نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بریگیڈئیر (ر) فاروق حمید ، سینیر صحافی ارشد وحید چودھری ، سابق ڈپٹی نیب پراسیکیوٹر راجہ عامر عباس سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

11 مئی کو نااہل وزیراعظم نواز شریف جب احتساب عدالت میں پیش ہوئے ۔ وہ جب صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ۔ تو انہوں نے صحافیوں کو لطیفہ سنایا ۔ وہ لطیفہ یہ تھا کہ راجن پور کے ایس پی نے سپاہی سے کہا کہ تھانے کی صفائی نہیں ہوئی ہے کیوں نہ میں تمھارا تبادلہ کردوں جس پر سپاہی نے کہا کہ آپ کا جو دل چاہتا ہے آپ کرلیں ۔ آپ کی جو مرضی ہے آپ کرلیں کیوں کہ میں یہ جانتا ہوں کہ راجن پور سے آگے کوئی تھانہ نہیں ہے اور سپاہی سے نیچے کوئی رینک نہیں ہے ۔ نواز شریف نا اہل ہوچکے ہیں تو نہ تو وہ اب الیکشن لڑسکتے ہیں اور ظاہر ہے جب الیکشن نہیں لڑ سکتے تو پارلیمانی سیاست بھی نہیں کرسکتے تو ملک کی جو سیاست ہے پارلیمانی سیاست میں انکا کوئی رول اب بچا نہیں ہے ۔ دوسری طرف جب وہ نااہل ہوئے تو وہ ناصرف وزیراعظم کے عہدے سے نا اہل ہوئے بلکہ اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی نا اہل کردیا گیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ اجلاس کرکے ان کو قائد تسلیم کرلیا گیا ۔ آج نیب میں جو کیسز ہیں ۔

اس وقت چل رہے ہیں وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ وہ کیسز کتنے اسٹرونگ ہیں ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں یا شاید ان کے اس حوالے سے جیل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پی ایم ایل این کا جو آج پارلیمانی اجلاس ہوا جس میں شہباز شریف صاحب نے اس کی صدارت کی جس میں مسلم لیگ ن کے کئی اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا ۔ اور الیکشن کیمپئن میں ان کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ اونٹ کس طرف بیٹھے گا ۔ کیا مسلم لیگ ن شہباز شریف بچا پائیں گے؟ دوسری طرف نیب کا وہ والا معاملہ جس میں 4.9 بلین کا ایک اوصاف کی خبر پر انکوائری کمیٹی یا انکوائری کمیشن نیب کی طرف سے کہا گیا اور اس کے بعد وہ خبر باؤنس ہوئی کچھ بھی نہیں ہوا تھا ۔ جس پر نیب کے چئیرمین کو پارلیمنٹ میں بلایا گیا تھا انہوں کہ مجھے آج نوٹس موصول ہوا میں اگلی دفعہ میں آؤں گا۔

سوال: نواز شریف کو یہ اندازہ ہے کہ ان کی سیاست بند گلی کی طرف آچکی ہے اور اب جو کرنا ہے کرلو ۔

سینیر صحافی ارشد وحید چودھری: یہ بات درست ہے کہ جو موجودہ سیٹ اپ ہے اس حوالے سے اگر بات کی جائے تو ان کا کہنا درست ہے کہ پرائم منسٹر کا جو پریمیم ہوتا تھا اس سے ان کو ہٹایا گیا بلکہ اس کے ساتھ پارٹی صدارت تھی جس پر ان کی مضبوط گرفت تھی وہ بھی ان سے چھین لی گئی ۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے آپ نے دیکھا ہوگا سینیٹ کو ٹکٹ جاری کیے گئے تھے چوں کہ وہ سینیٹر کو ٹکٹ دیے گئے تھے اس پر سائن بطور پارٹی لیڈر کے ہونے تھے تو وہ اختیار بھی ان سے لے لیا گیا تو اس حوالے سے دیکھا جائے تو موجودہ سیٹ اپ میں یقینا ان کے پاس کھونے کے لیے اور کچھ نہیں ہے لیکن وہ ایک سیاست دان ہیں اور سیاست دان جسے کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی ختم نہیں ہوتا اور نہ آپ اس کو ختم کرسکتے ہیں۔ ان کا اشارہ اسی طرف ہے کہ موجودہ سیٹ اپ میں ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے جو ان کا نقصان ہونا تھا یا کیا جانا تھا وہ ہوچکا ہے لیکن آئندہ کے سیٹ اپ کے حوالے سے اگر ہم بات کریں تو اس پر اس طرح سے اپلائی نہیں کیا جاسکتا ۔ جو ہم ان کی کیمپئن دیکھ رہے ہیں اس کے پیچھے مستقبل ہے ۔

سوال: کیا ان کی پارٹی کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا؟ آج کے پارلیمانی اجلاس میں پارٹی کا ہوا جس طرح ان کے اپنے لوگوں نے ریزائن کردیا ۔ ان کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے لیے تو الیکشن کیمپئن چلانا مشکل  ہو رہا ہے ۔ میاں صاحب کے لیے کھونے کو کچھ نہیں بچا ۔ پارٹی کے پاس بھی کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا؟

