نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سینیر تجزیہ کار اویس توحید اور دفاعی تجزیہ کار ائیرمارشل(ر) شہزاد چوہدری سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

نواز شریف کا ایک بیانیہ اور نیرٹف جو بہت زیادہ چھایا ہوا ہے وہ کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق ہے اور ساتھ میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ زمینی فوج کا ان سے مقابلہ ہے۔ میاں صاحب سے سوال یہ کرنا ہے کہ میاں صاحب آپ جس کو خلائی مخلوق کہتے ہیں وہ یہی مخلوق  ہے کیا آپ ان سے مقابلہ کر سکتے ہیں جو اپنی جانیں قربان کرتے ہیں ۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر آپ ان ہی کو خلائی مخلوق کہتے ہیں۔

ہم نے دیکھا کہ کوئٹہ میں آپریشن کے نتیجے میں اور ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں اور ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کس طرح سے ہزارہ جینوآکسائیڈہورہی تھی۔ چیف آف آرمی اسٹاف خود وہاں گئے ان کے زخموں پر مرہم رکھے اور ان کو یقین دہانی کرائی کے آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے ۔ پھر خفیہ اطلاع پر ایک آپریشن ہوا ۔ اس آپریشن کے نتیجے میں کرنل سہیل عابد شہید ہوگئے ان کی زندگی کی جھلک جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کردیا ۔

جب سوشل میڈیا پر خلائی مخلوق ہوا تو وہ کاؤنٹر بھی ہوا۔ اور کاؤنٹر کس نے کیا ۔ شہباز شریف جو کہ پی ایم ایل این کے صدر ہیں ان کی اہلیہ تہمینہ درانی صاحبہ وہ لکھتی ہیں کرنل سہیل عابد سہیل کی تصویر کے ساتھ کہ کیا خلائی مخلوق ہے؟

کرنل عابد سہیل کے بارے میں بتایا گیاکہ وہ ایم آئی کے کرنل تھے ۔ ان کی جاب نہیں تھی کہ وہ یہ آپریشن کرتے لیکن انھوں نے اپنی سروسز دیں اور انھوں نے خود کہا کہ میں اس آپریشن میں حصہ لینا چاہتا ہوں۔ اس آپریشن میں لشکر جھنگوی کا صوبائی سربراہ ساتھیوں سمیت مارا گیا اور کرنل سہیل عابد شہید ہوئے ۔

کرنل سہیل عابد لکھنے لکھانے کا بھی شوق رکھتے تھے انھوں نے اپنی لکھی آخری نظم میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ۔

میری وفا کا تقاضا کہ جاں نثار کروں

اے وطن تیری مٹی سے ایسا پیارکروں

میرے لہو سے جو تیری بہار باقی ہو

میرا نصیب کے میں ایسا بار بار کروں

خون دل سے جو چمن کو بہار سونپ گیا

اے کاش ان میں خود کو شمار کروں

میری دعاہے کہ سہیل میں بھی شہید کھلاؤ

میں کوئی کام ایسا یاد گار کروں

کرنل سہیل کی یہ خواہش تھی اور ان کی یہ خواہش پوری بھی ہوئی ۔ ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ ان کو خراج تحسین پیش کی جائے ، خراج عقیدت پیش کیا جائے کہ کس طرح سے وہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اور جب ہم اس قسم کے الفاظ اور اس قسم کی باتیں کر کے ان کو سیاست میں گھسیٹتے ہیں تو پھر ہماری جو فوج ہے اور ہمارے جوان ہیں ان کا مورال کہا پر ہوگا ۔ نواز شریف کا جو بیانہ جس میں انھوں نے پہلے کہا کہ مجھے کیوں نکالا اور ان کو لگا کہ یہ بڑا مقبول بیانیہ ہے جب وہ پرانا ہوگیا تو نیا خلائی مخلوق کا لیکر آئے ۔ کتنا مقبول یہ بیانیہ ہے اس حوالے سے ہم بات کریں گے ان کے لیے شاید بہتر ہو ۔ ان کی سیاست کے لیے بہتر ہو۔ ان کی اپنی صاحب زادی کے لیے بہتر ہو لیکن کیا یہ مسلم لیگ ن کے لیے بھی بہتر ہے ؟

