نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر سحرکامران ، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سینیٹر میاں عتیق اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

دنیا میں پنجاب کا نام ہوا ، جھوٹا نیازی کا ہر الزام ہوا، اور زرداری بری طرح ناکام ہوا، یہ سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی شہباز شریف صاحب نے ایک کوشش کی ہے اور بتادیا ہے کہ اگر کوئی کامیاب ہوا ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہے لیکن دوسری سیاسی پارٹیز اس پر اعتراض بھی رکھتی ہیں اور اس کو کاؤنٹر بھی کریں گے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہوتا ہے کہ جب الیکشن ائیر ہوتا ہے تو سیاسی پارٹیز ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی کوشش کرتی ہیں،۔ جنھوں نے پرفارم اچھا کیا ہوتا ہے وہ اپنی پرفارمنس کو سامنے لیکر آرہی ہوتی ہیں۔ جن کو پرفارم کرنے کا چانس نہیں ملا ہوتا وہ اپنے پلین سے اپنے پروگرام سے اپنے ووٹر سپورٹر اور عوام کو مرغوب کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں۔

یہ بہت اچھی بات ہے لیکن دوسری طرف اسی جمہوریت کے حسن کی جب ہم بات کرتے ہیں تو اس کو کہیں نہ کہیں گرہن لگ رہا ہے کیوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک اس حکومت کے خاتمے کو 8 دن رہ گئے ہیں لیکن ابھی تک یہ طے نہیں پاسکا ہے کہ نگراں وزیر اعظم کون ہوگا۔ آئین کے مطابق لیڈر آف دی اپوزیشن اور لیڈر آٓٓف دی ہاؤس اس بات کو ڈیسائیڈ کرتے ہیں ان میں بات چیت ہوتی ہے میٹنگ ہوتی ہے ، اپوزیشن اپنے نام دیتی ہے ، حکومت اپنے نام دیتی ہے بظاہر تو یہ ہے کہ خاقان عباسی صاحب بیٹھیں اور خورشید شاہ صاحب بیٹھیں ۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ خورشید شاہ صاحب کے پیچھے زرداری صاحب بیٹھے ہیں اور شاہد خاقان عباسی کے پیچھے نواز شریف صاحب بیٹھیں ہیں اور وہ اپنے اپنے نام  اور اپنی اپنی چیزوں پر ان کے تحفظات ہیں ۔

سوال: آپ اس بات سے متفق ہیں کہ نگراں وزیر اعظم کا نام کنسینزیز کے ساتھ فائنل کرلینا چاہیے بجائے اس کے کہ 2013 والی سچوئشن ہو پھر آپ کہیں گے کہ خلائی مخلوق نے یہ کردیا ۔ کسی کو چابی دے دی ۔ بہتر نہیں ہے کہ آپ لوگ آپس میں طے کرلیں ، یہ طے کیوں نہیں ہو پا رہا ہے؟

سینیٹر نہال ہاشمی: میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ چیز بہتر ہے احسن ہے اور اسی طریقے سے ہونا چاہیے جو آئین میں ہے مروجہ طریقہ کار ہے ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندر شاید اس حوصلے کی کمی ہے۔ یہ ڈر ہے کہ اگر ہمارے من پسند وزیر اعظم نہیں آئے تو شاید اگلے الیکشن میں مخالفین کو فائدہ ہو ۔ اگر مخالفین کے لائیک مین آگئے ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیاسی پارٹیوں کو اس سے بالا تر ہو کر اس سے بلند ہو کر سوچنا چاہیے ۔ اپنی پارٹی سے بالا تر ہوکر پاکستان کے لیے سوچنا چاہیے ۔

سوال: یہ بات آپ دونوں کے لیے کر رہے ہیں پیپلز پارٹی کے لیے بھی اور پی ایم ایل این کے لیے بھی؟

