نادیہ مرزا کا شیخ رشید کے ساتھ خصوصی انٹرویو

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کیے گئے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے ساتھ خصوصی انٹرویو کیا اور نگراں حکومت،  2018 کے الیکشن کے حوالے سے  بات چیت کی۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

نواز شریف صاحب نے کافی دن پہلے وارن کردیا تھا کہ سدھر جاؤ ورنہ میرے سینے میں بہت زیادہ راز ہیں میں وہ سب بتادوں گا لیکن ان کی بات کو شاید کسی نے سیرئس لیا ہی نہیں اور جس کی وجہ سے ان کو ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے آج میڈیا سے بات کی پہلے احتساب عدالت کے باہر اور اس کے بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کی صورت میں بہت ساری باتیں بتائیں اور اپنے ہی خلاف ایک چارچ شیٹ تیار کی۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ ، یہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مجھے کیوں نکالا وہ جو سوال پوچھتے رہتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا آج اسی کا جواب انھوں نے دے دیا۔

شیخ رشید: وہ ذہنی مریض ہوگیا ہے دماغ اس کا خراب ہے  ، ایک دو دن میں کسی ٹی وی شو پر کپڑے پھاڑے گا اور یہ کارگل کی بات کرے گا یہ اس ملک میں پنجابی شیخ مجیب پیدا ہوگیا ہے ، کسی را کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب کیا کریں ادارے اس کو ماریں ، دس سال سعودیہ عرب گیا تھا تو یہاں کیا کوڑ پڑ گیا تھا لوگوں کو ۔ اس بہتر ڈیولپمنٹ تھی ، بجلی تھی ، بہتر پانی تھا ، اور کہتا ہے کہ مشرف کی میں نے ایک بات نہیں مانی تو اس لیے ایک طوفان بدتمیزی میرے خلاف کھڑا کردیا گیا، ایکچوئلی نواز شریف کو فوج کو تقسیم کرنے کا فوج کےایمیج کو تباہ کرنے کا اور فوج کو اندر سے تباہ کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے اس کے پاس غیر ملکی فنڈ ہے یہ ٹرائل کرے ، نواز شریف مجھے ٹرائل کرے میں عدالت میں آن اوتھ یہ کہوں گا کہ میرے سامنے قطر اور کویت والوں نے کہا تھا ۔

یہ پیسہ کہیں نہیں چھوڑتا بے شک قبر اور قبرستان کا ہو ، بے شک انڈیا کا ہو بے شک اسامہ کا ہو ، بے شک جندال کا ہو اور اب پاکستانیوں کو اگر پاکستان کی فکر ہے تو کریں یہ تو چور مچائی شور کی رضیہ بٹ کا ناول اس نے لگادیا ہے ، میرا خیال ہے اس پاکستان کو ستر سالوں میں کسی نے اتنا سیاسی اور انٹرنیشنلی کسی نے نقصان نہیں پہنچایا جتنا نواز شریف نے پہنچایا۔  یہ محلے کونسلر نہیں بن سکتے ، پرویز رشید، مشاہد حسین ۔ یہ انٹرنیشنل ریکٹس کے ایجنٹ ہیں ، مشاہد حسین مخالف تھا ایٹمی دھماکے کا ۔ وہ کابنیٹ میں بڑے مخالفوں میں شامل تھا ۔ یہ سارے ایجنٹ لوگ ہیں جن کو انگریزی لکھنی آتی ہے ۔ یہ دل کے میلے لوگ ہیں بدبودار لوگ ہر پارٹی میں رہے ہیں ۔ نواز شریف کو ایک ہی فکر ہے کہ میری دولت نہ چلی جائے ۔ عدلیہ کے بارے میں جو وہ زبان استعمال کر رہا ہے آپ یہ دیکھیں یہ عمران خان کو لاڈلہ کہتا ہے اصل میں یہ لاڈلہ بچہ ہے جس کو فوج نے خراب کیا ہوا تھا شروع سے ۔ گل حمید صاحب آئی جی آئی کی میٹنگ میں بیٹھا کرتے تھے ، یونیفارم میں بیٹھا کرتے تھے، جنرل گل حمید آئی جی آئی کی ٹکٹوں کا فیصلہ کرتا تھا۔ مجھے خود جنرل حمید نے ٹکٹ دلایا ۔ میں آپ کو اپنی مثال دے رہا ہوں کہ میں نے گل حمید صاحب کو کہا کہ جی میرے ٹکٹ کا پھڈا ڈالا ہواہے انہوں نے تو انہوں نے کہا کہ تمھاری ٹکٹ ہے ۔ سارا خیابان ٹاؤن ، جوہر ٹاؤن بانٹ دیا ان لوگوں نے ، خریدو فروخت کرنے کے لیے ۔ ان کی بنیاد کہاں سے بنی ، سیاست دان تو تھے نہیں ، بزبس مین تھے ، گیس کا کنیکشن لگوا لیا ، بجلی کا کنیکشن لگوالیا ، ٹیکس چرا لیا، آپ دیکھیں یہ شخص اتنی بات کرتا ہے پانچ ہزار روپے مہینے کا ٹیکس دیتا تھا ، زیادہ سے زیادہ یہ بیس ہزار روپے پر گیا ہے ۔

