نادیہ مرزا کا نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ممبئی حملوں کے حوالے سے نواز شریف کے متنازع بیان پر پی ایم ایل این کے رہنما ملک نور عوان ، پی ٹی آئی کے رہنما فیاض الحسن چوہان اور پی پی پی کے رہنما شوکت بسرا سے خصوصی گفتگو کی۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

یہ جو پاناما پر فیصلہ ہوا ، نواز شریف صاحب نااہل قرار دے دیے گئے ۔ پہلے ان کی ایپیسوڈ چلا کہ مجھے کیوں نکالا پھر ان کی صاحب زادی کہتی رہیں کہ روک سکو تو روک لو ۔ روک سکو تو روک لو کی جو ایکچوئل ایپیسوڈ ہے وہ تو اب اسٹارٹ ہوئی ہے ۔ 12 مئی کو ڈان کو سرل ایڈمیڈا کو دیے جانے والے والا وہ انٹرویو جس کی تمام لائنز پر ان کے کہے ہوئے الفاظ پر ، تمام سو کالڈ انکشافات پر میاں نواز شریف صاحب آج بھی اسٹینڈ کرتے ہیں وہ آج بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کہا تھا میں نے صحیح کہا تھا میں ہر لفظ پر قائم ہوں اگر کوئی مجھے کوئی جھوٹا ثابت کرسکتا ہے اور غدار کہہ رہا ہے مجھے یہ بات کہنے پر ، مجھے جھوٹا کہہ رہا ہے کہ تو ایک کمیشن بنایا جائے ، قومی کمیشن بنادیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور دوسری طرف بڑی دلچسپ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اور اس سے بڑا مذاق بھی شاید کوئی نہ ہو کہ وزیر اعظم پاکستان ہیں اور ان کے جو حواری ہیں وضاحتیں دے رہے ہیں کہ انھوں نے یہ نہیں کہا بلکہ اس کو توڑ مروڑ کر بیان پیش کیا گیا۔ مس لیڈ کیا گیا نیشن کو ایسا کچھ بھی نہیں ہے اس میں بہت سی چیز آؤٹ آف کانٹیسٹ ہے تو ہم کس کی بات مانیں اور کس پر یقین کریں ۔

سوال: مجھے ایک بات سمجھادیں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ؟ میاں نواز شریف صاحب سچ بول رہے ہیں یا شاہد خاقان عباسی صاحب سچ بول رہے ہیں؟

پی ایم ایل این کے رہنما ملک نور عوان: دونوں سچ بولیں ہیں اور میں تھوڑا سا پیچھے جاؤں گا ۔ ستر سالہ تاریخ دیکھ لیں کسی بھی وزیر اعظم کے ساتھ کس طرح کیا گیا اس ملک میں ۔ اور ابھی دیکھ لیں آج دوسرا، تیسرا دن ہے کسی پروگرام میں کامیاب نہیں ہوسکے تو پھر ان کے اوپر یہ ہے۔

سوال: نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کہا سچ کہا اینڈ آئی اسٹینڈ ود مائی ورڈ ، خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے ایسا کچھ نہیں کہا ، مس کورڈ ہوا ہے نیوز پیپر میں ۔ تو کون سچ کہہ رہا ہے؟

پی ایم ایل این کے رہنما ملک نور عوان: انڈیا کے میڈیا نے اس کو بہت ہائی لائٹ کیا ہے ۔ وہاں سے اٹھاکر پھر یہاں پر ہائی لائٹ کیا ہے اور کس کے کہنے پر کیا ہے یہ بھی سب کو پتہ ہے ۔

سوال: خاقان عباسی نے کہا کہ مس کورڈ ہوا ہے ۔ اگر مس کورڈ ہوا ہے تو پھر آپ اخبار کے خلاف کارروائی  کریں ، اس رپورٹر کے خلاف کارروائی کریں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کارروائی کیا کریں جس نے کہا ہے ، جس نے انٹریو دیا ہے وہ کہہ رہاہے کہ یہی کہا ہے اور سچ کہا ہے ۔