سینیر صحافی ارشد وحید چودھری: جن لوگوں کی آپ نام لے رہی ہیں ہم ان کو ان کے ساتھ اس لیے کنیکٹ نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کا اگر آپ پارلیمنٹری ہسٹری اٹھاکر دیکھیں تو یہ تمام وہ لوگ ہیںجو عموما جب نیا الیکشن ہونے جا رہا ہوتا ہے تو وہ دیکھتے ہیں کہ کون سی پارٹی پاور میں آنے جارہی ہے ۔ پارٹی کے موجودہ صدر شہباز شریف چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو اس مشکل وقت سے نکالا جائے بلکہ ان کے ساتھ جماعت کے سینیر لیڈر ہیں چودھری نثار صاحب وہ پوری طرح آن بورڈ ہیں شہباز شریف کے ساتھ وہ بھی چاہ رہے ہیں۔ آپ ان کی کل کی اسٹیٹمنٹ دیکھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہر مسلم لیگی اپنا کردار ادا کرے اس وقت اور مسلم لیگ ن کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے وہ چھا رہے ہیں اس بیان سے ماشی سے مسلم لیگ ن کا ہر بندہ اپنے آپ کو ڈیسٹنس کرے آج ہم پارلیمنٹ پارٹی میں دیکھتے ہیں تو 4 سے 5 لوگ جن میں سے اکثریت پنجاب سے ہے اس کے علاوہ تمام پارٹی کے جو لوگ ہیں انہوں نے مسلم لیگ ن کے قائد جو ہیں نواز شریف اس وقت ان کے اعتعماد کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کی قیادت پر فخر ہے ۔

میں ذرا بریگیڈئیر صاحب اس حوالے سے آپ کی طرف آتی ہوں راجہ عامر صاحب میں آپ کی طرف بھی آرہی ہوں بریگیڈئیر صاحب مجھے ایک بات بتائیے گا کہ ایک تو یہ بات ہو گئے شہبازشریف صاحب وہ شخصیت ہیں جن ان سے پوچھا کہ خلائی مخلوق کیا ہے آپ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ اب آپ نواز شریف صاحب سے پوچھیں پھر ایک جگہ انہوں نے کہا کہ مجھے تو کوئی خلائی مخلوق نظر نہیں آتی وہ شخصیت ایک پارلیمانی پارٹی کے جو اراکن ہیں ان کا اجلاس کرتی ہے اجلاس میں ایک تحفظات کا اظہار ہوتا ہے پھر رانہ ثنا اللھ میڈیا سے بات کرتے ہیں پھر وہ خلائی مخلوق کا ذکر کرتے ہیں یانی چیف منسٹر کو نظر نہیں آرہی لیکن ان کے اندر جو وہاں کا لو منسٹر ہیں اس کو پتا ہے کہ خلائی مخلوق کیا ہے چیف منسٹر کو نہیں پتا نہیں پتا کہ خلائی مخلوق کیا ہے وہ پھر باہر آتے ہیں اور کہتے ہیں جی بلکل ہمارا خلائی مخلوق سے مقابلہ ہے پھر وہ تمام لسٹ گنوا دیتے ہیں کتنا اثر پر رہا ہے ان تمام چیزوں کا ان کی اپنی جماعت میں آپ کو لگتا ہے آئسولیشن کی طرف آج نہیں تو کل میاں صاحب جا رہے ہیں یا جانے والے ہیں۔

بریگیڈئیر صاحب: پروگرام میں آنے سے پہلے میں ایک خبر دیکھ رہا تھا ایک بریکنگ نیوز کہ آج تک آپ تقریبا 50 ایم این اے اور ایم پی اے، پی ایم این این کے وہ پارٹی چھوڑ گئے ہیں مجورٹی ان میں پی ٹی آئی میں چلی گئی تو اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سلولی پی ایم ایل این میں آرہا ہے دوسری امپورٹنٹ چیز میں سمجھتا ہوں کہ ختم نبوت والی ایمینمنٹ اور ممبئی اشو پر جو انہوں نے اسٹیٹمنٹ دی ہے اور ابھی جو لائٹلی ان کی کنونشن ہے جو ہم ایکسپیکٹ کررہے ہیں جو سب ایک  ایکسپیکٹ کررہے ہیں اگلے چند ہفتوں میں لی اور الیکشن سے پہلے وہ فیصلہ ہوجاتا ہے اور کنویکشن ہوجاتی ہے نواز شریف صاحب اور ان کے باقی لوگ جو ہیں تو آپ مجھے بتائیں کہ پارٹی کے الیکشن کا جو الیکٹورل کا سارا پراسسز ہے بلکل ایفیکٹ ہوں گے ، پاکستانی عوام جو ہے وہ بہت سینسیٹف ہے بہت جذباتی ہے ، جب ریجن کے معاملات ہوتے ہیں ، جب پاکستان کے قومی سلامتی ، ریاست کے انٹرسٹ کے معاملات ہوتے ہیں اور پچھلے پانچ ، چھ دنوں میں میں سمجھتاہوں کہ کوئی بائی لارج ان میڈیا گروپ، بائی لارج پیوپل آف پاکستان اور دیکھیں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے جو ہائی ایسٹ ہے ، اس کو پرائم منسٹر چئیر کرتے ہیں ان کے وزراء اس میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ پی ایم ایل این کی گورنمنٹ ہے وہ نواز شریف صاحب کے اسٹیٹمنٹ کو ریجیکٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں گمراہ کن ہے ۔ یہ غلط ہیں ۔