آپ یہ دیکھیں کہ پی ٹی وی کا خاکروب نواز شریف سے زیادہ انکم ٹیکس دیتا تھا ۔ پی ٹی وی کا ایک ڈرائیور ، میں نے آن ریکارڈ ثابت کیا تھا ڈاکومنٹ سے کہ پی ٹی وی کا ڈرائیور جو ہے وہ نواز شریف سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے ۔

سوال: آپ نے ایک وقت بھی ان کے ساتھ گزارا ہے کیا یہ اپنے والدین کی اتنی نالائق اولاد تھی کہ والد نے ان کو کچھ نہیں دیا۔ کیوں کہ انھوں نے عدالت میں جو جواب جمع کرایا ہے اس میں کہہ رہے ہیں کہ یا تو والد صاحب کو پتہ ہوگا یا پھر بچوں کو پتہ ہوگا کہ پیسا کہاں سے آیا ؟

شیخ رشید: یہ بہت بھوکے ہیں ، تاش چھاتی کے ساتھ لگا کر کھیلتے ہیں ۔ آج دیکھیں کہ یہ شہباز شریف کو بھی ٹھنڈ ماریں گے۔ یہ شہباز شریف تھا جو ان کو سعودی عرب سے لیکر آیا ۔ یہ ساری اس کی پلاننگ تھی کہ جنرل بریگیڈیر ذاکر ، جنرل ندیم اور یہ سارے جب یہ تھے تو ان کے ذریعے سے پاکستان کو لیکر آئے تھے اور اب جو یہ حالات ہیں اگر اس ملک میں یہی کچھ رہے گا ۔ یہ الیکشن ہو رہے ہیں تو یہ بھی مصیبت ہوں گے اور الیکشن کا نہ ہونا بھی مصیبت ہوگی ۔ الیکشن کا انجام بھی بہت خوفناک ہوگا ۔ اور ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھا رہے ہیں ۔

سوال: لوگ تو یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب ایم کیو ایم کے قائد نے جب ایسی بات کی تھیں کہ جو غداری کے زمریں میں آتی ہیں تو آپ نے ان پر فوری پابندی لگادی تھیں آج تک ان کا نام لینا ان کی تصویر ان کا بیان سب پر پابندی ہے لیکن جب یہ باتیں اگرچیہ غداری کے زمریں میں آتی ہیں پہلے تو اس کی بھی تصدیق کردیے گا تو پھر ان کو کیوں چھوٹ دی ہوئی ہے ۔ لاڈلے یہ بنے ہوئے ہیں اس وقت؟