پی ایم ایل این کے رہنما ملک نور عوان: یہ صرف میاں نواز شریف صاحب نے نہیں کہا  ۔ اس سے پہلے مشرف صاحب کہہ چکے ہیں ، عمران خان صاحب کہہ چکے ہیں ۔ اس سے پہلے زرداری صاحب کہہ چکے ہیں ۔ رحمان ملک صاحب کہہ چکے ہیں ۔ بہت سے لوگ کہہ چکے ہیں ۔ نواز شریف ان سے کبھی ہارے گا نہیں جو سازشیں کر رہے ہیں ان سے ، جنہوں نے نیب میں کیس بھیجا ، جنہوں نے نا اہلی کا فیصلہ کیا  ۔ سارا معاملہ نواز شریف صاحب کے او پر ہو رہا ہے ۔ یہ ملک کے وزیر اعظم کے ساتھ آج دوسرا تیسرا دن آپ کیا لفظ استعمال کر رہے ہیں یہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ کیا کیا گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بنایا اس کے ساتھ کیا کیا ۔ میاں نواز شریف نے دھماکے کیے ان کے  ساتھ کیا کیا ۔  نواز شریف ہر بات کے لیے تیار ہے اب ان کے ساتھ ۔

پی ٹی آئی کے رہنما فیاض الحسن چوہان: 21 فروری کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں لایا گیا تھا اور وہ جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہے اس کے جو ممبر ہیں وہ تین چیزوں پر پابند ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ منی لانڈرنگ روکیں گے ۔ دوسرا یہ کہ وہ دہشت گردوں کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ دہشت گردی پروموٹ کرنے کے حوالے سے کوئی ایکٹیویٹی میں انوالف نہیں ہوں گے ، تیسرا یہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی پہلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام کریں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان پر پابندیاں لگیں گی۔ نہ آئی ایم ایف قرضہ دے گا ، نہ ورلڈ بینک قرضہ دے گا نہ اسٹیٹ بینک قرضہ دے گا نہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک تجارت کریں گا، اب 21 فروری کو تین مہینے کے لیے گرے لسٹ پر لایا گیا تھا اور 21 مئی کو آپ کے تین مہینے مکمل ہو رہے ہیں ، نواز شریف نے اپنے اس پورے ایشو کے اندر ریاست کو ، فوج کو ، عدلیہ کو بلیک میل کرنے کے لیے اس حدتک چلے گئے کہ ان کو پتہ تھا کہ سات دن رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے وہ اعتراف کرلیا۔ جو ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہا ہے آپ مجھے بتائیں کہ 21 مئی کو آپ کے تین مہینے پورے ہوتے ہیں ۔ فنانشل ٹاسک فورس کی میٹنگ ہوتی ہے وہ کہیں گے کہ ملک کا وزیر اعظم کہہ رہا ہے۔ تو اگر ہمارے اوپر یہ پابندی لگ گئی تو ہماری کیا حالت ہوگی۔

سوال: اعتراف ٹرم یوز ہوتی ہے جب آپ سچ بول لیتے ہیں ۔ تو کیا یہ سچ بولا تھا میاں صاحب نے؟

پی ٹی آئی کے رہنما فیاض الحسن چوہان: اگر نواز شریف صاحب کو کسی جنرل باجوہ کی ، کسی چیف جسٹس کی ، کسی شوکت بسرا صاحب کی کسی دوسرے تیسرے کی بات سمجھ میں نہیں آتی بمبئی حملوں کے حوالے سے تو وہ ایس ایم مشرف کی دو بکس پڑھ لیں ۔ ایس ایم مشرف اس وقت ریاست مہارشٹر کا آئی جی تھا جس وقت وقوعہ ہوا ۔ اس کے اندر اس نے لکھا کہ یہ فوج پلائی آپریشن تھا ۔ جو انڈیا نے خود کرایا ۔ نہیں یقین آتا تو ڈیوڈ ایلیڈسن جو اسرائیلی ہے اس نے پوری انویسٹی گیشن کی ممبئی دھماکوں کی اور اس کے بعد بک لکھی اپنی ۔ اس کے اندر اس نے لکھا کہ را ، انڈیا ، امریکا اور برطانیہ کے اسٹیبلشمنٹ کے لوگ تھے ایک ایڈوانچر تھا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ۔ آئی ایس ائی کو بدنام کرنےکے لیے کوشش کی گئی تھی۔ نواز شریف صاحب وہی پڑھ لیں۔