کیا اس پارٹی کے لیے بہتر ہے جس کا پارلیمانی اجلاس ہوتا ہے تو وہاں پر ریزرویشن آتی ہیں کہ ہم پارٹی کو کس طرف لیکر جارہے ہیں اور نواز شریف صاحب کس قسم کے اسٹیٹمنٹ دے رہے ہیں کہ ان کے لیے الیکشن کیمپئن کرنا مشکل ہو رہاہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے رول پر بات کریں گے جس پر نوازشریف بیان دے رہے ہیں اور تمام سوشل میڈیا پر جس طرح ان کے صاجزادی کہہ رہی ہیں تو لگتا یہ ہے کہ پوری کی پوری اسٹیلبشمنٹ وہ ان کے خلاف اور پھر جس طرح سے انھوں نے ڈان اخبار کو حال ہی میں انٹریو دیا اور انٹرنیشنل لابنگ کرنے کی کوشش کی کہ ان کو کیوں نکالا۔

شہزاد چودری صاحب، اویس توحید ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ موجود ہیں اسلام علیکم شہزاد چودری بہت شکریہ آپ کے ٹائم کا اویس توحید صاحب سینئر تجزیہ کار ہیں ان کی جو خدمات ہیں جو ان کا تعاروف ہے وہ تو نہیں ہے میرے پاس اسلام علیکم اویس توحید صاحب بہت شکریہ آپ کے ٹاہم کا بھی اچھا اویس توحید صاحب اس سے پہلے شہزاد چودری صاحب سے بات کروں اس کی وجی یہ ہے کہ وہ ڈیفینٹ اینالیس ہیں اور آپ جرنالسٹ ہیں ہمیں پتا ہے کہ وہ کس حوالے سے بات کریں گے لیکن جو پولیٹیکل بات ہے وہ پولیٹیکل بات یہ ہے کہ نواز شریف صاحب کا یہ بیانیہ جس کو کہہ رہے ہیں کہ عوام نے بہت زیادہ مقبول ہو رہا ہے مجھے کیوں نکلا کے بعد خلائی مخلوق اس کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں کیا یہ نواز شریف صاحب کی سیاست کے لیے بہتر ہے اور اگر میں اس کا کمپیریزن ملک نیشنل انٹرسٹ سے کرنا چاہو تو اس کا کیا امپیکٹ ہوگا

اویس توحید صاحب:  28 جولائی کی نہ اہلیت کرار دینے کے بعد نواز شریف نے ایک عدلیہ مخالف بیانیہ کیا ان کی صاحزادی مریم نواز صاحبہ ان کے ساتھ رہی نیپ ریفرنس کیسز پھر گڈاپ میں ہم نے دیکھا اب وہ ایک منتقی انجام تک پہنچ رہے ہیں نیپ مکاتمات اور نواز شریف صاحب یہ سمھجتے ہیں جو ان کے خلاف ملیٹری اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشنلی کا جو ایک نیسز ہے بقول ان کے وہ ان کے خلاف ایک سازشی جال بن رہا ہے لیکن ہمیں ایسا لکتا ہے کہ جیسے وہ اب ایک بند گلی کے اندر ہیں اور اس بیان کے ساتھ اس انٹرویو کع دوران جس میں انہوں نے ممبئی حملے کے اندر یہ مبیانہ الزام لگایا ریاست کو چارشیٹ کیا اپنی سیاسی ایف آئی آر میں ریاست کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو شامل کیا اور وہ جس کے ریجنل اور انٹرنیشل دونوں ہمیں بھگدنے پڑیں گے کہ 3 مرتبہ منتخب وزیراعظم ایک زمدار شخصیت جس کو زیاست دیں جس کو عوام نے گیٹ کیپر کے یہاں پر منتخب کیا اس پاکستانی ریاست میں وہ اس طرح کا بیان دینے کے بعد وہ سمھجتے ہیں کہ اب وہ ریاست کو بھی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس بند گلی میں لے کے آنا چاہ رہے ہیں جہاں پر وہ خود کھڑے نظر آرہے ہیں تو انہوں نے جہاں پر اپنی جو داو پر لگی جو سیاست ہے اس کو بچانے کے لیے اور اس بیانیہ کے لیے جہاں پر ان کو اترازاد کا سامنا تھا۔

