدہ مجلس عمل ایک منظم پارٹی کے طور پر سامنے آئی گی اور متبادل قوت کے طور پر سامنے آئی گی ۔ آپ دیکھیں کہ اس وقت بڑی افرا تفری ہے لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ کریں کیا۔ تو اس میں ایسی وقت میں ایسی جماعت جس کے نظریات مستحکم ہوں۔

سوال: کراچی والوں کے نظریات ایم ایم اے سے میچ کرت ہیں؟

سینیٹر سحر کامران: کراچی کی عوام نے اب جینا شروع کیا ہے اس کو جینے دیں۔ کراچی کی عوام باشعور ہے ۔ کراچی کا باب نہ صرف بھر پور طریقے سے الیکشن میں حصہ لے گا بلکہ آپ نتائج بھی دیکھیں گے۔ آج کا کراچی بہت باشعور ہے۔ عوام جو ہے وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا جانتا ہے ۔ ہم کراچی کو دیکھنا چاہتے ہیں پھلتا پھولتا ، نکھرتا ۔ کراچی کا بیڑہ غرق تو اس وقت ہوا تھا جب جماعت اسلامی گرین جیکٹس اور کلاشنکوف لیکر کراچی میں آئی تھی۔ وہ دن تھا تاریخی دن۔

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن: کراچی میں ہم نے جب بربادی دیکھی جب یہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت تھی۔ کراچی میں بربادی اس وقت تھی جب ڈاکٹر عبدالستار افغانی تھے۔ ہم نے دیکھی ہے آپ کی دہشت گردی۔

سوال: کراچی کا کتنا فیصد ووٹ بینک آپ جماعت اسلامی یا ایم ایم اے آپ ایکسپیکٹ کر رہے ہیں؟

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن: میں تو بتا رہا ہوں کہ جب ایم کیو ایم اپنی طاقت میں تھی اور دھاندلی بھی کرتے تھے سب کچھ کرتے تھے تو ہم نے نارتھ ناظم آباد سے بیالیس ہزار ووٹ لیے تھے ان کے چار ہزار ووٹ تھے۔ اسی طرح ہم نے پانچ سیٹیں تو جیت لیں تھیں۔ پہلے ہمارے حق میں اناؤنس ہوئیں تھیں جو بعد میں تبدیل کردی گئیں تھیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ مشرف صاحب نے ایم کیو ایم کے ساتھ ایک سیٹنگ بنائی تھی۔ تو میں تو  وہ بات ہی نہیں کر رہا جو ہواؤں کی ہوں۔ اور ہم نے جب بھی کراچی میں کام کیا لوگوں نے سراہا ۔ نعمت اللہ خان کے زمانے میں ترقی ہوئی ۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ایک قطرہ پانی کا اضافہ نہیں کر سکے ۔

سوال: 2002 میں اگر انہوں نے ایم کیو ایم کو ہرایا تھا ۔ اس زمانے پر جب ایم کیو ایم اپنے عروج پر تھی ۔ اب تو آپ لوگ کہیں نظر ہی نہیں آئیں گے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے؟

عبدالرشید گوڈیل: جب 2002 میں آپ جیتے تھے تو آپ کے مئیر نے کام کیا تھا ۔ کراچی کا شہری پرفارمنس دیکھتا ہے ۔ اس پرفارمنس پر ووٹ دیتا ہے آپ کی اس بات سے میں ایگری کرتا ہوں۔ پچھلے کئی سالوں سے ایم کیو ایم میں لڑائی ، جھگڑے چل رہے ہیں۔ پچھلے تین ، چار سال سے ایم کیو ایم کی پرفارمنس نہیں ہے ۔

سوال: 2002 میں ایم ایم اے نے ایم کیو ایم کو ہرایا تھا تو اس وقت وہ کلین سوئپ کرنے کی پوزیشن میں ہے ؟ پیپلز پارٹی کتنے شئیر لے جاسکتی ہے ؟

سینیٹر سحر کامران: پارٹی ہر حلقے سے الیکشن لڑ رہی ہے ۔ پہلے بھی دیکھا کہ سعید غنی نے ریٹیک کیا۔ ہمارے امیدوار ہر سیٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ آپ کراچی کے اندر دیکھیں جو روڈ کا انفرااسٹریکچر ہے ۔

حافظ نعیم الرحمن: پرفارمنس ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی سب کے سامنے ہے اور سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ تیس ، بتیس سال میں یہ لوگ اشتراک کرکے بھی حکومت میں رہے ہیں۔ اور الگ الگ بھی رہے ہیں اور اس میں کراچی کا کیا حال ہواہے لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا منشور ان کی پرفارمنس ہے ہمارا منشور نعمت اللہ خان ہیں۔

سوال: آپ پی ٹی آئی کو کدھر دیکھ رہے ہیں؟ پی ٹی آئی کے ساتھ آپ اتحادی نہیں ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن: اگر یہ لوگ کراچی کو پانچ سال پوچھتے ۔ کراچی کے دکھ درد میں شریک ہوتے ۔ لوگوں کی دھاندلی پر انہوں نے دھرنے دیے تھے اگر یہ کراچی کے 20 حلقوں میں جو دھاندلہ ہوا تھا اس پر بھی ساتھ دیتے تو کراچی کے لوگ ان کو اچھی طریقے سے رویہ رکھتے تو لوگ ان کو پوچھتے ۔

سوال: کیا مستقبل دیکھ رہے ہیں آپ کراچی میں کتنا شئیر لیکر جائے گی پی ٹی آئی؟

عبدالرشید گوڈیل: 2013 کے بعد عمران خان کو متواتر وزٹ کرنا چاہیے تھا۔ پی ٹی آئی کی لوکل لیڈر شپ یہاں کام کر رہی تھی۔ شہر کے اندر پارٹی کی لوکل لیڈر شپ ہوتی ہے ۔ عمران خان کو آنا چاہیے تھا۔ بڑے لیڈروں کو آنا چاہیے تھا یہ بات میں نے بھی کی تھی ۔ اس شہر کے مسائل کو  ۔ ان کو حل کرنے کے لیے ایک پروگرام دینا ہوگا ۔ کسی قوم ، قبیلے کا نہیں کراچی والوں کے دکھ ، درد کی بات کرنی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کی حکومت آتی ہے تو خان آپ نے ایک ایجنڈا بنانا ہے ۔