سینیٹر نہال ہاشمی: میں گورنمنٹ کی بھی بات کر رہا ہوں اور اپوزیشن کی بھی اور جو دیگر سیاسی جماعتیں ہیں میں ان کی بھی بات کر رہا ہوں کہ ہر کوئی پاکستان کو بعد میں رکھتا ہے اور پہلے پارٹی کو سامنے رکھتا ہے ،پہلے وہ رکھتا ہے کہ میرا لیڈر کیسے مطمئن ہو ، اپنے صوبے کو سامنے رکھتا ہے اپنی قوم کو اپنے حلقے کو سامنے رکھتا ہے میرے خیال سے وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستان کے عوام کو اس کے انٹرسٹ کو پہلے سامنے رکھیں اسکے بعد اپنی پارٹی اور دیگر چیزوں کو سامنے رکھیں ۔

سوال: کیا چیز آڑے آرہی ہے نواز شریف کی مرضی آڑے آرہی ہے یا نواز شریف صاحب نہیں مان رہے ۔ سنا ہے بلاول بھی اس میں کہیں نہ کہیں ہیں موجود ہیں ، کیا چیز ہے جس پر آپ لوگوں کا کنسینزز نہیں ہورہا وزیر اعظم کے نام پر ؟

سینیٹر سحر کامران: سب سے پہلے تو ہم کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ کئیرٹیکر سیٹ اپ ، کئیرسیٹ اپ ہے  ۔ میں ان سے متفق ہوں کہ ہمیں سامنے یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم نے یہ پروف کرنا ہے کہ سیاست دان ایک دفعہ پھر فیل ہوگئے ؟ یا پھر ہمیں سیاسی اور پولیٹیکل میچورٹی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ جو آئینی ذمہ داری تھی لیڈر آف دی اپوزیشن نے نام تجویز کردیے ، میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ لیڈر آف دی اپوزیشن نے باقی پارٹیوں سے بھی مشاورت کی ہوگی۔ اصل میں ہم میڈیا پر اظہار رائے کرتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اس کے بجائے اگر سیاست دان اپنی مشاور وہاں کریں جہاں ان کو کرنی چاہیں اور اپنی کامیابی دیکھائیں ایک متفقہ لائحہ عمل میں اور متفقہ نام پر ۔

سوال: پولیٹیکل میچورٹی ہمارے رہنماؤں میں نہیں ہیں ؟ پولیٹیکل پارٹیز کے رہنماؤں میں نہیں ہیں؟

سینیٹر سحر کامران: جو نام آرہے ہیں کل کو ان ہی میں سے کسی کو ادھر سے یا ادھر سے ، کسی کینڈیڈیٹ نے انہی میں سے کئیرٹیکر پرائم منسٹر بننا ہے ، ہم کیوں شخصیات کو میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کیوں ہم اپنی رائے کا اظہار ایک بند کمرے میں جہاں پر بیٹھنا چاہیے سیاسی لیڈرز کو وہاں بیٹھ کر نہیں کر رہے یہ جو نمبر گیم ہے بریکنگ نیوز ہے اس سے باہر نکلیں اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کریں، مشاورت کا عمل وہاں ہو جو فورم ہے مشاورت کا ۔

اعجاز چوہدری صاحب آپ بھی اس بات سے ایگری کرتے ہیں جو ہماری پولیٹیکل پارٹی ہیں جو پولیٹیکل لوگ ہیں جو پولیٹیکل رہنما ہیں لیڈرز ہیں وہ پولیٹیکل مچیورٹی کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور اگر کنسرسز نہیں ہو پاتا ہےتو پھر یہ سیاستدانوں کی کفیلیر ہوگا۔

اعجاز چوہدری: بہت شکریہ نادیہ پہلی گزارش تو یہ ہے تحریک انصاف ابھی تک اس مرحلے میں نہیں آئی کہ جہاں پر مشاورت کا وہ حصہ بنیں ماظی کے اندر جو کچھ ہوتا رہا ہے۔ ہم نے تو ظاہر ہے میڈیا کے ظریعے فلیوڈ کیا ہے کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی پنجاب کے وزیر اعلی ہیں اپوزیشن لیڈر ہیں۔

سوال: اعجاز صاحب وہ یہ کہہ رہی ہیں شاہ محمود قریشی کی جو آپ کے پارلیمانی لیڈر ہیں ان کی لیڈر آف اپوزیشن خورشید شاہ سے ملاقات ہوئی تھی اور یہ شاہ محمود قریشی نے مجھے بھی بتایا تھا۔