پی ایم ایل ن جس کی تاریخ جس کا ڈی این اے جو ہے وہ مظاہماتی تاریخ نہیں ہے اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے اور اس کو ایک ایسی راہ پر لا کر کھڑا کردیا دوراے پر ان کے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نوازشریف جس کے نام پر ووٹ ہیں پنجاب کے اندر بلخصوس پنجاب کے اندر اس بیانیہ پر چلیں گے یہ پھر ساتھا میں انہوں نے داو پر لگا دیا اور اس پکڈنڈی پر لے کر آگے ہیں شہباز شریف کو چودری نثار کو بہت سارے ایسے لیڈران جو اس بیانیہ کے ساتھ آگے نہیں چل نہ چارہے تھے کہ اب انہیں آگے کیا کرنا ہے تو بہت کچھ داو پر لگایا ہوا ہے امتحان میں ڈال دیا ہے ریاست کو اپنے آپ کو اپنی پوری جماعت ن لیگ کو اور ساتھ ساتھ میں پنجاب کی عوام کو جو انہیں ماظی کے اندر ووٹ اتے رہے ہیں۔

اچھا اویس توحید صاحب ایک سوال یہ کہ جب یہ ڈواں لیگز کا واقعہ ہوا اچھی طرح سے آپکو یاد ہے پھر جب چینج آف کمانڈ ہوئی اور چینج ہوئی اور باجوہ صاحب چیف آف آرمی اسٹاف بنے اور مجھے یاد ہے کہ جب وہ کھڑیا کے وزٹ میں گئے تھے تو ان سے سوال ہوا تھا کہ ڈوان لیگز کا کیا ہوا اب جو دوبارہ ڈوان لیگز پارٹ ٹو کہہ لیں وہ بھی اتفاق سے ہوئی۔ تو اب سوشل میڈیا اٹھائیں سوشل میڈیا پر یہ چل رہا ہے ٹینڈ کہ یہی وہ خلائی مخلوق ہیں وہ بچہ جس کی تصویر جو کرنل شہید ہوتے ہیں ان کی شودا کی تصاویر کے ساتھ ان شہید کی تصاویر کے ساتھ ان کے جو لواحقی ہیں ان کی تصاویر عیون جو شہباز شریف صاحب کی اہلیہ ایک ٹوئٹ کرتی ہیں کہ یہی وہ خلائی مخلوق ہیں پھر ہم اپنی فورسز کا اپنے جوانوں کا مورال لو کر رہیں ہیں۔

اویس توحید صاحب: نادیہ دیکھیے جہاں تک نون اسٹیڈ ایکٹرز کا ہے وہ تو شہزاد چودری صاحب ہم سب لوگ بھگت چکے ہیں 60 ، 70 ہزار لوگ شہید ہوئے ہیں جس کے اندر ہمارے 5 ہزار سے زیادہ سیکورٹی فورسز کے جوان ہیں خواتین ہیں بچے ہیں تو ہم سب ہی بھگت رہے ہیں ان پر کوئی تنقید کرنا ذہرئی بات ہے ہم بھگت رہے ہیں۔ دوسرا قربانیوں کا جو ہے وہ عوام کی ہیں جیسے اعتزاز لڑکا ہے جس نے اسکول کے اندر حملہ آور کو پکڑ لیا جس طرح ہمارے جوان ہیں جس طرح ہمارے جوجی افسران ہیں ان کی قربانیاں ایک طرف لیکن اس وقت جو ہم بات کر رہے ہیں وہ یہ بات کر رہے ہیں اس نیریٹف کے ساتھ جوڑا ہوا کے اسٹیبلشمنٹ کا ماضی سیاست کے اندر ان کی انٹرفیرنس اور خود سیاسی جماعتوں کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گڑ جوڑ یہ دونوں چیزیں ہیں۔