شیخ رشید: یہ پنجابی لیڈر ہیں، خان قیوم ایک پٹھان تھا اس نے ریلی نکالی تھی معافی مانگی تھی۔ یہ پنجابی تھا یہ سارے بھائی معافی نامہ پر دستخط کر کے گئے ہیں معافی نامے پر دس سال کے لیے ۔ خود کنگ عبداللہ مجھے کہا کرتے تھے کہ جب میں مشرف کے ساتھ گیا ، یہ مطلب پرست لوگ ہیں یہ وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں ۔ جب ان کو سزائیں ہوں گی تو ان کا کلیجہ پھٹے گا ۔ آپ انتظار کریں مہینے کا ۔ دس ، پندرہ دن کا ، ابھی ان کی حکومت ہے ۔ اس کے بعد آپ کو پتہ لگ جائے گا کلیجہ پھٹے گا اور کیسے نیاز بٹی ہے ۔

میں ایک ادارے کی بات نہیں کرتا میں خود ائیرپورٹ پر تھا ، آصف جنجوعہ نے مجھے کہا کہ بات سنو میری ۔ میں گیا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جنجوعہ کے پاس اس نے مجھے کہا کہ شیخ رشید یہ میرے فون ٹیپ کرتا ہے ۔ میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو انہوں نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں یہ فون ٹیپ کرتا ہے ۔ میں گیا آگے ذکی صاحب تھے اور احتساب کمیشن کےچئیرمین تھے میں نے اسی طرح سے کہا کہ آرمی چیف نے مجھے کہا ہے کہ آپ بلے کے ذریعے فون ٹیپ کرتے ہیں تو کہا گیا کہ کمیٹی بنادی جائے ، تین چار آدمیوں کی کمیٹی بنی میں گھر پہنچا تو ایک آدمی نے لال حویلی کے نیچے مجھے کہا کہ اپنی بھی ٹیپ سن لو، تم چیف آف آرمی اسٹاف کے بہت بڑے وکیل بنتے ہو۔

اس ملک میں جہانگیر کرامت جیسا گڈو پپو جیسا جنرل بن گیا میں نے تو زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ اتنا بیچارہ فوج کا نخرے والا ، ویل ڈریس رہنے والا ، جہانگیر کرامت کے ساتھ اس کی نہیں چلی ، راحیل کےساتھ مشرف کے ساتھ اس کی نہیں بنی۔ ضیاء الحق تھا جو اس کو لیکر آیا تھا اور اس نے کس طرح اس کو معاف کردیا ۔

فوج کو لیڈ ڈاؤن کرنے کا یہ ان کا ایجنڈا ہے ۔ یہ اپنے راستے میں فوج کو رکاوٹ سمجھتا ہے ، یہ مولویوں کو خرید سکتا ہے ، سیاست دانوں کو خرید سکتا ہے میڈیا کو خرید سکتا ہے ، ادارے کو نہیں خرید سکتا ہے ۔ حالاں کہ اس نے کوشش کی ہے جنرل بٹ کے ذریعے ، جب وہ جنرل بٹ کو لگا رہے تھے فیتے ۔ یہ تو ان کی سیاسی سوچ اور اوقات ہے یہ تو ان کی سیاسی سوچ ہے ۔ جب فوج کو پتہ ہو کہ ایک شخص کے پیٹ میں دانت ہیں اور ادارے کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے پاس کوئی آپشن بھی نہ ہو ۔ اس نے جمہوریت کو بھی لیکر چلنا ہو اور وطن کا بھی اس نے سوچنا ہو ۔ انٹرنیشنل پروپیگنڈہ کو بھی اس نے فیس کرنا ہو تو پھر اسی قسم کے واقعات ہوجاتے ہیں۔ میں اتفاق کرتا ہوں کہ مشرف کو نکالنے میں فوج کا ہاتھ تھا ۔ تو پھر نواز شریف کو کون کہے گا کہ وہ وفادار ہے ۔