سوال: یہ اعتراف ہے ؟ انکشافات ہیں ؟ یہ مس لیڈ ہے ؟ جھوٹ ہے کچھ بھی ہے ۔ روکے گا کون ؟ ابھی تو یہ کیا ہے وہ کہتے ہیں میرے سینے میں تو بہت راز دفن ہیں ۔ سدھر جاؤ سب بول دوں گا۔ روکے گا کون؟

پیپلزپارٹی کے رہنما شوکت بسرا : یہ وہی نواز شریف ہے جس کو اعلی عدلیہ نے کہا کہ یہ بد دیانت ہے ، جھوٹا ہے اور اس سے بڑی ڈگری تو کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ شخص اپنا کالا دھن بچانے کےلیے ۔ اپنا اقتدار بچانے کے لیے پہلے اس نے عدلیہ کو گالی گلوچ کی ، عدلیہ پر حملہ آوار ہوا ، پھر افواج پاکستان پر حملہ آوار ہوا ۔ اب اینڈ میں آکر پاکستان پر حملہ آوار ہوا ، یہ وہ خودکش بمبار خاندان ہے میں یہ سمجھتا ہوں جو انتہائی احسان فراموش ہے۔ ان میں نہ کوئی غیرت ہے نہ ان میں کوئی ضمیر ہے ۔ یہ کون لوگ ہیں اگر ان کو پتہ ہوتا اس بات کا کہ یہ ہوا ہے تو چار ، ساڑھے چار سال خاموش کیوں رہے ۔ ٹائمنگ اس ویری ایمپورٹنٹ ۔

سوال : آج وہ یہ کہتے ہیں کہ ڈان لیکس بھی صحیح تھی تو آپ نے اس وقت اسٹینڈ کیوں نہیں لیا ؟ اس وقت آپ کی حب الوطنی کہا گئی۔ اس وقت آپ ملک کو کیوں نہیں سدھار رہے تھے؟

پیپلزپارٹی کے رہنما شوکت بسرا : میں آپ کو عرض کروں کہ آج ان کا یہ اعتراف جرم کہ ڈان لیکس صحیح تھا ۔ پورا پاکستان کیا کہہ رہا تھا اس وقت کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ ۔ پرویز رشید کو انہوں نے قربانی کا بکرا بنایا ۔ آپ مجھے بتائیں کہ وہی اخبار ڈان ، وہی صحافی ، وہی انٹرویو دینے والا اور وہی انٹرویو لینے والا ۔ یہ کیا ہے ۔ یہ کن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ ہم کہتے تھے کہ نواز مودی ٹرم گٹھ جوڑھ ہے میاں نواز شریف ۔ یہ وہ شخص ہے جو پاکستان کے خلاف یہ سلطانی گواہ بن کر آگیا ہے اور جو ہم باتیں سنتے تھے کہ تھرڈ ورلڈ آرڈر ہے ۔

ڈان لیکس پر بھی ہم نے یہ کہا تھا ۔ ہمیں بھارت کے مودی سے خطرہ نہیں اپنے مودیوں سے خطرہ ہے ۔ اس مودی کا ہم کیا کریں گے ۔ میں کہتا ہوں کہ وہ بے غیرت شخص ہے جو پاکستان کا کھائے اور انڈیا کے ساتھ مل جائے۔

پی ایم ایل این کے رہنما ملک نور عوان: ن لیگ مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے پچھلے کئی دنوں سے ۔ خاص طور پر پچھلے تین دنوں سے ایٹم بم کے دھماکے ، گوہر ایوب صاحب اس وقت وزیر خارجہ تھے انھوں نے اپنی بک لکھی اور انہوں نے بتایا کہ آخری دم تک نواز شریف صاحب راضی نہیں تھے کہ ہم دھماکے کریں حالاں کہ اس وقت پوری فوج ، اپوزیشن اور پوری جماعت اسلامی کا میں یوتھ ونگ کا پریذیڈنٹ ہوتا تھا ہم نے ریلیاں نکالیں ان پر پریشر ڈالا، فوج نے پریشر ڈالا ، عبدالقدیر کی ایٹمی دھماکے کے حوالےسے رائے حرف آخر ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر بیسیوں دفعہ انٹرویو دے چکے ہیں کہ نواز شریف صاحب آخری دم تک راضی نہیں تھے وہ ہمیں موٹیویٹ کرتے ہیں کہ امریکا سے اس بارے میں رائے لیں۔