اس ہی طرح سے ہم اصغر خان کیس دیکھ رہیں جو سپریم کورٹ میں لگا ہوا ہے وہ ماضی کے کردار میں اکاسی کر رہا ہے نواز شریف صاحب کہ کس طریقے سے وہ آئی جے آئی کے اس میں انہوں نے کس طرح آئی ایس آئی کے پولیٹیکل سینس نے پیسے لیے تو یہ دونوں طرف ہیں اور جو اس کا مستبل ہے وہ کہاں پر ہوگا تو نواز شریف صاحب کا اس وقت جو نیریٹف ہے وہ دیکھیے دو مختصر بات یہ ہے ہمیں یہ لگتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی ازایم کی تکمیل کے لیے اسے راہ فرار کے لیے وہ یہ نیرٹف بنا رہے ہیں کیونکہ انکے ڈے ان اے یہ ان کا جو ماضی ہے اسکی اکاسی نہیں کرتا اسکا آپ نے مجبھے ابتدائی میں زکر کیا اور آصف علی زرداری جس کا زکر کررہے تھے دوسری جانب آپ جو بات کر رہی ہیں بلکل ٹھیک لکتا ہے انہوں نے انتخاب ایسے انگریزی روز نامہ میں کیا ہے جس کی رصائی انٹرنیشنل آنکھوں میں انٹرنیشنل کمیونٹی کی آنکھوں کے لیے وہ پیغام رسانی کا کام کرتا رہا ہے کیونکہ نیوز پیپر سمجھاجاتا ہے انگریزی روز نامہ تو انہوں نے واضے طور پر پلینگ کے تحت کیا ان کے جو ساتھی ہیں وہ اس کو چاہے چھوٹلاتے رہیں کہتے ہیں اقاعت کو مرور طرور دیا لیکن شہزاد چودری صاحب انہوں نے کیا کرا نادیہ انہوں نے وہ اسٹوری لے کے اپنے سینے سے لگائی کہ اس میں جو کچھ کہا ہے کیا غلط کہا ہے آپ خود کمیشن بیٹھا لیں تو ایک بڑی پلینک کے ساتھ آگے چل رہے ہیں لیکن ایسا پلین جس میں انہوں نے سب کو امتحان میں ڈال دیا ریاست کو امتحان میں ڈال دیا۔

شہزاد چوہدری صاحب میرا ایک نیراٹف ہے اس پر میں آپ کی رائے بھی چاہو گی لیکن ابھی جب اویس توحید صاحب بات کر رہے تھے تو آئی ایس آئی کی پولیٹیکل سیل کی بات کی اور پھر ازغر خان کیس کی بھی بات کی مجھے تھوڑا سا بتایئں ہمارے ویوز کے لیے بتایئں آئی ایس آئی کا پولیٹیکل سیل ہے یہ کس طرح سے بنا اور اس کا کام کیا ہے۔

شہزاد چوہدری صاحب: ابھی نہیں ہے 1975 میں ذولفقار علی بھٹو صاحب نے بنایا تھا اور اس کا مطلب یہی تھا کہ جو سیاسی ان کے اپوزیشن ہیں اور یہ یاد رکھیں بہت بڑی اپوزیشن تھی اس زمانے میں خان ولی خان جس کے بیٹے اسفند یار ولی ان کے اتحادی ہیں وہ سب سے بڑے مخالف تھے بھٹو صاحب کے اس وقت عاسم ولی بزنجو بلوچستان سے یہ سب کے سب لوگ جو تھے یہ ایک ایسا جیسے کہتے ہیں نہ نیشنل فرنٹ بن گیا تھا ان پارٹیز کا فرم پختونخان ایس ویل ایس بلوچسستان جو کہ ان کو بہت بدر کرتا تھا کیونکہ یہ جو کھڑے ہوجاتے تھے ان کے سامنے اور بھٹو صاحب کبھی کسی کی بے شق وہ بہت ہی قابل آدمی تھے لیکن اپنی اپوزیشن اسانی سے برداشت نہیں کرتے تھے تو ایک وہ بھی وجہ تھی تو اس وقت بلوچستان پڑا اکٹف ہوا تھا پریشانی بھی کریٹ کررہاتھا تو اس زمانے میں انہوں نے یہ کریٹ کیا اس کا  مطلب یہی تھا کہ جو اپوزیشن ہے اس کو دبایا جائے اس کو پکڑا جائے۔

میزبان: اچھا سر میرا آپ سے سوال پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ آج جو تمام سیاسدان جو ہمارے شوز میں ہیں شوز سے پہلے شوز کے بعد رونا روتے ہوئے آتے ہیں رونا روتے ہوئے جاتے ہیں کے ہمیں کام نہیں کرنے دیا جاتا فوج انٹروین کرتی ہے آئی ایس آئی ہمارے کاموں میں دخل اندازی کرتی ہے تو انکو یہ دخل اندازی کا لائسنز انہی سیاسدانوں نے کیا

