نادیہ مرزا کا جاوید ہاشمی کے ساتھ خصوصی انٹرویو

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی سے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال پر خصوصی گفتگو کی۔

میزبان کے تعارفی کلمات

الیکشن ائیرہے اور الیکشن ائیرمیں ہوتا یہ ہے کہ سیاسی میدان سجتے ہیں ۔  سیاست کھل کر ہوتی ہے ۔ جلسے جلوس ہوتے ہیں ۔ جو سیاسی پارٹیز ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے پر الزامات بھی لگاتی ہیں ۔ ایک دوسرے کے ساتھ الفاظ کی جنگ چل رہی ہوتی ہے ۔ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ پھر الیکشن ائیر ہیں اور یہ تمام چیزیں بھی اپنی جگہ ہورہی ہیں لیکن حالات اس لیے بھی مختلف ہیں کہ جو الفاظ کی جنگ کہہ لی جیے یا الزامات کی سیاست کہہ لیں وہ حکومتی پارٹی وہ اور ان کی اداروں کے ساتھ ایک جنگ ہے ۔ اب اس کے آگے اثرات کیا مرتب ہوں گے ۔ کیا اس کے الیکشن پر بھی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کی وجوہات کیا ہیں اور جو آگے سچ جھوٹ کے فیصلے ہیں جس کی بات میاں نواز شریف صاحب کرچکے ہیں اس کے آگے وہ چیز کیا نکلتی ہے ۔

سوال: جاوید ہاشمی صاحب کیا آپ کو لگ رہا ہے کہ آپ اپنے گھر واپس آگئے ہیں؟ پی ایم ایل این میں شمولیت کے بعد؟

جاوید ہاشمی: اس میں کوئی شک نہیں ہے میں تو پیدا بھی مسلم لیگ ن کے گھر میں ہو اہوں ، میں پلا بڑھا بھی وہی ہوں ۔ پھر میں مسلم لیگ میں تھا ۔ میں مسلم لیگ میں تھا اور میرے کوئی مرحلہ نہیں تھا ، ملسم لیگ چھوڑی تو میں نے اور میری بیٹی نے سیٹ چھوڑی ۔ چار سال سے میں اسمبلی میں نہیں بیٹھا حالاں کہ میں 12 مرتبہ منتخب ہو اہو اور اسمبلیوں کے اندر رہا ہوں ۔ مسلم لیگ کے لیے سات سال میں نے جیل کاٹی لیکن وہ میرے لیے ماں کی آغوش تھی۔ میں ماں کی آغوش سے دور تھا آج میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ماں کی آغوش میں واپس آگیا ہو۔

سوال: آپ نے کہا کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ اپنے گھر واپس چلے گئے ہیں۔ کیسا لگا آپ کو جب آپ کو احساس فراموش آدمی کہا گیا  ۔جب آپ کو ناقابل اعتبار آدمی کہا گیا ۔ جب آپ کو یہ کہا گیاکہ آپ وہ شخصیت تھے جس پر یقین نہیں کیا جاسکتا ۔ تو اس دوران آپ کو کیسا لگتا تھا ۔ اور پھر یہ تمام چیزیں آپ نے بالائے طاق رکھتے ہوئے آپ نے بات چیت کی معافی تلافی کی یا آپ ایسے ہی چلے گئے خود ہی۔

جاوید ہاشمی: میں نے کوئی معافی تلافی نہیں کی ۔ بات یہ ہے کہ مجھے نواز شریف صاحب نے خود بلایا تھا اسلام آباد میں انھوں نے کہا کہ آپ الیکشن لڑیں گے تو آپ کے خلاف کوئی آدمی کھڑا نہیں ہوئے گا ۔ بات کر رہے ہیں مریم کی ۔ تو مریم ایک بچی ہے میں نے اس کے باپ کی پارٹی چھوڑی ہے ۔ ردعمل ہے ۔ ابھی آغاز سیاست میں ہے ۔ اس نے  بات کی بات ختم ہوگئی۔ پھر اسی بچی نے ساری دنیا کے سامنے کہا کہ ویلکم ٹو ہوم ، میں اس وقت ناراض نہیں ہوا تھا ۔ اس بات خوش ہوا ۔ لیکن اس بات پر میں ناراض نہیں تھا ۔ وہ جس طرح بہادری کے ساتھ اپنے باپ کے ساتھ کھڑی ہے ، بات کرتی ہے ۔ حالات کا سامنا کر رہی ہے ۔ میں سمجھتاہوں وہ فیوچر کی ایک مضبوط لیڈر بن سکتی ہے ۔