خراج تحسین پیش کریں ذوالفقار علی بھٹو کو ، خراج تحسین پیش کریں صدر اسحاق خان کو ، خراج تحسین پیش کریں جنرل ضیاءالحق کو اورہم عوام کو ہم ٹیکسوں کا پیسہ دیتے ہیں ۔

پی ایم ایل این کے رہنما ملک نور عوان: 1998 میں نواز شریف نے ملک کو ایٹمی پاور بنایا ، ڈکٹیٹر نے ان کے ساتھ کیا کرا۔ ڈاکٹر قدیر خان سے بات کر رہے تھے ۔ ڈکٹیٹر مشرف نے ان کے ساتھ کیا کیا۔ 2013 میں اس ملک میں دہشت گردی تھی ، بجلی کا بحران تھا ، بیروزگاری کا ۔ جب زرداری نے ملک چھوڑا توا اس ملک کے کیا حالات ہیں۔ 12 عورتیں آٹے کی لائن میں لگی ہونے سے مرجاتی ہیں ان کی حکومت میں اور 2013 کے بعد نواز شریف نے ملک سنبھالا اور الحمد اللہ آج دہشت گردی بھی نھیں ہے ،سکون ہے۔

سوال: آج یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ڈان لیکس بھی صحیح تھی ۔ تو کیا انکوائری رپورٹ ڈارامہ تھی؟ پرویز رشید صاحب کو کیوں نکالا؟ راؤ تحسین کو کیو نکالا ؟ طارق فاطمی صاحب کو کیوں نکالا ۔ انکوئری کیوں شروع کی گئی وہ کیا تھا ؟

پی ایم ایل این کے رہنما ملک نور عوان: یہ سب کچھ جو ہے جو میاں صاحب نے کہا ہے وہ سچ کہا ہے ۔

پی پی پی کے رہنما شوکت بسرا: اس وقت پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرہ ہے اس اسٹیٹمنٹ کے بعد جب ایک شخص جو تین دفعہ وزیر اعظم رہا ہو اور سب سے ہٹ کر آپ کا وزیراعظم جو پاکستان کا پابند ہے وہ کل سلامتی کونسل کو ہیڈ کرتا ہے اور  وہاں مذمت کرتا ہے اور باہر آکر کہا کہ میاں صاحب نے جو کہا ہے سچ کہا ہے ۔ جب کل مقدمے کے لیے آتے ہیں میاں صاحب ڈان لیکس کا پیپر نکالتے ہیں پڑھیں میں نے کیا غلط بات کہی ہے ۔ پھر مریم ٹوئٹ کرتی ہے ۔ یہ وہ لوگ جو کھائیں تو دھرتی ماں کا ، یہ شخص وہ شخص ہے اگر پاکستان میں نہ ہوتا تو کونسلر نہیں بنتا ۔ پاکستان نے وزیر اعظم بنایا ، وزیر اعلی بنایا ، کلبھوشن یادیو پکڑا گیا سجن جندال مل رہا تھا ۔

اب وقت آگیا ہے ، کسی ملک میں سازش ہوتی ہے تو افواج کو بلیک میلینگ ہوتی ہے ۔ تمام اسلامی ممالک میں کیا ہورہا ہے ۔ عراق کو دیکھ لیں ، ایران کو دیکھ لیں ، شام کو دیکھ لیں وہاں پہلے افواج کے خلاف کارروائی ہوئی اس کے بعد وہ ملک کریش کر گئے ۔ آج افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے ۔ آج آپ نے توپ کے دھانے پر رکھ لیا ہے کس کو افواج پاکستان کو ۔ الطاف حسین ، منظور پشتین اور نواز شریف میں کیا فرق ہے ؟ اب الطاف حسین کو کہتے ہیں غدار ہے اس کی اسپیچ پر پابندی لگاتے ہیں ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے جیتی ہوئی جنگ کارگل کی ہاری ۔ یہ وہ شخص  ہے جس نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک ہی ملک ہے ۔ لکیر کھینچ دی ہے درمیان میں اس کو ختم کریں ۔