شہزاد چوہدری: میرا خیال ہے کہ دخل اندازی اس طرح نہیں ہوتی جس طریقے سے کہا جاتا ہے یہ تاریخ کو جب ہم کورٹ کرتے ہیں نہ ہم لوگ ہمارا تاریخ کا بوج تو بہت ہے اس میں کوئی شق نہیں ہے لیکن پمیں یہ بھی ساتھ ایک ریل اسٹیک ہونا چاہیے کہ آج بھی اسی طریقے سے ماملات ہورہے ہیں جیسے آپ سمھج لیجیے پچھلے زرداری صاحب کے دور  میں ابھی مشرف کے بعد کے جو ابھی 10 سال جمہوریت ہے ہیں بہت مشکل وقت تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے اچھا اس کے بات خاص طور پر بھی ان کے جب یہ آئے تو یہ تو بہتر سوچ کے ساتھ اور بہتر امید کے ساتھ سب کے لیے ایک بہتر امید لے کر آئے تھے نواز شریف صاحب لیکن آتے ہی ان کو مشکلات پر گئی۔ یہ ابھی کورٹ کرتے ہیں کبھی دھرنے کی کبھی کیا کبھی کیا لیکن آپ ان تمام پریٹ کے دوران بڑے بڑے فیصلے ہوئے ان پر ذرا سوچ لیجیے مثل کے طور پر افغانستان، یمن کے اوپر مثل کے طور پر امریکہ کے آگے کھڑے ہونے والا مسئلہ جو تھا جس کے سلالہ ہوا اچھا یہ سب کے سب جتنے ہوئے سب کے اندر کیا ہوا کہ سیاستدان پرلیمنٹ اور فوج اکھٹے پیج پر کھڑے ہوئے تب ہی اتنے بڑے فیصلے ہم کر پائے ۔

سعودیہ عرب جیسے ملک کو یہ کہہ دینا نہیں بھائی ہم تمہاری بات نہیں مان رہے ہمارے انٹرسٹ ہمیں کچھ اور ڈیفائن کر رہا ہے یا یہ کہہ دینا امریکہ کو کے سیریہ میں ہم اپنی افواج نہیں بھیجے گے کیونکہ ہمارے انٹرسٹ اپنے کچھ اور ڈیفائن کررہے ہیں ۔ یہ تب ممکن ہوتا ہے جب تمام ادارے کام کر رہے ہوتے ہیں  ۔

سوال: جس طرح سے انھوں نے ابھی آئی ایس آئی کے رول پر انھوں نے بات کی جو بیانیہ نواز شریف کا خلائی مخلوق اس کا مقصد یہی ہے کہ مجھے ہٹایا جا رہا ہے پلاننگ کے تحت ہٹایا جا رہا ہے فوج ہمیں چلنے نہیں دے رہی ، سیاسی حکومت کو چلنے نہیں دے رہی ۔ شہزاد چوہدری صاحب کہہ رہے کہ ابھی کوئی پولیٹیکل رول نہیں ہے ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ انھوں نے جو بویا وہی کاٹا ہے؟

سینئیر تجزیہ کار اویس توحید: تھوڑی تاریخ کی تلخ حقیقتوں کو انھوں نے چھیڑا ہے ۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ جب آئیں 1986 میں ہم لاہور گئے اس وقت یونیورسٹی میں تھے ایک ۔ لاکھوں کا مجمع تھا اور اس میں جو ان کا ہارڈ کوڈ ورکر تھا اس کا یہ تھاکہ امریکا کے خلاف یہاں پر آواز بلند کرے وہ انھوں نے نہیں کی کہ کس طرح سازش میں امریکا تھا اور پھر ان کو یہ بھی مشورہ دیا گیا بہت سارے لوگوں کی طرف سے جو کلوز سرکل تھے کہ آپ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر اقتدار نہ کریں ورنہ پھر یہ عارضی ثابت ہوگا ۔  اور اس کا مجھے خود مظہر عباس۔ اور ایک دو اور ہمارے دوست تھے مرتضی بھٹو نے کہا کہ اس وقت شام کے اندر تھے بے نظیر ان سے ملنے گئیں انھوں نے کہا کہ بہن ابھی آپ نہ کریں یہ پھر سے آپ کا ہوگا۔ اور یہی ہوا ۔

تالی صرف ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی ۔ ایم کیو ایم کے ساتھ ان کی تشدد والی سیاست عدم برداشت کی سیاست کتنی دفعہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ ساز باز کی اور سپورٹ ان کو دی ۔ اس وقت وہ کیوں تتر بتتر ہیں ۔ اسی طرح پیپلز پارٹی پر اس وقت کیوں الزام تراشی ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی کھڑکی دروازے دیکھ رہی ہے کیوں کہ پنجاب کے اندر کہیں نہ کہیں عوام کے اندر جو سپورٹ تھی ۔