سوال: یہ جو کیسز ڈیلے ہو رہے ہیں اس بیانیہ کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ جی کچھ مل ہی نہیں رہا ہے ۔ ڈھونڈ رہے ہیں ہمارے خلاف کچھ ہوتا تو سامنے آجاتا ؟

سابق ڈپٹی نیب پراسیکیوٹر راجہ عامر عباس: آپ نے انٹرو میں کہا تھا کہ اب ان کے پاس کھونے کے لیے اب کچھ نہیں ہے۔ اور راجن پور سے آگے کوئی تھانہ بھی نہیں ہے۔ اب دیکھیں کہ تھانے کے بعد ایک جگہ ہوتی ہے جس کو جیل کہتے ہیں جیل ہوتی ہے اور کھونے کے لیے بہت کچھ ہے ۔ کیوں کہ جو سب سے قیمیتی ان کی چیز ہے وہ ہے ان کے ایسٹ یہ اربوں روپے کے ایسٹ اگر یہ ان کنویکشن ہوتی ہے تو یہ تمام جو ان کے اور ان کے بچوں کے نام پر ہے بے نامی نام پر ہے یہ تمام فولڈ فیچر ہوگا یہ ضبط ہوں گے ۔ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ یہ بے نامی تھے ، آپ کے بچے چھوٹے تھے ، ان کے پاس کوئی سورس آف انکم نہیں تھی یہ 1993 میں خریدے گئے تھے ، تو یہ تمام چیزیں ضبط ہوں گی اور یہ بہت بڑا دھچکا ہوگا ان کے لیے ، کیوں کہ سب سے قیمتی چیزیں وہ یہی سمجھتے ہیں ۔

آپ نے بات کی کہ میاں صاحب باہر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے خلاف کچھ بھی نہیں ہے ۔ نہ ٹٹول رہے ہیں ، ڈھونڈ رہے ہیں ، یہ ہمارا تجربہ ہے کہ ملزم ہمیشہ یہی کہتا ہے آپ یہ دیکھیں کہ جب وہ عدالت کے باہر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ ملزم نواز شریف ہوتے ہیں جن کا اندر کیس چل رہا ہوتا ہے اور ملزم کبھی باہر آکر یہ نہیں کہے گا کہ جی میرے خلاف تو کافی ایویڈنس آگیا ہے مجھے سزا دے دی جائے گی۔

آپ کے علم میں ہوگا کہ نیب کورٹ نے 127 سوال ان کو دے دیے ہیں جس کا جواب ان کو کل جمع کرانا ہے یہ 342 کی اسٹیٹمنٹ ہوتی ہے ۔ 342 کی اسٹیٹمنٹ کیا ہوتی ہے؟ یہ ہوتی ہے کہ آپ کے خلاف یہ یہ انکریمنٹینگ مٹیریل ، آپ کے خلاف یہ یہ شواہد آئے ہیں جس میں آپ ملوث نظر آرہے ہیں ان کا جواب دے دیجیے، نارملی 15، 20، 30 ہوتے ہیں لیکن ان کے کیس میں کورٹ نے 127 ایوڈینسز نکالے ہیں اور آپ ایک بھی چھوڑ نہیں سکتےہیں ۔ آپ جواب دیجیے کہ یہ کہاں سے آئے ، یہ کیا ہے ، یہ ایویڈینس ہیں اپنے پاس سے کوئی چیز نہیں ہے ۔ 18 گواہان ہوئے ہیں انھوں نے جو مواد دیا ہے جو ایویڈنس لاکر دیا ہے اب یہ کل اس کا جواب دیں گے اور جب وہ پبلک ہوں گا تو آپ دیکھیں گے کہ کیا الیگیشن ہیں۔ ایک بہت اہم سوال ان سے کیا جائے کہ آپ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہے تو کیا آپ حلف پر بیان دینے کے لیے تیار ہیں کہ ان پراپرٹیز سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اور اگر وہ کہتے ہیں کہ میں اوتھ پر بیان دوں گا یہ ان کے پاس آپشن ہے تو پھر ان سے جرح ہوگی جیسے واجد ضیا پر ہوتی رہی۔ پھر سوال ہوگا کہ میاں صاحب فلور آف دی ہاؤس پر کہا تھا کہ یہ ہیںوہ شواہد جو آپ نے اسپیکر کو دیے تھے کیا آپ نے وہ عدالت میں جمع کرائے ہیں شواہد ۔ اس کا میاں صاحب کیا جواب دیں گے۔  میں نہیں سمجھتا کہ وہ اوتھ کی طرف جائیں گے۔