سوال: فوج نے کوئی انفلیونس کیا تھا مشرف کو یہاں سے نکالنے میں؟

شیخ رشید: یقینی کیا ہوگا اگر یہ باتیں چوں کہ جب جنرل شبیر شہید ہوئے تو اس وقت مشرف کی گود میں ہی وہ اس نے دم توڑا ۔ اس لیے راحیل مشرف کا بہت خیال کرتا تھا کہ اس کے بھائی نے جو ہے دم مشرف کی جھولی میں توڑا تھا اور پھر جب  میں منسٹر تھا تو راحیل صاحب کو ملٹری سیکریٹری لگا دیا تھا مشرف صاحب نے۔ مشرف کم ظرف نہیں تھا ، ذہنی پستی کا شکار نہیں تھا۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف بنے گا میں نے زندگی میں جس کے بارے میں بھی سوچا کہ وہ چیف آف آرمی اسٹاف بنے گا وہ کبھی نہیں بنا۔ میں نے نہیں سوچا تھا راحیل کے بارے میں ۔

پاکستان کا سیاست دان اپنی پارٹی میں کسی ٹیلنٹڈ آدمی کو نہیں دیکھ سکتا ۔ بھٹو ، ممتاز بھٹو کا طعنہ دیتا تھا ‘مائی ٹیلنٹڈ کزن’  ۔ پاکستان میں ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کے نیچے نالائقی ہو ۔ جس میں ذرا بل خم ہوگا میں نے بہت سارے نوجوانوں کا ایکسٹرا ٹیلینٹڈ تھے ان کا کورٹ مارشل ہوتے دیکھا ہے فوج میں ۔ اور فوج میں نواز شریف کے خلاف نفرت کی بنیادی وجہ پڑی ڈان لیکس سے ہے ۔

سوال: رؤف کلاسرا صاحب کی اسٹوری تھی اس میں وہ بتا رہے تھے کہ جنرل راحیل شریف کیوں کہ ایکسٹینشن چاہتے تھے ۔ انہوں نے مریم نواز صاحبہ کو ٹیلیفون کر کے خود سے کہا تھا کہ ہم نے آپ کا نام ڈان لیکس سے نکال دیا۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟ ہوا ہوگا؟

شیخ رشید: رؤف کلاسرا بڑا صحافی ہے کوڈ کرسکتا ہے ،  میں آپ کو بتاؤں ہمیشہ ان لوگوں نے یہ کوشش کی کہ ایسے بندے کو لگائیں جو ان کا تابع دار ہو ، تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر چیف آف آرمی اسٹاف اپنے ادارے کے ساتھ چلا ہے۔ سیاست دانوں کے ساتھ نہیں چلا ، میں نے ایسے بھی وقت دیکھے ہیں یہ جو ایک پرائم منسٹر آیا تھا معین خان ، سرتاج عزیز اس طرح فون کر رہا تھا کہ سر آپ کے کمر کا ناپ تو وہی ہوگا ۔ میں نے جنرل مجید ملک کو پکڑ لیا کہ کوئی زنانی لارہے ہو؟ انھوں نے کہا نہیں نہیں ۔ بیروت میں اس کو فون کر رہے ہیں ۔

رؤف کلاسرا بہت وزنی قسم کا جرنلسٹ ہے میں رحیل جیسے جنرل سے یہ ایکسپیکٹ تو نہیں کر رہا اگر اس نے ایسا کیا تو برا کیا۔ اس کی جو لاہور کی زمین کا مسئلہ ہوا وہ بھی ایسا نہیں تھا لوگوں نے اس پر بھی انگلیاں اٹھائیں۔

سوال: دھرنے کے دوران ان کو فون آیا بلکہ ایک میسج آیا  انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا کہ یا تو آپ مستعفی ہوجائیں یا طویل رخصت پر چلے جائیں ۔ میرا خیال ہے کہ ان کا اشارہ اسی طرف ہے جو مشاہداللہ صاحب نے انٹرویو دیا تھا بی بی سی کو جس پر مشاہداللہ کو نکال باہر بھی کیا تھا ۔ تو یہ کہانی آپ کو کیا لگتی ہے؟