اعجاز چوہدری:  اس ایشو کے اوپر کوئی ملاقات نہیں ہوئی میں آپ سے عرص کرتا ہوں جب یہ تیسری دفہ وزیراعظم سے ملاقات ہوئی اپوزیشن لیڈر کی تو اس کے بعد یہ زرا نامہ پیامہ شروع ہوا ہے ورنہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہمارے لیڈر کی اور اپوزیشن لیڈر کی میں یہ عرض کررہا ہوں کہ پچلی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ان کے پاس اکثر اوقات اقدار رہا ہے انہیں تو ظاہر ہے خود ہی ایڈمیٹ کرنا چاہیے اگر ان کا کوئی عمل اس پہلو سے درست نہیں رہا تو ذمداری بھی ان کی ہے تحریک انصاف کی ذمداری یہ ہے کہ وہ پنجاب کے اندار اپوزیشن میں ہیں ہم انتظار کررہے ہیں کہ چیف منسٹر پنجاب کس دن رابطہ قائم کرتے ہیں۔

سوال: وہاں تو ایک ملاقات بھی نہیں ہوئی ہے

اعجاز چوہدری:  نہیں کوئی ملاقات نہیں ہوئی کوئی پیغام رسانی نہیں ہوئی کچھ نہیں ہوا۔ خیبر پختونخواں کے اندار ملاقات بھی ہو چکی ہے اور پیغام رسانی بھی ہوچکی ہے ہم یہ سابط کریں گے کہ تحریک انصاف یوہی منظر آم پر آئی ہے اور ایسے ماملات کے اندار اپنی رائے زانی کرنے کا اختیار اسے حاصل ہوا ہے تو ہم پوری طرح جمہوری روایات کو قائم رکھیں گے باقی دونوں جو بھی ہمارے رہنما ہیں انہوں نے اپنا اظہار خیال کیا ہے لیکن ماظی میں ان کو یہ موقع مل سکا اور وہ قوم کی امنگو کے اوپر پورا نہیں اتر سکے ہم یہ چاہتے ہیں بے شک پی پی اور ن لیگ مل کے بنائیے لیکن بعد میں ایسا ہو کہ لوگ اس کے اوپر اتماد کریں۔

سوال: بلکل صحیح بات کی ہے آپ نے اعجاز چوہدری صاحب آپ نے بات یہ ہے کہ 2014 سے جو ہم دیکھ رہے ہیں جو ریگنگ ہوئی دھاندلی کے معاملات اٹھائے گئے اس کو لیکر دھرنا ہوا تمام چیزیں تو کیا ہم اس چیز کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں جو الیکشن ہوں گے وہ شفاف ہوں گے جن ہاتھوں سے ہوں گے وہ ایک انڈیپنڈینٹ ادارہ ہے پلز اس کے جو رزلٹ ہوں گے وہ سب کے لیے قابل قبول ہوں گے اس پر میں بات کروں گی میاں عتیق صاحب پہلے زرا اس پر اپنی رائے دے دیں کہ یہ جو پولیٹیکل انسکیورٹی کا بتایا جارہا ہے جو پولیٹیکل مچیورٹی نہ ہونے کا بتایا جارہا ہے تو یہ تو تمام باتیں ہو رہی ہیں مسئلہ کیا ہے کیوں کنسلسز نہیں ہوپارہا۔