سوال: ایک سوچ ہے کہ نواز کو اس وقت اس نہج پر لا کر کھڑا کردیا ہے وہ مریم نواز صاحبہ کی غلط پالیسیاں ہیں ، غلط الفاظ کا چناؤ ہے ، غلط مشورے ہیں کہک انھوں نے اپنی ہی پارٹی کے اندر ہی میاں نواز شریف کو آئسولیٹ کردیا۔

جاوید ہاشمی: نواز شریف تین مرتبہ وزیر اعظم ہوا ہے ۔ میں اس کو گمراہ کرسکوں گا؟ وہ کہا سے چلا۔ وہ سیاست دان نہیں تھا ۔ پھر وہ کہاں سے کہا چلا گیا ۔ ہم تو پیچھے رہ گئے  ۔ وہ تو آگے بھی چلا ۔ پہلی دفعہ نہیں ہے ۔ اس کو ہتھکڑیاں بھی لگائی گئی جیل کے اندر کھڑا کیا جاتا تھا ۔ انتہا کا تشدد کیا گیا پھر اس کو وزارت عظمیٰ ملی اور وہ ایک بچی کے کہنے پر سب کچھ چھوڑ کر پھر وہ ہتھکڑیاں پہننے چلا جائے، یہ غلط باتیں ہیں ۔ نواز شریف کی سوچ اپنی ہے اور سوچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کئی دفعہ میں نے بھی کیا ہے۔

سوال : آپ نے کہا وہ آگے چلے گئے اور ہم پیچھے رہ گئے ، آپ کو پیچھے رکھنے پر بھی تو وہی تھے اور آپ اس کا تذکرہ کر چکے ہیں کہ آپ ان کے کچن کیبنٹ کے قریب کبھی نہیں گئے ، انھوں نے کبھی خوشی سے آپ کو ٹکٹ نہیں دیا ۔ جب نواز شریف صاحب نہیں تھے آپ نے مسلم لیگ ن کو زندہ رکھا ۔ آپ کا نام صدارتی امیدوار تک کے لیے نہیں لیا گیا ۔ مطلب یہ تمام چیزیں تھی آپ ان سے وقت مانگتے تھے آپ کو ملنے کا وقت نہیں دیتے تھے۔

جاوید ہاشمی: آپ کی یہ ساری باتیں درست ہیں ۔ لیکن آپ مجھے اگر سیاست دان نہیں سمجھ رہی ۔ میں یہ بتا رہا ہوں کہ میں یہ ساری چیزیں برداشت کرکے بھی ایک پولیٹیکل ورکر ہوں ۔

سوال: وہ وجوہات جن کی بنا پر آپ کو یہ انتہائی تکلیف دہ کہہ لیجیئے ، بڑا مشکل فیصلہ کہہ لیجیے پی ایم ایل این کو چھوڑ نے کا ۔ کیا اب ان کو ایڈریس کرنے کی بات کی گئی ہے ۔ آپ کے ایشوز کو ایڈریس کرنے کی  بات کی گئی ہے کہ دوبارہ وہ مسائل آپ کو پارٹی کے اندر نہیں ہوں گے ، جو آپ ڈیزرف کرتے ہیں اسی حساب سے آپ کو عزت بھی دی جائے گی اور آپ کو مقام بھی دیا جائے گا۔