شیخ رشید: کوئی نہ کوئی وجہ ہوگی اگر ایسی بات کی ہے میرے خیال ہے اداروں کو بولنا چاہیے  ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کو اس کا جواب دینا چاہیے ۔ میں جنرل آصف غفور کو کہوں گا کہ وہ اس ساری صورتحال پر بریفنگ دیں ۔ یہ براہ راست فوج پر ایک الزام کی بوچھاڑ ہے  اس کو کلئیر کریں کیوں کہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ ہوتا تو اس کے لیے ہم اکیلے ہی کافی ہیں لیکن یہ ٹیکنیکل چیز میں ہوا ہے اور اس قسم کی باتیں۔ جب میں منسٹر تھا تو نواز شریف نے پرائم منسٹر ہاوس میں جتنے فون لگائے ہوئے تھے اس کے نیچے اس نے ریکارڈنگ کا سسٹم بھی لگایا ہوا تھا ۔ الگ سے ، جاسوسی کے نظام کا اس کو بڑا شوق ہے ۔ اور پرائم منسٹر ہاؤس میں ویسے بھی ٹیپنگ ہوتی ہوگی ظاہر ہے لیکن اس نے اپنا پرائیوٹ ٹیپنگ سسٹم بھی رکھا ہوا تھا ، کہ جس کی گفتگو کو وہ ٹیپ کرنا چاہتا تھا ۔ وہ بٹن دباکر کرلیتا تھا۔ تو جنرل آصف غفور کو اس ساری صورتحال پر پریس کانفرنس کرنی چاہیے اور یہ باتیں واضح کرنی چاہیں۔ مجھے تو الیکشن کی فکر لگی ہوئی ہے ۔ یہ دفتر لیکر بیٹھ گئے ہیں الیکشن کیمپئن شروع کرنے جارہے ہیں ۔ یہ تو پاگل ہوا ہے کپڑے پھاڑ کر کسی دن الزام لگا دیگا میرے ساتھ یہ ہوا ہے۔

سوال: ان کے لفٹ پر پرویز رشید صاحب بیٹھے تھے اوررائٹ پر بیٹھے تھے مشاہد حسین سید صاحب، جب یہ مشرف صاحب کے خلاف بات کر رہے تھے اور وہ بھول گئے تھے کہ رائٹ پر بیٹھا شخص ان ہی کا ہے۔ اور نہ ان کو لحاظ ہو رہا تھا کہ میں جس شخص کے ساتھ بیٹھا ہوا ہو اور جس کے بارے میں وہ بات کر رہا ہے کہ میرے خلاف سازش ہوگئی ۔ اس سازش میں یا تو وہ خود شریک رہا ہو۔

شیخ رشید: میں نے بڑے بڑے بے شرم دیکھے ہیں مشاہداللہ جیسا بے شرم دیکھا ہے۔ کیوں کہ یہ ابھی بھی جنرل باجوہ پر بھی کام کر رہا تھا۔ اس کو اسمبلی میں لیکر آنے والا یہ ہے  ۔ سب سے زیادہ ایٹومک کی جس نے مخالفت کی تھی اس کا نام مشاہد حسین ہے ۔ اتنا بڑا جھوٹ نواز شریف نے آج بولا ہے ۔ یہ ان لوگوں میں سے تھے جن پر ایکسٹیشن لگ جائیں گی۔ راجہ ظفرالحق میرا علاقائی مخالف ہے ۔ ہم آپس میں مخالف ہیں ساری دنیا کو پتہ ہے لیکن راجہ ظفرالحق نے ڈٹ کر کام کیا ہے ۔ سب سے زیادہ جس کا گندا رول تھا وہ مشاہد حسین تھا ۔

سوال: کہیں یہ بات بھی ہو رہی تھی کہ نواز شریف نہیں چاہتے تھے دھماکہ کرنا ۔ عالمی پریشر تھا۔ ان کی وول تھی اتنی؟

شیخ رشید: یہ کہتے ہیں کہ پانچ بلین ڈالر کی مجھ آفر آئی تھی۔ پانچ بلین امریکا اس طرح دیگا کہ تم دھماکہ نہ کرو۔ میں منسٹر تھا مجھے سب سے زیادہ فکر تھی ۔ مسلم اخبار میں دیکھیں ان کی فوٹو لگی تھی ۔ جب میں نے کراچی پورٹ کو کلئیر کیا تو نارتھ کوریا سے کوئی معاملات مسائل تھے ۔ امریکن سیٹلائیٹ نے فوٹو نہیں لینی تھی۔