میاں عتیق: دیکھیں دو باتیں ہمیں یہاں پر نہیں بھولنی چاہیے جو ابھی آپ  نے شروع میں جو باتیں کی اس میں آپ نے خود کہا کہ 2013 کے الیکشن میں بھی ایسا ہی ہوا کہ نہ تو جو اس وقت کے جو اپوزیشن تھی جو اس وقت کے حکمران تھے انہوں نے لیڈر آف دی ہاؤس لیڈر آف دی اپوزیشن ان دونوں نے کسی ایک نام پر اتفاق نہیں کیا بعد میں جو کمیٹی کی اسٹیج آئی اس پر بھی نہیں ہوا پھر الیکشن کمیشن نے ڈیفینٹلی ایک نام تو دینا ہی دینا تھا میں یہ سمھج رہا ہوں کہ شاید اپنی ذمہ رسپونسپونسبلٹی نہیں لینا چہاتے اس اسٹیج پر جو بات ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جب وزیراعظم کہ ہم بیان کو دیکھتے ہیں ان کا یہ کہنا کہ 31 مئی تک ہم نے رات 12 بجے تک کام کرنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا ان کے مائنڈ میں یہ ہے ابھی چند دن ہیں ابھی یہ کہا جارہا ہے کل پرسو میں پھر دوبارہ ملاقات ہوگی اور شاید وہ کنکلوڈین ملاقات ہو جس میں کہا جائے اور دوسرا پھر وہی بات میں ایک بات سی ایگری کرتا ہوں کہ جو کچھ یہاں میڈیا ٹھرو سامنے لایا جاتا ہے اور اس کے بات جب جب وہ لوگوں کے نام آرہے ہیں پھر اس پر کریڑیسائز کیا جارہاہے پھر ایک پارٹی والے جو دوسروں کے نام ہیں ان میں کوئی نکائس نکال رہے ہیں تو ان باتوں میں سے مزرات کے ساتھ جو ایک قوم کے سامنے آتا ہے تو وہ یہ آتا ہے کہ شاہد آنے والے وقت میں پتا نہیں حالات کیسے بنے اور جو الیکشن ہوں۔

سوال: ایک بات آپ نے کی کہ اس لیے نہیں لے رہے وہ ذمداری لینے کے لیے تیار نہیں مطلب کیا آپ کا؟

میاں عتیق: اس سے مطلب یہ ہے کہ پھر وہ ہی ان کے ذمہ آئے گا نہ دیکھیے جو ہمارے یہاں جتنے الیکشن ہوئے اٹھاکر دیکھ لیں جب الیکشن ہوجاتے ہیں جو لوگ جیت نہیں پاتے چاہے وہ کسی لیول کے ہوں وہ اپنے طافزات لیکر ہر لیول پر آجاتے ہیں کورٹز میں چلے جاتے ہیں میڈیا پر بھیٹتے ہیں اپنے لوگوں کے سامنے بات کرتے ہیں

سوال: میرا سوال یہ تھا کہ جو نگراں وزیراعظم ہیں اس کا تو کوئی عمل دخل نہیں ہوتا نہ معاملات میں الیکشن کے معاملات میں

میاں عتیق: جنہوں نے نام ڈیسائڈ کرنا ہیں وہ بھی تھوڑا سہ اپنے ذمہ لیں اس چیز کو کہ بھی ٹھیک ہے یہ بندہ ہے۔ جہنوں نے الیکشن کرانے ہیں وہ کنڑوورشل تو نہیں ہوں گے نہ میں یہ کہہ رہا ہوں نہ ہی ان کو بنایا جانا چاہیے کنٹروورشل۔

سحر کامران: دیکھیے پہلی بات تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو انڈیپنڈنٹ ہونا چاہے۔ ابھی جو اعجاز چوہدری صاحب نے جو اپنی بات کی ہے خورشید شاہ صاحب نے یہ 6 مارچ کی خبر دیکھی ہے خورشید شاہ صاحب نے خود ٹیلی فون کیا شاہ محمود قریشی کو اور ان سے کنسلٹیشن کی اور ان سے کہا آپ نام جو ہے اس کے لیے مشاورت کے عمل میں آئے لیکن آپ کو پتا ہے کی پی ٹی آئی کا کیا رویہ ہے کہ وہ کنسلٹیشن کرنے کے بجائے وہ نام میڈیا میں پہلے سے تو خود اپنے وید آؤٹ مشاورت کے ابھی بھی میں نہیں سمھجتی پی ایم ایل این کی طرف سے کسی کنڈیڈیٹ کے کریکڑ کو کریڑسائز کیا گیا ہے پبلک میں یا پی پی کی طرف سے کنڈیڈیٹ کے کریکڑ کو کریڑسائز کیا گیا پبلک میں کیا کسی اور پارٹی کی طرف سے ہاں اگر کوئی کسی کنڈیڈیٹ کے جو بھی نام ہیں ان کو کریٹسائز کر رہی ہے تو صرف پی ٹی آئی ہے۔