جاوید ہاشمی:  پہلی بات تو یہ ہے کہ مجھے پرویز مشرف کی کیبنیٹ میں وزیر بننے کا کہا گیا تھا میں خود نہیں بنا ۔ تین دفعہ پارٹی میں رہتے ہوئے نواز شریف کو میں نے اپنا استعفی دیا وزارتوں سے ، کبھی نہ میں نے وزارت مانگی ہے نہ میں بننا چاہتا ہوں ۔ چوہدری نثار اور شہباز شریف میرے گھر پر آکر انھوں نے مجھے کہا کہ پلیز آپ بن جائیں ، میں نے میاں صاحب کو کہا کہ میں کیبنیٹ میں رہ چکا ہوں میں وہاں بیٹھ کر تنقید کروں گا اور جو کیبنیٹ کا ماحول ہوتا ہے میں اس کے لیے ایک سینس بن جاؤں گا تو انہوں نے کہا مجھے آپ کی تنقید چاہیے ۔ ایک آدمی چاہیے جو مجھ پر تنقید کرے ۔

مجھے توقعات یہی ہے کہ پاکستان کے کونٹی ٹیوشن کے لیے جنگ کی جائے اور جو اسمبلیاں ہیں ان میں جو میاں صاحب کے دور میں کمی رہ گئی ہیں وہ پوری کی جائیں،۔ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ آپ کی جو تنقید ہے اس کو ہم سنیں گے تو میں یہی کہتا ہوں۔ میں نے کبھی صوبائی اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑا ، وزیر اعظم کا کبھی سوچا نہیں ہے۔ صدارت پر ایک ایشو تھا کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ آصف زرداری صاحب کو ڈیفیڈ دے سکتا ہوں کیوں کہ اس وقت ق لیگ کی جو پوری قیادت تھی سیٹیں ان کے پاس تھی۔ ملاپ چاہتے تھے پارٹیوں کا ، غلطیاں انھوں نے کی تھیں ۔ پرویز مشرف کی طرف چلے گئے تھے ، یہی میں صاحب سے کہتا تھا کہ آپ اکا دکا ایک ایک کرکے ق لیگ لیں گے ان سے آپ کے ہی گئے ہوئے لوگ ہیں ، بھاگ گئے ہیں اگلے نے فائدہ اٹھایا ہے ۔میرے ساتھ وعدہ کیا شجاعت حسین نے پرویز الہٰی نے ۔

سوال: نوازشریف تین دفعہ وزیراعظم بنے لیکن مدت پوری نہیں کر پائے اصل وجہ آپ اس کے پیچھے کیا دیکھتے ہیں؟

جاوید ہاشمی: کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں ، کونسا وزیر اعظم ہے جس نے مدت پوری کرلی ہے ۔ چودہ وزیر اعظم بنے ہیں کسی کو پانچ سال پورے  نہیں کرنے دیے ہیں تو اس میں قصور کس کا بنے گا۔ آکر بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے ۔ سب کا رزلٹ ایک ہی رہا ہے کہ کوئی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا اور جو فوجی سربراہ آئیں ہیں جناب ایوب خان صاحب ، ضیاء الحق صاحب ، پرویز مشرف صاحب انہوں نے دس سال سے نیچے اپنی تھکاوٹ کے لیے بھی اونگائی بھی نہیں لی اور ہلے نہیں اپنی سیٹ سے۔

سوال: طاقت کا سرچشمہ پارٹی کا صدر ہوتا ہے ، شہباز شریف کے بھی آپ اتنے قریب ہیں جتنے آپ نواز شریف کے ہیں؟

جاوید ہاشمی: میرے زیادہ دوستانہ تعلقات انھیں کہ ساتھ رہے ہیں، ہمارے ملک کے اندر لیڈر تو ان کو بنا لیتے ہیں ، آپ تو عہدہ کہہ رہی ہے ۔ وہ اس دنیا میں نہ ہوں تب بھی لوگ اسی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کیوں کہ لیڈر اس پارٹی کا نواز شریف ہے اور وہ جیل میں ڈال دیا جائے پھر بھی ووٹ جو ہے وہ نواز شریف کا ہے۔ شہباز شریف اس وقت صدر ہے اس کا بھی رول ہے پارٹی میں ، لوگ اس کو بھی پیار کرتے ہیں ، کچھ بھی ہو شہباز شریف جب کہہ رہا ہو کہ میرا لیڈر نواز شریف ہے تو وہ پھر کیا کہیں گے۔