سوال: نواز شریف آج کہہ رہے تھے کہ جیسے ہی میں نے سنا میں نے فورا جہانگیر کرامت کو انسٹرکشن دیں کہ آپ تیاری کریں۔

شیخ رشید : سب جھوٹ مجھے یہ ساتھ لے گیا فوجی جرنیلز کی میٹنگ میں فوجی ڈیفنس کی میٹنگ میں ۔ فوجی ڈیفنس والے چاہتے تھے کہ یہ فیصلہ کریں اور یہ چاہتے تھے وہ فیصلہ کریں ۔ فوجی ڈیفنس والوں نے اسپیکرز کو بند کر کے کہا کہ اب آپ بات کریں کیبنیٹ میں ساری ذندگی راجہ ظفرالحق اور شیخ رشید کی تقریر یاد رکھی جائے گی ۔ راجہ ظفر الحق کا نام پہلے اس لیے پہلے لے رہا ہوں کہ میں اس کا سیاسی مخالف ہوں ۔ ورنہ یہ لیٹے ہوئے بزدل لوگ ہیں ۔ ان کو کیا پتہ میں نے کہا کہ اس سے بڑا چانس کوئی نہیں ہے انڈیا نے آپ کو دے دیا ہے ۔

سوال: فائنل فیصلہ کس کا تھا؟

شیخ رشید: وہ پرائم منسٹر تھے اسی نے کرنا تھا ۔ لیکن سرتاج عزیز سے زیادہ بزدل انسان میں نے کوئی نہیں دیکھا وہ ویمن یونیورسٹی میں کہہ رہا تھا ۔ یہ بزدل کی عادتیں ہوتی ہیں ،۔ یہ نواز شریف کبھی بھی اتنا بہادر نہیں رہا اس کو ای سی سی کا ٹیکا لگا ہے ۔

شیخ رشید: شہباز شریف ان کے سامنے کبھی نہیں کھڑا ہوگا اس کی سیاست کیا ہے ۔ وہ مریم سے ڈرے گا ۔ اس کی کوئی سیاست نہیں ہے ۔ اس نے بہت مال بنایا ہے ، خام مال ہے ۔ ایک ادارے کے میڈیا کے مالک نے مجھے کہا کہ شیخ رشید میرا ہی نام لیتا ہے اصل الزامات تو شہباز شریف پر ہیں نندی پور پر ہے ، سولر اس پرہے، قائد اعظم اس پر ہے ، ساہیوال اس پر ہے ، ملتان اس پر ہے اور سب سے بڑا ماڈل ٹاؤن اس پر ہے اور حدیبیہ پیپر مل اس پر ہے ۔ اور اس ملک کا پرائم منسٹر ، دس ، پندرہ دن رہ گئے ہیں ، ایل این جی کا کیس ایسا کھلے گا کہ یہ یاد رکھے گا۔ میں نے بڑی محنت کی ہے اس کیس پر ۔ نواز شریف کے بعد جو پہلی باری لگے گی وہ شاہد خاقان کی لگے گی ۔ اس لیے نواز شریف کے ساتھ خاقان کھڑا ہے اس کو پتہ ہے میں نے جیل جانا ہے ایل این جی میں دو سو ارب روپے کی کرپشن ہے۔

سوال: اگر یہ احتساب ہے تو نواز شریف صاحب ہی کیوں؟ آصف علی زرداری ، سندھ گورنمنٹ ، فریال تالپور، عزیر بلوچ ، ٹپی وہ نعرہ کدھر گیا کہ پہلے حساب پھر انتخابات؟

شیخ رشید: اتنی کرپشن ہے کہ ایک ہزار احتساب کے چئیرمین ہو تو شاید اس کا کوئی حل نکل سکے ۔ ایک چئیرمین جسٹس عباسی سے ، نیب سے یہ احتساب بڑا مشکل ہے ۔ یہ سارا معاشرہ ہی چور ہے ۔ انویسٹ بکتے نہیں ہیں جب تک بکتے ہیں دو ، تین مہینے ہوجاتے ہیں م، بریک تھرو نہیں ہوتا ۔ اس  ملک کی بدنصیبی ہے کہ چوریاں اتنی سنگین ہیں کہ قوم کو سمجھ نہیں آتی کہ سارا پاکستان قرضوں میں ہے ۔ قوم کو دینا پڑتا ہے جو یہ لوٹ مار کر رہے ہیں ۔