اعجاز چوہدری: آپ نے بلکل چارج کردیا میں جواب دینے پر مجبور ہوں ٹیلی فون کرنا اور مشاورت کا حصہ بنانا اور تین دفعہ وزیراعظم سے مل کر چوتھی مرتبہ بات کرنا تو اس میں بڑا زمین آسمان کا فرق ہے۔ دیکھیں جس شخص کے بارے میں آپ بات کر رہی ہیں وہ شاہ محمود قریشی ہیں ان جیسا سولا جو لوگوں سے رابطہ قائم کرنے والا لوگوں کی بات سنے اور سنانے والا کوئی پاکستان سیاست نہیں ہے۔ اگر مارچ کی 3 تاریخ سے خورشید شاہ صاحب ان ریکارڈ ہیں تو آج کیا تاریخ ہے مئی کی اگر آپ 15 مئی کے بعد بات کرنا شروع کریں گے تو ہم کہہ سکتے ہیں۔

میزبان: نگراں وزیراعظم یہ نہیں کریں گے پارلیمانی کمیٹی کردے گی پارلیمانی کمیٹی نہیں کرے گی تو الیکشن کمیشن کردے گا بل آخر نگراں وزیراعظم آجائے گا لیکن دوسری جو مجھے بات کرنے ہے کہ تمام جو اس وقت پولیٹکل پارٹی ہیں جو مین اسٹریم کی پولیٹیکل پارٹیز ہیں وہ یہ سمھج کر بیٹھی ہیں جو الیکٹولنز رفوز ہونی تھی وہ ہوچکی ہیں جو الیکشن ہوں گے وہ ٹرانسپرینٹ ہوں گے بغیر کسی انفلوس کے ہوں گے بعیر کسی مس منجمنٹ یہ جو پہلے چیزیں ہوئی تھی یا ریگنگ کے حوالے سے بھی وہ تمام چیزیں جو پچھلی دفعہ جو اطرازات اٹھائے گئے تھے وہ تمام اطرازار ختم کردیں خاص طور پر کنسلز کے وزلز کی ان تمام چیزوں کی جو ہورہی تھی۔

نہال ہاشمی صاحب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ آپ ایک حکومتی پارٹی ہیں اب آپ مجھے یہ بتایئں کہ آپ سمھجتے ہیں کے اس وقت الیکشن کمیشن کے کپیبل ہے وہ انڈیپنڈینٹ ادارہ ہے مالی اتیبار سے بھی ڈیسیجن میکنگ کے اتیبار سے بھی اور اس پوزیشن میں ہے کہ بجائے کسی قسم کا پریشر نہ لیں اور صاف شفاف الیکشن کرادیں۔

نہال ہاشمی: دیکھیں میں سمھجتا ہوں رزا محمد خان ایک بثلایت شخص ہیں سپریم کورٹ کے ان کے پاس ایک وسی تجربہ ہے۔ اگر نیت ٹھیک ہو تو گورنمنٹ ان کو تمام وسائل مہیا کرتی رہی ہے ۔ میں اس لاء کمیٹی میں رہا ہوں جس میں ہم نے ان کو بلایا بھی ریکیوسٹ بھی کی ہے ۔ ایک دو بار سعید غنی بھی اس میں تھے ۔ تو میں یہ سمجھتاہوں کہ ہمارے الیکشن کمیشن میں اتنی کیپسٹی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے الیکشن کمیشن میں ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ سیکریٹری حضرات ، کچھ ڈپٹی سیکریٹری حضرات کے لیول کے لوگ پارٹی زن ہوئے ہیں ۔ کچھ لوگ عمران خان کے ساتھ ہمنوا ہوگئے  ۔ کچھ کسی اور کے ساتھ ہمنوا ہوگئے ۔ دانشور جب بننے کی کوشش کرتے ہیں الیکشن میں لوگ کوسچن کرتے ہیں ۔