پی ٹی آئی کے رہنما فیاض الحسن چوہان: نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیہ کی مقبولیت یہ ہے کہ مانسہرہ اور دیگر جگہوں پر ان کے جلسے میں اتنے لوگ تھے جتنے نائی کی دکان پر چاند رات والے دن ہوتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ بیانیہ مقبول ہو رہا ہے ۔ ساڑھے چار سال آپ وزیر اعظم رہے آج آپ کہتے ہیں کمیشن بنائیں ۔ آج بیان دیتے ہیں کہ غیر ریاستی عناصر کو پروموٹ کیا جارہا ہے ۔ آج آپ کہتے ہیں کہ ان کی پراسیکیوشن پراپر طریقے سے نہیں ہوئی ۔ پراسیکیوشن تو آپ نے کرنی تھی۔ آپ کے اداروں کے اندر ہونی تھی آپ نے نہیں کی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قصوروار تو آپ تھے ۔

آپ اپنی طرف انگلی کرکے کہہ رہے ہیں کہ آپ نا اہل ہیں ۔ آپ اپنی طرف انگلی کر کے کہہ رہے ہیں کہ آپ کے اندر صلاحیت نہیں تھی پاکستان کے اندر دہشت گردی کو روکنے کے حوالے سے ، دہشت گرد عناصر کو روکنے کے حوالے سے لیکن ایک چیز میں آپ کے سامنے رکھ دوں ، میں نے ممبئی حملوں پر ریسرچ کی ۔ آرٹیکل لکھے یقین جانیں ڈیوڈ ہیلری اور اجمل قصاب جن کی بنیاد پر سارا الزام لگا۔ ڈیوڈ ہیلری وہ ہے جو جون 1960ء میں پیدا ہوئے۔ اس کا اصل داؤد گیلانی ہے وہ پاکستانی ہے ، سید سلیم گیلانی کا بیٹا ہے ۔ ریڈیو پاکستان کے سابق ڈی جی کا وہ سترہ سال کی عمر میں نشے کی لت کا شکار ہوتا ہے ہیروئن کی وہ چوبیس سال کی عمر میں ہیروئن اسمگل کرتا ہوا پکڑا جاتا ہے وہ وہاں سے ڈیل کرکے باہر آتا ہے ، سی آئی اے کا ایجنٹ ہے ۔

2009 میں وہ گرفتار ہوتا ہے ۔ اکتوبر 2009 میں گرفتارہوکر ایک مہینے کے بعد اچانک اس کا ویڈیو کلپ آجاتا ہے سی آئی اے کی طرف سے کہ جناب یہ دس الزامات ہیں آئی ایس آئی اور فوج کے اوپر بمبئی اٹیک کے حوالے سے اور یہ دس جو ہیں وہ میری طرف سے بیانیہ ہے ۔ آپ مجھے بتائیں اس ڈیوڈ گیلانی  ، ڈیوڈ ہیلری کی بات کا یقین کرسکتے ہیں جو سی آئی اے کا ایجنٹ ہے  ۔ اجمل قصاب سب باخبر لوگ جانتے ہیں نیپال سے ایک مہینے پہلے گرفتارکیا گیا تھا اور جب اس کو پھانسی لگائی گئی ۔ میں نے خود ہندوستان ٹائمز میں پڑھا ہے کہ وہ پھانسی کے پھندے پر رام رام کر رہا تھا ۔ دنیا میں گناہ گار مسلمان بھی ہو وہ مجھے بتائیں کہ مرتے ہوئے اللہ کا نام لیتا ہے یا رام رام کرتا ہے۔ ساری چیزیں کلئیر ہیں پھر بھی نواز شریف صاحب کو عقل نہیں آتی۔

سوال: میاں صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ ایک قومی کمیشن بنادیں اس میں بھی پیش ہوجاتا ہوں وہ بھی پیش ہوجائیں جو مجھے غدار کہہ رہے ہیں ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا ۔ آپ اس کو سپورٹ کرتے ہیں؟

پی پی پی کے رہنما شوکت بسرا : وہ کہتے ہیں کہ تہمت لگا کر مادر وطن پر ، جو دشمن سے داد  لے ، ایسے بے ضمیر کو مرجانا چاہیے۔ مجھے بتائیں دانت نکال رہے ہیں چینلوں پر بیٹھ کر اور مجھے بتائیں اس اسٹیٹمنٹ کے بعد سب سے زیادہ کون خوش ہورہا ہے  بھارت ، وہاں پر شادیانے بجائے گئےہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم کہتے تھے کہ آپ کی افواج پاکستان دہشت گردوں کو سپورٹ کرتی ہے ۔