اس ملک کے مسائل اتنے سیریس ہیں کہ اگر بڑی مچھلیوں پر ہاتھ نہیں ڈلا تو یہ مچھلیاں ساری ، سارے چور سارے تالا ب ۔ سارے گندے تالات اکھٹے ہوسکتے ہیں ایک دن ۔

سوال: آپ کیا دیکھ رہے ہیں انتخابات یا احتساب؟

شیخ رشید : میں تو انتخابات اور احتساب دونوں کو ہی دیکھ رہا ہوں۔ احتساب کو رکنا نہیں چاہیے ۔ میری خواہش ہے کہ کوئی ایسی بہادر قسم کی شخصیت اور پرسنالیٹی ہو جب تک یہ پیسے واپس نہ لائیں لوٹے ہوئے ۔ مجھے کیا دلچسپی ہے اگر نواز شریف جیل ہوجاتا ہے ۔ یہ سیاست دان جیلوں سے اولاد پیدا کرتے ہیں کسی اور قیدی کو سہولت ہے کہ وہ جیل سے اولاد پیدا کرے ۔ پاکستان کے نامور لوگوں نے جیلوں سے اولادیں پیدا کی ہیں ۔ کسی عام قیدی کو جرات ہے کہ وہ اس قسم کے مسئلوں سے گزرے اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں ۔ اگر ان کو لوٹی ہوئی دولت واپس لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا تو میں سمجھتاہوں بہت بڑی بد دیانتی ہے ۔

سوال: نگراں وزیر اعظم کا نام فائنل نہیں ہو رہا ہے ۔ 2013 میں بھی یہی صورتحال تھی ۔ بات کرتے ہیں جمہوریت کے حسن کے پارلیمنٹ کی اہمیت کی اس پر اتفاق نہیں ہورہا ۔

شیخ رشید: ہم چور ہیں سوچتے ہیں یہ کام ہوگیا تو ہمارا لمبا کام نہ ہوجائے ۔ ہر آدمی کو پاکستان میں اپنی اولاد ہی پسند ہے اپنا بے بی ہی پسند ہے ۔ اس ملک میں جو جتنا بڑا مالیشیا ہے ، جتنا بڑا چاپلوس ہے وہ اتنا بڑا آدمی ہے ۔  اس کا کیا حل ہے ۔ میراثی ہیں ہم ، ہم دیکھتے ہیں کہ صاحب کس طرح خوش ہوتا ہے ۔ اور صاحب کو بھی وہ آدمی پسند ہے جو اس کی نشاندہی نہ کرے اور کہے کہ جناب عالی آپ نے کمال کردیا۔ یہ سارے کینڈیڈیٹ اپنی لابیاں کر رہے ہیں۔

سوال: مراد علی شاہ کا اسٹیٹمنٹ آپ کی  نظر سے بھی گزرا ہوگا جس میں انھوں نے کہا کہ لعنت ہو ان کے اوپر جو سندھ میں صوبے کی بات کرتے ہیں؟

شیخ رشید: لعنت ہو ان پر بھی جو دو نمبر لوگ خانہ نمبر ایک میں آجاتے ہیں ۔ اس ملک کا نظام سیاسی بدلنے کے لائق ہے ۔ غریب آدمی صرف ووٹ دینے کے لیے پیدا ہوا ہے ۔ پوسٹر لگانے اور نعرے لگانے کے لیے پیدا ہوا ہے ۔ مسائل زدہ لوگ جب تک اس نظام میں اسمبلیوں میں نہیں آئیں گے لوگوں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سب الیکشن کی حدتک ، اگلے الیکشن کا انتظار۔

سوال: آپ کو لگتا ہے سندھ میں مزید صوبے بننے چاہیں؟

شیخ رشید: ضرور بننے چاہیں۔ اس میں کیا حرج ہے ۔