سوال: آپ کے پاس ہے یہ خبر کہ ان کو جیل میں ڈالا جائے گا؟

جاوید ہاشمی: میں جاکر دیکھتا رہا ہوں ،میں جب بھی اندر جاتا تھا جیت جاتا تھا ۔ مجھے لوگ ووٹ دے دیتے تھے، جو چودہ مہینے وہ رہے ہیں مجھے معلوم ہیں ، انتہائی تکلیف دہ جیل تھی ان کی  اور اس نے فیس کیا انتہائی تضحیک ، وہ جیل نہیں تھی نواز شریف کو ذہنی طور پر توڑنے کا کام تھا ۔ وہ وقت گزر گیا۔ میں نے ابھی کہا تھا کہ میں جیل میں جاؤں گا ۔ میں جیل کے اندر مرجاؤں میں معافی بھی نہ مانگوں ۔ میں لڑوں گا بھی سہی میں واپس نہیں آتا ۔

سوال: مشرف دور میں آپ نے چار سال جیل کاٹی اور میاں صاحب چودہ ماہ میں معاہدہ کرکے ملک سے باہر چلے گئے تھے؟

جاوید ہاشمی: معاہدے کی بات جو تھی میں نے اس وقت بھی کہا تھا شہباز شریف نے بھی کہا تھا کہ ملک کے اندر رہیں گے تو زیادہ بے عزتی ہوگی لیکن وہ ان کے مسائل یہ تھے کہ ان کے والد صاحب زندہ تھے ۔ ان کا حکم آخری ہوتا تھا ۔ نواز شریف کبھی جیل سے نہیں ڈرا۔

سوال: نواز شریف اس موڈ میں نہیں ہیں کہ چوہدری نثار کو پارٹی ٹکٹ دیں لیکن دوسری طرف سے شہباز شریف کا بیان آتا ہے کہ میں ٹکٹ دوں گا پارٹی کے اور میں چوہدری نثار کو ٹکٹ دوں گا۔ نواز شریف صاحب کہتے ہیں خلائی مخلوق ہیں ہمارا اس سے مقابلہ ہے زمینی مخلوق سے ۔ شہباز شریف صاحب کہتے ہیں کوئی خلائی مخلوق نہیں ہے ۔ نواز شریف کہتے ہیں میں ممبئی حملوں پر دیے گئے اپنے انٹریو پر قائم ہوں ۔ شہباز شریف کہتے ہیں انھوں نےایسا کچھ نہیں کہا، شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ سے قدرے قریب سمجھے جاتے ہیں اور نواز شریف صاحب کوسوں دور ہیں ۔ یہ حکمت عملی کا حصہ ہے یا کوئی اور ہے بات۔

جاوید ہاشمی: میں نے کل جماعت جوائن کی ہے اور میں  اس کے اوپر اپنے خیالات کا اظہار کروں گا ، جو چوہدری نثار کی سیاست ہے اس سے بہت زیادہ اختلافات کرنے والے ہیں لیکن جو پارٹیاں ہیں اور شہباز شریف صاحب بھی جو باتیں کر رہے ہیں ، پارٹیوں میں ہرقسم کی سوچ ہوتی ہے لیکن فائنلی جو ہمارا لیڈر ہے وہ نواز شریف ہے اس کو پتا ہے کہ یہ بھی کہہ رہے وہ بھی کہہ رہے ہیں یہ بھی کہہ رہے ہیں۔ لیکن میں یہ کہتا چلوں گا کہ پاکستان کے لیے جو مشکلات پید ا ہورہی ہیں ۔